Type to search

سماج فیچر کلچر نوجوان

دوستی کے پیمانہ میں تم اور میں کون!

دوستی کے بارے میں آپ سب کو بہت سارے افسانے، غزل، نظمیں، اشعار، لطیفے، مضامین اور ناول وغیرہ وغیرہ  پڑھنے اور سننے کے لئے ملیں گے۔
لیکن مجھے یقین ہے کہ آپ سب کو اظہار کے خط کا ایک جملہ نہ کہیں افسانوں میں، نہ کہیں غزلوں میں، نہ نظموں میں، نہ لطیفوں میں، نہ شاعری میں حتی کہ سقراط،  پلیٹو اور ارسطو کے کسی  فلسفوں میں بھی نہیں ملے گے۔
"ہم نے آپ کو جان بوجھ کر چھوڑا تھا” یہ جملہ خط کے ذریعے میرے ایک دوست اظہار نے میرے دوسرے دوست بلال کے لئے لکھا تھا۔ خط تقریبا چار سے پانچ جملوں پر محیط تھا۔ جس میں انہوں نے اسامہ کا نام بھی شامل کیا تھا۔ شاعر اپنے دوست کے بارے میں کہتا ہے۔
‏دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے
نام   آۓ   گا   تمھارا   یہ   کہانی   پھر   سہی
اسامہ کے لئے یہ شعر شاید کافی نہیں ہوگا۔ اس لئے اسامہ کے لئے اسی شاعر کا دوسرا شعر لکھتا ہوں۔
نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں
ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی
ایک وجہ اظہار میں ہے کہ اگر دوستی میں اس کے ساتھ کچھ بھی ہوجائے۔ چاہے کچھ ہوجانا دل پر کیوں نہ لیں لیکن اس کے بعد بھی وہ دوستی کو نبھانا خوب جانتا ہے۔ دوستی نبھانا کا ہنر ابھی تک میں نے نہیں سیکھا ہے مگر کوشش کرتا ہوں کہ وقت کے ساتھ ساتھ اظہار سے کچھ نہ کچھ تو سیکھ لوں۔
فلاسفی کے کتابوں میں یہ قول ” ہم نے آپ کو جان بوجھ کر چھوڑا تھا” اظہار کے نام سے تو مشہور ہی ہوگا لیکن میں اسی دوستی نبھانا کے ہنر پر اپنے شعر کے ذریعے سے ایڈوانس میں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
ہاں  تم   تو  دوستی  کو   نبھانا   خوب   جانتے   ہو
کس کے ساتھ کیا کرنا یہ ہنر کوئی تم سے سیکھ لے
بلال جو اپنی عادت (ماشاءاللہ) کہنے سے مشہور بھی اور مجبور بھی ہیں۔ ایک دفعہ اپنی بات کہہ دے تو ماشاءاللہ میرا بھائی اس سے پیچھے نہیں ہٹے گا چاہے سامنے والا استاد ہی کیوں نہ ہو اور اپنے بات کو سو فیصد درست ثابت کرنے کے لئے ہزاروں دلائل ان کے جیبوں میں ہوتے ہیں۔
اسامہ میرا وہ دوست ہے جو یونیورسٹی میں سب سے پہلا میرا دوست بنا اور ابھی تک ہے جس کے بعد اظہار اور پھر بلال اور آہستہ آہستہ ہم چاروں ہی آپس میں دوست بن گئے۔ اسامہ دیکھنے میں سمارٹ اور شریف لگتا ہے لیکن جو منصوبے وہ کسی بھی (ہم چاروں دوستوں میں سے) کے لئے تیار کرتا ہے تو شیطان اس کا ساتھ خوب دیتا ہے۔ 
اسامہ کے %99 فیصد منصوبے ایسے کامیاب ہوتے ہیں جیسے ساس اور بہو کے منصوبے کامیاب ہوتے ہیں۔ لیکن ساس اور بہو تو ایک دوسرے کو کم اور اونچا دکھانے کے لئے منصوبے بناتے ہیں۔ شکر ہے اسامہ نے ابھی تک کوئی ایسا سوچا نہیں ہے۔ وہ سارے منصوبے ہم چاروں کے دوستی میں رونق بڑھانے کے لئے کرتے ہیں۔
شاعر دوستوں کے حوالے سے لکھتا ہے میرے خیال سے خاص کر وہ کوئی ایک کی طرف اشارہ کرتے ہے۔
انگلی پہ گن رہا ہوں سبھی دوستوں کے نام
لیکن تمہارے نام پہ  ‘ہم’  گن  رہا  ہوں  میں
شاعر کے ساتھ تو کوئی اور معاملہ ہوگا اس لئے وہ یہ منافقانہ حرکت کرتا ہے کہ ایک دوست کا نام ‘ہم’ کہہ کر گن رہا ہے۔
لیکن میں یہ منافقانہ حرکت نہیں کرسکتا ہوں اس لئے میں آپ تینوں کے لئے ‘ہم’ استعمال کر سبھی دوستوں کے نام انگلی پہ گن رہا ہوں۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ دوستی کے پیمانے میں تم اور میں کون۔
Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *