Type to search

انسانی حقوق تعلیم خبریں

’اپنے والد کو مدد کے لئے پکارتی رہی لیکن وہ نہیں رکا‘: پاکستانی مدرسوں میں بچوں سے جنسی زیادتی پر رپورٹ

Child Rape In Pakistani madrassas

خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ بہت دھیان اور آہستہ آہستہ اپنا نام لکھنے والا پاک پتن کا گیارہ سالہ مہیمن ڈاکٹر بننا چاہتا تھا مگر اب اسے درسگاہ سے خوف آتا ہے۔ رواں سال کے آغاز میں، پاک پتن کی جس درسگاہ میں مہیمن زیر تعلیم تھا، وہاں مدرسے کے استاد نے بیت الخلا میں مہیمن کے ساتھ زیادتی کی کوشش کی۔ مہیمن کی آنٹی شازیہ جنہوں نے اپنا پورا نام ظاہر نہیں کیا کے مطابق، چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی پاکستان کی دینی درسگاہوں کا معمول ہے۔ شازیہ کا کہنا تھا کہ استاد معید شاہ لڑکیوں سے قمیص اتارنے کا کہا کرتا تھا اور وہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے کا عادی ہے۔ شازیہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ معید شاہ کو اپنے بچپن سے جانتی ہے۔

شازیہ کے مطابق معید نے لڑکوں کے ساتھ ساتھ دو تین لڑکیوں کو بھی اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور ایک لڑکی پر اس قدر جنسی طور پر تشدد کیا کہ اس کی کمر ٹوٹ گئی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی تحقیقات کے مطابق، پاکستان بھر میں ایسی کئی ایف آئی آرز درج ہیں جن میں جسمانی اور جنسی ہراسانی کے ساتھ ساتھ مدارس میں پڑھانے والے اساتذہ پر ریپ کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ عموماً ان درسگاہوں میں غریب گھروں کے بچے زیر تعلیم تھے۔

ہراسانی اور ریپ کی ایف آئی آرز کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حکام، فیملیز اور متاثرہ لوگوں کے ساتھ انٹرویوز میں بھی کئی ایک واقعات سامنے آئے ہیں۔ مبینہ طور پرمتاثرہونے والوں نے اپنا پورا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اپنی کہانیاں شیئر کیں۔

پاکستان میں تقریباً 22 ہزار سے زائد مدارس رجسٹرڈ ہیں جہاں قریب 20 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ لیکن پاکستان میں کئی غیر رجسٹرڈ مدارس بھی ہیں جنہیں عام طور پر مقامی مولوی چلاتے ہیں اور عموماً مفت رہائش اور کھانا بھی مہیا کیا جاتا ہے۔

مدارس کی کوئی ایسی سینٹرل باڈی یا اتھارٹی نہیں جس کے زیر انتظام مدارس اپنا کام کریں یا جس کے تحت جنسی ہراسانی یا دیگر شکایات کی صورت میں کوئی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ جیسے کیتھولک چرچ کو ویٹیکن سٹی کی ہدایات کے مطابق چلنا ہوتا ہے۔

عمران خان نے اپنی حکومت میں یہ عزم اور وعدہ تو بہر حال کیا تھا کہ مدارس کے نصاب اور معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ان کا احتساب بھی بہتر کیا جائے گا تاہم اس معاملے میں کوئی پیشرفت تاحال نہیں دکھائی گئی۔

پولیس کے مطابق مدارس میں طلبہ کا ہراساں کیا جانا بہت عام ہے اور پولیس کے پاس درج ہوئی ایف آئی آرز محض آٹے میں نمک کے برابر ہیں جب کہ واقعات کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن درج ہوئی ایف آئی آرز کے تحت بھی کسی مولوی کو کوئی سزا نہ ہوئی۔

پاکستان میں مذہبی گروہ کافی مظبوط ہیں۔ وہ اپنے خلاف شکایات درج کروانے والوں کو دین کے خلاف سازش اور گستاخی کے الزامات جیسے ہتھکنڈوں سے خاموش کروا دیتے ہیں۔

ڈی ایس پی صادق بلوچ کے مطابق متاثرہ بچوں کے خاندان کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ہراساں کرنے والے مولویوں کو معاف کر دیں۔ بلوچ کے مطابق، بدنامی کے ڈر اور بچوں کی زندگی پر ایک بری چھاپ لگنے کے ڈر سے بچوں کے خاندان والے چپ رہنے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔ اور ایک بار معافی مل جائے تو ملزم کے خلاف مزید تحقیقات روک دی جاتی ہیں۔ ڈی ایس پی بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ لمبی داڑھی، جبہ اور دستار پہنے ان مولویوں کی یہ منافقت ہے کہ عوام کی ہمدردی کے لئے ایسا حلیہ بناتے ہیں تاکہ بند کمروں میں کالے کارنامے کر سکیں اور عوام کے بیچ داڑھی مونڈھنے والوں پر تنقید کرسکیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے کئی لوگ ہیں جنہیں مذہبی ہونے کا دعویٰ ہے، لیکن ایسی غیر اخلاقی حرکتوں میں ملوث ہیں۔

میں نے اس ملا کو پھانسی پر دیکھنا ہے

پولیس حکام کے مطابق انہیں اس بات کا علم نہیں کہ پاکستان میں مولویوں کے ہاتھوں کتنے بچے جنسی ہراسانی کا شکار ہوئے۔ حکام کے مطابق مولویوں کی ہاتھوں وہ بچے زیادتی کا نشانہ بنے جو سن بلوغت کو نہ پہنچے تھے۔ ان واقعات کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں مردوں اور خواتین کا بات چیت تک کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ تاہم مولویوں کی لڑکوں تک رسائی آ نہ صرف آسان ہے بلکہ ان پر اعتبار بھی کیا جاتا ہے اور لڑکے ایسے واقعات پر خاموشی اختیار کیے رہتے ہیں۔

شمالی کوہستان کا آٹھ سالہ یائوس بھی انہی لڑکوں میں سے ہے۔

یائوس کا باپ، جو کہ خود ایک غیر تعلیم یافتہ شخص تھا اور صرف اپنی مقامی زبان میں گفتگو کر سکتا تھا، اپنے بیٹے کو تعلیم دلوانے کی غرض سے اپنے گاؤں سے کئی سو کلومیٹر دور، مانسہرہ کے ایک مدرسہ جہاں اس کے گاؤں کے کئی لڑکے زیر تعلیم تھے، کو داخل کروا آیا۔ یائوس کا باپ جو غربت کے باعث موبائل بھی نہ رکھ سکتا تھا، کئی کئی ماہ اپنے بیٹے سے بات بھی نہ کر پاتا تھا۔

اپنی کہانی سناتے ہوئے یائوس کا جسم کپکپاتا رہا جب کہ اس کا انکل بیٹھا، مترجم کا کام کرتا رہا۔

گذشتہ سال دسمبر کی بات ہے۔ مدرسے میں چھٹی تھی۔ زیادہ تر طلبہ اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ گاؤں دور تھا، اور یائوس کے گھر والے کرائے کی رقم کا انتظام کرنے سے قاصر تھے۔

جب طلبہ اپنے کپڑے دھونے گئے تو یائوس قاری شمس الدین کے ساتھ مسجد کے اندر اکیلا موجود تھا۔ استاد کی جانب سے جنسی حملہ غیر متوقع اور ظالمانہ تھا۔ یائوس کے مطابق، قاری نے اسے بازو سے پکڑا اور کمرے میں گھسیٹ کر لے گیا اور کمرے کو بند کر دیا۔

سرگوشی کے انداز میں بات کرتے ہوئے یائوس نے بتایا کہ اس دن سردی تھی، لیکن مجھے سمجھ نہیں آیا کہ قاری اس کے گرم کپڑے کیوں اتار رہا تھا۔ اپنا سر اپنی جیکٹ میں چھپاتے ہوئے یائوس نے بتایا کہ قاری نے ایک چھڑی بھی اٹھا لی جو کہ بمشکل 12 انچ کی تھی۔

یائوس درد سے رویا بھی اور چلایا بھی لیکن قاری نہیں رکا۔ یہ سلسلہ دو دن تک چلتا رہا حتیٰ کہ دو دن بعد اس خوف سے کہ کہیں یائوس مر نہ جائے، قاری اسے اسپتال لے گیا۔

ڈاکٹر فیصل منان سالارزئی کے مطابق یائوس اس قدر چھوٹا اور کمزور تھا کہ وہ اسے بچہ بلاتے رہے۔

ڈاکٹر سالار زئی کے مطابق یائوس کے سر، ٹانگوں، سینے اور جسم کے کئی حصوں پر کئی چوٹیں تھیں۔ سالارزئی نے یائوس کو آئسولیشن وارڈ میں منتقل کیا جہاں تفصیلی معائنہ کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ یائوس کے ساتھ متعدد بار جنسی زیادتی کی گئی تھی۔

ڈاکٹر سالار زئی کے مطابق یائوس کے انکل نے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا کہ یائوس کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم آخر کار یائوس کے انکل نے کہا کہ اگر یہ خبر ان کے علاقے میں پھیل گئی تو بچے کا اس علاقے میں رہنا کافی مشکل ہو جائے گا۔ تاہم، شواہد اس قدر مضبوط تھے کہ ڈاکٹر نے پولیس سے رابطہ کر لیا۔

مولوی جو کہ اب جیل میں ہے کے ڈی این اے کو یائوس کے جسم سے ملے ڈی این اے کے ساتھ میچ کیا گیا۔ تاہم مدرسہ تعلیم القرآن کے مولویوں کی جانب سے معاملے کو متنازع بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق شمس الدین معصوم اور اسے مذہب مخالف عناصر کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یائوس کے والد عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ وہ شرمندہ ہے کہ واقعہ ہونے سے تین مہینے پہلے تک اس نے اپنے بیٹے سے رابطہ نہیں کیا۔ عبالقیوم کا کہنا ہے کہ وہ بس یہ چاہتا ہے کہ اس ملا کو پھانسی لگائی جائے۔ اس سے کم وہ کسی چیز پر راضی نہیں۔

’مجھے معاف کر دو‘

صرف لڑکے ہی نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے چھوٹے سے گاؤں، بستی قاصی میں مصباح جیسی چھوٹی بچیاں بھی مولویوں کے ہاتھوں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنتی ہیں۔

پاکستان کے دیہی علاقوں میں چانکہ اکثر پیدائش کو رجسٹر نہیں کیا جاتا، اس لئے مصباح کی عمر اس کے والد محمد اقبال کے اندازے کے مطابق 11 سال ہے۔

چھوٹے سے گھر جس میں ایک بڑا خاندان اور مویشی رہتے ہیں کی مکین مصباح جو ٹھیک سے بول بھی نہیں پا رہی تھی نے بتایا کہ گھر کے پڑوس کی مسجد میں اسے ریپ کیا گیا جہاں وہ تین سال سے قرآن کی تعلیم حاصل کرنے جا رہی تھی۔

حادثہ اس دن پیش آیا جب قاری نے سب بچوں کو گھر بھیج دیا اور مصباح سے مسجد کی صفائی کرنے کے لئے مدد مانگی۔

سرائیکی میں بولتی مصباح نے بتایا کہ اس نے ابھی صفائی شروع ہی کی تھی کہ مولوی نے مسجد کے دروازے بند کر دیے۔ اس کے بعد مولوی نے اسے پکڑا اور قریب کمرے میں لے گیا۔ ’میں چیخ رہی تھی، چلا رہی تھی، رو رہی تھی۔ مجھے نہیں پتہ کہ وہ سب کتنی دیر تک چلا‘۔ مصباح کو بس اتنا یاد ہے کہ وہ اپنے والد کو مدد کے لئے پکارتی رہی لیکن مولوی نہیں رکا۔

مصباح کو اس کے انکل محمد تنویر نے آ کر بچایا جوکہ کالج جاتے ہوئے مسجد کا بیت الخلا استعمال کرنے کے لئے راستے میں رکا تھا۔ تنویر کے مطابق اس نے مسجد کے دروازے پر بچے کے جوتے دیکھے اور اندر سے چیخنے کی آوازیں بھی آ رہی تھیں۔ تنویر نے اندر جا کر دروازہ کھولا تو مصباح زمین پر برہنہ پڑی ہوئی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا شاید مصباح چکرا کر گری تھی۔ اس کی خون آلودہ شلوار ایک کونے میں پڑی تھی جب کہ مولوی اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا تھا۔

تنویر کے مطابق مولوی بار بار ’مجھے معاف کر دو‘ بولتا رہا لیکن اسے گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم، بعد میں وہ ضمانت پر رہا ہو گیا۔

ایسے درندوں کو بخشنا نہیں چاہیے

مہیمن کے ریپ کے بعد اس کی آنٹی کے مطابق ان کے خاندان کو خاموش کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ شازیہ کے مطابق علاقہ مکین کہتے ہیں کہ یہ مولوی علاقے کے روحانی پیشوا اور مساجد کے امام ہیں لہٰذا انہیں علاقے سے نکالا نہیں جا سکتا۔ اپنے بھتیجے پر حملے کے بعد شازیہ کے مطابق علاقہ مکین ان کے گھر آئے اور اس بات کی التجا کی کہ وہ مولوی معید شاہ، جو کہ علاقے سے بھاگ گیا تھا کو معاف کر دیں۔

شازیہ کا کہنا تھا کہ علاقہ مکینوں کو معلوم ہے کہ ہم غریب لوگ ہیں۔ وہ ہم پر زور ڈال رہے ہیں کہ ہم معید شاہ کو معاف کر دیں۔ شازیہ نے بتایا کہ بچے کے دادا نے بھی کہا ہے کہ وہ معید شاہ کو معاف نہیں کریں گے۔

شاہ مفرور ہے، تاہم اس کی مہیمن پر جنسی حملہ کرنے کی وڈیوز بھی موجود ہیں جنہیں گاؤں کے لڑکوں نے جائے وقوعہ پر فوراً پہنچتے ہی بنا لیا تھا۔

پولیس کے مطابق شاہ مفرور ہے۔ تاہم، اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ جب کہ مسجد کے پاس رہنے والے علاقہ مکینوں کے مطابق پولیس مفرور کو بھرپور طریقے سے نہیں ڈھونڈ رہی۔

شازیہ کا کہنا تھا کہ، ایسے درندوں کو کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہیے۔


یہ رپورٹ Associated Press پر شائع ہوئی جسے نیا دور کے قارئین کے لئے کنور نعیم نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *