Type to search

Coronavirus خبریں مذہب

کرونا کے علاج کا ایک اور دعویٰ: ‘قرآن میں رکھا بال پانی میں ڈال کر پی لیں’

  • 13
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    13
    Shares

کرونا وائرس جب سے نمودار ہوا ہے یوں لگتا ہے کہ جیسے انسان اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق اس سے پیچھا چھڑوانے کے لئے اندھا دھند کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف تو سائنسی تحقیق ہو رہی ہے اور لیبارٹریز میں کرونا کی ویکسین کی تلاش جاری ہے جبکہ دوسری جانب مذہبی طبقہ اور علما حضرات ہیں کہ ایسی ایسی مذہبی توجیح پیش کر رہے ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے۔

اب ایسا ہی ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک عالم دین نے فرمایا ہے کہ کرونا کے نام سے جو وبا پھیلی ہے اسکا علاج ڈھونڈ لیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک پہنچے ہوئے شخص نے ایران میں حضرت امام زمانہ کو خواب میں دیکھا جنہوں نے بتایا کہ قرآن مجید کو کھولیئے اس کے صفحے پلٹتے جایئے۔ جہاں پر قرآن مجید کے اوراق کے درمیان بال ملے اس بال کو لیجئے پانی میں ڈال کر رکھیے اور پھر اسے نکال لیجئے اور اسی جگہ قرآن میں رکھ دیجیے۔ اور اس پانی کو پی لیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ وبا ختم ہوجائے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم لا وارث نہیں ہیں ہمارا وارث ہے۔ وارث نے ہی یہ نسخہ ایک نیک بزرگ کو دیا ہے۔ آپ نے دیکھا ہے کہ یہ نسخہ اب ہر جگہ چل رہا ہے اور ایران میں اس کے بعد کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔

یاد رہے اس سے قبل ضمیر جعفری نے بھی کرونا کاعلاج ڈھونڈنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ علاج کیا ہے تو انہوں نے زوردار انداز میں کہا تھا کہ “نہیں بتاؤں گا”. بھارت میں بھی اس سے قبل ہندو مذہب میں معتبر گائے گا پیشاب کرونا کا علاج قرار دیا جاتا رہا ہے اور اس حوالے سے گاؤ موترا پارٹی بھی ہوئی تھی۔ جس میں ایک اکٹھ میں سینکڑوں ہندوؤں نے گائے کا پیشاب پیا تھا۔  

یاد رہے کہ ماہرین کرونا وائرس کا انتہائی مہک بیماری قرار دے چکے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ کسی بھی قسم کی مذہبی و معاشرتی توہمات کے زیر اثر اس کا علاج کرنے کی کوشش نہ کی جائے کیونکہ یہ وبا کے مزید پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ان عالم دین کے دعویٰ کو مضحکہ خیز قرار دیا جا رہا ہے اور ان پر تنقید جاری ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *