Type to search

تجزیہ

کورونا کو یہودی سازش قرار دینے والو، یہودی خود بڑے پریشان ہیں!

  • 4
    Shares

پاکستان میں کہیں تفتان بارڈر سے وطن واپس آنے والے اہل تشیع زائرین پر کورونا وائرس لانے کا الزام لگایا جاتا ہے تو کہیں اسے چین کی کارستانی قرار دیا جا رہا ہے۔ شیعہ مبلغ جوّاد نقوی کے مطابق دنیا کے امیر ترین آدمی نے برطانیہ میں یہ کورونا وائرس بنا کر ایران بھیجا تو بہت سے لوگوں کے خیال میں اس کی تخلیق امریکہ کی کسی لیبارٹری میں ہوئی ہے۔ ایک طرف تو یہ لوگ ہیں جو کورونا وائرس کی تخلیق سے متعلق الٹے سیدھے قصے گھڑ رہے ہیں تو دوسری طرف وہ صاحبان ہیں جو اس کے علاج سے متعلق من گھڑت کہانیاں عوام میں عام کر رہے ہیں۔ مثلاً کوئی کہہ رہا ہے کہ کلوروکوئن کلونجی سے بنتی ہے جب کہ کسی کے نزدیک کسی اور پھکی میں اس کا علاج ہے۔

لیکن پاکستان وہ واحد ملک نہیں کہ جہاں کورونا وائرس کے بنانے اور اس کو مٹانے کے حوالے سے سازشی تھیوریاں زبان زدِ عام ہیں۔ ایران میں کئی ماہ تک کورونا وائرس کی حقیقت کا ہی انکار کیا جاتا رہا۔ پھر کچھ حضرات نے کہا کہ ہم مزاروں پر جا کر اس کا علاج کر لیں گے۔ کچھ کے نزدیک اسے امریکہ نے وہاں پہنچایا تھا تو کوئی اس کا شکار ہونے کو اپنے لئے سعادت قرار دے رہا تھا۔

بھارت میں گاؤ موتر اور فضلے میں اس کا علاج دریافت کیا جا رہا ہے تو امریکہ میں پادری حضرات اسے خدا کا عذاب بھی قرار دے رہے ہیں اور چین کی سوچی سمجھی سازش بھی۔

لیکن تقریباً تمام دنیا ہی میں یہودی سازش سب سے زیادہ مقبول سازشی تھیوری ہے۔ لیکن دوسری طرف خود اسرائیل کا کیا حال ہے، یہ بھی جان لیجئے۔

مارچ 30 کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک معاون کو کورونا ہونے کے باعث خود کو الگ تھلگ یعنی self-isolate کر لیا تھا۔ بعد ازاں وہ قرنطینہ سے باہر آ گئے لیکن یکم اپریل کو ان کے وزیر صحت کو بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی اور نیتن یاہو نے خود کو دوبارہ isolate کر لیا۔ ان کے ارد گرد شدید قسم کے بنیاد پرست یہودیوں کی بھرمار ہے۔

اسرائیل کا شہر بنی براک بھی راسخ العقیدہ افراد کا گڑھ ہے جو رقبہ کے لحاظ سے نویں نمبر پر ہے جب کہ کورونا کیسز رپورٹ ہونے کے لحاظ سے ملک میں دوسرے نمبر پر ہے۔

یروشلم کے شدید بنیاد پرست علاقوں میں بھی ارد گرد کی آبادیوں کی نسبت زیادہ وبا پھیلی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں میں آبادی بڑھانے پر سارا زور ہے اور چھوٹے چھوٹے مکانوں میں کئی کئی افراد پر مشتمل کنبے رہ رہے ہیں۔

کئی ہفتوں سے اسرائیل کے زیادہ تر علاقوں میں حکومت کے حکم پر میل جول سے دوری اختیار کی جا چکی ہے لیکن مذہبی افراد کی زندگیاں معمول کے مطابق چلتی رہیں۔

12 مارچ کو تمام تعلیمی ادارے بند ہو گئے مگر بنیاد پرستوں کے مدرسوں میں تورات اور تلمود کی تعلیمات چلتی رہیں۔ عبادت گاہوں میں اجتماعات ہوتے رہے اس سے قطع نظر کہ یہ جگہ وبا کا گڑھ تھی۔

صرف مارچ کے آخر میں‌ مذہبی راہنماؤں نے، جن کا یہ نظریہ تھا کہ تورات انہیں بچائے گی، آخرکار اپنے پیروکاروں کو اجتماعی صورت میں عبادت کرنے سے روک دیا۔ یاد رہے کہ پاکستان میں اپریل کے پہلے ہفتے تک کچھ مساجد میں جمعہ کی نماز پڑھی گئی ہے اور قصبوں دیہاتوں کا تو یہاں شمار نہیں کیا جا سکتا لیکن اسلام آباد شہر میں لال مسجد میں بھی نماز ادا کی گئی اور کراچی کے بھی کئی علاقوں میں باجماعت نماز ادا کی گئی۔

اسرائیل میں اور بھی بہت سے عوامل ہیں جنہوں نے معاملات مزید خراب کیے۔ مثال کے طور پر یہودیوں کے مذہبی پیشواؤں نے اپنے پیروکاروں کو ٹیلی وژن اور ریڈیو سننے سے منع کر رکھا ہے۔ یہ موبائل رکھ سکتے ہیں لیکن انہیں انٹرنیٹ اور میسجز کی ایپلیکیشنز تک رسائی کی اجازت نہیں۔

اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہاں طبی معلومات دیر سے پہنچیں۔ بہت سے لوگ حکومت کی جانب سے بھیجے گئے کورونا وبا کے متعلق پیغامات وصول کرنے میں ناکام رہے۔ ان کا رجحان خاندان کو بڑھانے کی طرف ہے اور یہ بڑے خاندان اکثر تنگ کوارٹرز میں رہتے ہیں۔وزیراعظم نیتن یاہو جو ان دائیں بازو کے بنیاد پرستوں کی حمایت سے اقتدار میں آتے ہیں، عبادتگاہوں کو بند کرنے پر تذبذب کا شکار تھے۔ پولیس اسی وقت ان علاقوں میں گئی جب مذہبی پیشواؤں نے باجماعت عبادات پر خود پابندی لگائی۔دہائیوں تک اس طبقے کو اپنے معاملات حکومت کی فنڈنگ سے خود چلانے کی چھوٹ حاصل ہے۔ یہ اسرائیلی فوج کے عاشق بھی ہیں اور فوج میں بھی ان کے لئے ہمدردی پائی جاتی ہے۔

برطانوی جریدے The Economist میں شائع ہونے والی یہ رپورٹ دو باتیں ثابت کر رہی ہے۔ایک تو یہ کہ اسرائیلی یہودی بھی اس کورونا وائرس سے اتنے ہی تنگ ہیں جتنے وہ لوگ جو اسے اسرائیلی سازش قرار دے رہے ہیں۔ ویسے ہی جیسے جواد نقوی کے نزدیک یہ وائرس برطانیہ میں بنایا گیا لیکن برطانیہ کے وزیر اعظم اس وقت خود ICU میں ہیں۔

دوسری بات یہ ثابت ہوتی ہے کہ سائنسی معاملات میں زبردستی مذہب کو گھسیٹنے کا ہمیشہ نقصان ہی ہوتا ہے۔ چاہے وہ پاکستان اور ایران کے بنیاد پرست مولوی ہوں، امریکہ اور برطانیہ کے پادری، بھارت کے ہندتوا وادی برہمن ہوں یا پھر اسرائیلی ربّی۔ عوام سے دست بستہ التماس ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی تجاویز پر عمل کریں۔ وٹس ایپ پر بھیجی گئی افواہوں پر کان نہ دھریں۔ بار بار ہاتھ دھوتے رہیں، خود کو اور اپنے رہنے کی جگہ کو صاف ستھرا رکھیں۔ طبیعت زیادہ خراب ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *