Type to search

خبریں سیاست

تحریک انصاف کی چند شخصیات کی ایما پر جہانگیر ترین کے خلاف نکالی گئی خفیہ ٹیپ شہباز شریف کے ہاتھ لگ چکی ہے

جب سے آٹا چینی بحران رپورٹ سامنے آئی ہے پاکستانی سیاست میں ہلچل ہے۔ ہر طرف کچھ ہوگیا کچھ ہونے والا ہے اور کب کیا ہوا تھا کی گردان جاری ہے۔ ایسے میں اس سکینڈل کے سیاسی شور شرابے میں ملک کے معروف صحافی  عارف حمید بھٹی نے بھی اپنا حصہ ڈالا ہے اور جہانگیر ترین کا شوگر سکینڈل میں نام آنے کی وجہ بتاتے ہوئے بڑا انکشاف کردیا ہے۔

عارف حمید بھٹی کا ایک پروگرام میں کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کے خلاف موجودہ سیاسی بھونچال اصل میں انکی پارٹی کے اندر کی لڑائی کا نتیجہ ہے۔ انکا کہنا تھا کہ خفیہ ایجنسی کے ذریعئے اسلام آباد کے مہنگے ہوٹل میں جاری میٹنگ میں ایک کیسیٹ بھجوائی گئی جو کہ جہانگیر ترین کےخلاف  تھی تاہم یہ ٹیمپرڈ تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی اس وقت کی ہے جب جہانگیر ترین کا سپریم کورٹ میں کیس تھا اسلام آباد کے مہنگے ترین ہوٹل میں جہانگیر ترین کے خلاف کاغذ اکھٹے کرائے گئے، ایک لندن کے بہت بڑے انویسٹر ہیں لندن کے کون ان کے پاس جاتا رہا کس کو کیا تحفے دیتے رہے کہیں گے تو میں یاد بھی کروادوں گا، ہلٹن کے پندرہویں فلور پر کون رہتا رہا کتنے کا کھانا کھاتا رہا یہ لڑائی اس وقت کی ہے۔ یہ آپس کا سیاسی جھگڑا ہے اس میں کسی قسم کا شوگر کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جہانگیر ترین، عمران خان، اسد عمر، شاہ محمود قریشی  اور علی زیدی  کے درمیان بہت زیادہ اختلافات ہیں۔ اسی لئے جب اسد عمر کو گھر بھجوایا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے جہانگیر ترین نے بھجوایا ہے۔ 

عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا کہ اس حوالے سے ایک مہینہ پہلے بہت خوفناک میٹنگ ہوئی۔ اس میٹنگ میں آئی بی کے ذریعے ایک کیسٹ بھجوائی گئی۔ وہ کیسٹ ٹمپرڈ تھی اور وہ شہباز شریف کے پاس بھی ہے۔ اب اچانک لوگوں کے طوطے اڑیں گے یہ سن کر۔

یاد رہے کہ کئی تجزیہ کار کہہ چکے ہیں کہ شوگر مل مالکان کی جانب سے سبسڈی لینے والوں کا کوئی جرم نہیں بنتا یہ ایک آئینی و قانونی عمل ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *