Type to search

جرم خبریں قومی میڈیا

صحافی عزیز میمن قتل کیس: دوبارہ پوسٹ مارٹم پر مقتول کے ہاتھوں کی انگلیوں سے کسی اور کا ڈی این اے برآمد، قتل پر پردہ ڈالنے کی کوشش ناکام

صحافی عزیز میمن قتل کیس پر پردہ ڈالنے کی کوشش ناکام، جے آئی ٹی کی سربراہی میں دوبارہ پوسٹ مارٹم کراونے پر اہم انکشافات، مقتول کے ہاتھوں کی انگلیوں سے کسی اور کا ڈی این اے برآمد ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق عزیز میمن قتل کیس کی جے آئی ٹی کی سربراہی میں مقتول صحافی کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کروایا گیا۔ نئی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں صحافی عزیز میمن کا قتل ہونے کے واضح شواہد ملے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق شہید صحافی عزیز میمن کے ہاتھوں کی انگلیوں سے کسی اور کا ڈی این اے برآمد ہوا ہے، مزید تحقیقات کے لئے نئے ملنے والے ڈی این اے پر میڈیکل بورڈ نے کام شروع کر دیا۔

واضح رہے کہ پی ایف یو جے اور مقتول صحافی کے ورثا کی اپیل پر جے آئی ٹی نے دوبارہ پوسٹ مارٹم کرایا تھا۔ 15 مارچ کو صحافی عزیز میمن کی قبرکشائی پی ایم سی کے ایم ایس کی قیادت میں 3 رکنی ٹیم نے کی تھی۔ اس موقع پر سیکریٹری صحت سندھ، رجسٹرار ہائیکورٹ، ڈسٹرکٹ سیشن جج، جوڈیشل مجسٹریٹ کنڈیارو کےعلاوہ جے آئی ٹی کے ارکان بھی موجود تھے۔

عزیز میمن کی پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بھی صحافی کی موت کو قتل قرار دیا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ ڈاکٹر تحسین میمن اور ڈاکٹر زاہد شیخ کے دستخط سے جاری ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ عزیز میمن کی موت طبعی نہیں ہوئی بلکہ ان کا زندہ حالت میں سانس بند کیا گیا، جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔

دوسری جانب سندھ پولیس نے صحافی کی موت کو طبعی قرار دیا تھا جس کے بعد لواحقین نے تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ بعد ازاں سندھ حکومت نے اس کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جو اب اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔

عزیر میمن کی پراسرار موت

واضح رہے کہ سندھی نیوز چینل ’کے ٹی این‘ اور اخبار ’کاوش‘ سے وابستہ سینئر صحافی عزیز میمن کی لاش 16 فروری کی سہ پہر نوشہرو فیروز کے نواحی شہر محراب پور کی ایک نہر سے برآمد ہوئی تھی۔ عزیز میمن کے بھائی حافظ میمن نے مقامی میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کے بھائی صبح اپنے کیمرا مین اویس قریشی کے ساتھ محراب پور کے قریبی گاؤں میں رپورٹنگ کا کہہ کر گھر سے نکلے تھے تاہم سہ پہر کو ان کی لاش کی اطلاع ملی۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ عزیز میمن کے گلے میں الیکٹرک تار تھی تاہم فوری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ ان کی ہلاکت کیسے ہوئی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *