Type to search

خبریں

ٹویٹر پر #WEMISSYOUASIFGHAFOOR کا ٹرینڈ: 27 فروری کو ڈی جی آئی ایس پی آر کی بھارت کو للکار کا ذکر

 

گزشتہ روز سے پاکستان کے ٹویٹر ٹرینڈز میں سے ایک #WeMissYouAsifGhafoor ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور جو کہ بطور ڈی جی آئی ایس پی آر پاک فوج کی سب سے معروف شخصیت رہے ہیں یہ انکے حوالے سے بنایا گیا ٹرینڈ  ہے جس میں ان سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کیا جار رہا ہے۔

 

 

آصف غفور اس وقت اوکاڑہ میں بطور جی او سی 40th انفنٹری ڈویژن اپنے فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں تاہم بطور ڈی جی آئی ایس پی آر انکا دور شاید اپنی نوعیت میں لا ثانی تھا۔ جنرل آصف غفور نے مجموعی طور پر سرکاری شعبہ تعلقات عامہ اور خاص طور پر انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کو ایسا انداز دیا کہ جس کی وجہ سے وہ آج تک یاد کیئے جا رہے ہیں۔

 

 

خاص کر پاکستانیوں کو جنرل آصف غفور کا وہ انداز نہیں بھولتا جو انہوں نے 26 اور 27 فروری کو پاک بھارت فضائی جھڑپوں کے دوران اپنایا۔ انکا جملہ Now wait for our surprise, We ‘ll surprise you آج بھی دیکھنے والوں کے خون گرما دیتا ہے۔ پھر جس انداز میں جنرل آصف غفور نے پاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے مودی حکومت کو للکارا، اس للکار کی گونج آج بھی 27 فروری کی یاد کا حصہ ہے اور یہ پاکستانیوں کومیجر جنرل آصف غفور کی یاد دلا رہی ہے۔ 

 

ویسے تو انکے پیش رو میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے برانڈ راحیل شریف کی تشکیل کرکے اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا عوامی سطح پر دیومالائی تاثر قائم کیا تھا۔ تاہم جنرل آصف غفور کے دور میں دیکھا گیا کہ پاک فوج کے سربراہ کی بجائے برانڈ آصف غفور نمایاں رہا۔

انکے دور میں پاکستان زبردست سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور تبدیلی کے عمل میں سے گزرا۔ ڈان لیکس کے دوران حکومتی اعلانات کو رد کرتی انکی ٹویٹس کی واپسی سے لے کر پی ٹی ایم اور دیگر معاملات پر انکے رد عمل اکثر زیر بحث رہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں حد سے تجاوز کرتے رہے ہیں۔ 

اب موجودہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار اپنے فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں اور مبصرین انہیں سخیت گیر فوجی افسر اور بائی دی بک چلنے والے بہترین جنرل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ تاہم تمام پہلووں کو یکجا کیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ آصف غفور نے بلاشبہ تعلقات عامہ کے شعبے کو نئی جدت سے روشناس کرایا ہے جس کا ذکر آنے والے عرصہ تک ہوتا رہے گا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *