Type to search

تجزیہ کورونا وائرس مذہب معاشرہ

قصہ کرونا وائرس اور ایک برگیڈیئر ریٹائرڈ ‘جاہل’ صاحب کا

  • 5
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    5
    Shares

ویسے تو پاکستان کو ہمیشہ سے ہی بڑے بڑے مسائل کا سامنا رہا ہے تاہم ایک مسئلہ جس نے ملک کے معاشرے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں وہ ہے۔ مذہبی شدت پسندی اور منافرت کا۔ پاکستان میں اسکی تاریخ کی مختلف جہتیں ہیں تاہم یہ بیان کرنا اہم ہے کہ یہاں کی مذہبی قیادت نے ریاستی اداروں کی آشر واد سے یہودیوں اور ہندووں کے خلاف ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیا جو دراصل پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی بھارت اور اسرائیل مخالف پالیسی میں رنگ بھرنے کے کام آیا۔ پھر اس یہود و ہنود کی نفرت پر مبنی بیانئے کو آفاقی سچ کے طور پر پیش کرتے ہوئے نصاب کا حصہ بنا دیا گیا۔

جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج سچ اور جھوٹ کی تلاش سے بیزار یہ معاشرہ شدت پسندی کی ایک ایسی کانٹے دار فصل بن چکی ہے جسے کاٹنے کی کوشش کرنے والے بھی لہو لہان ہیں اور اگانے والے بھی پریشان۔ اسی مخصوص بیانیئے کا اظہار اکثر ہمارے ٹاک شوز میں ہوتا رہتا ہے۔ کبھی عامر لیاقت بھارت کو رگڑا دینے کی خاطر ہندووں کے مذہبی عقائد پر تضحیک آمیز کالم لکھ دیتے ہیں  تو کبھی کوئی اور۔

اب یہ کوئی اور ایک برگیڈیر موصوف ہیں۔ ان کا نام برگیڈئیر ر امجد ملک ہے۔ میڈیا کی زبان میں بات کی جائے تو یہ میڈیا کے بی گریڈ مہمان ہیں۔ یعنی اکثر کوئی نو وارد اینکر ،کوئی چھوٹا چینل یا پھر گم نام شو ہی انکو بطور تجزیہ کار بلاتا ہے۔ ہاں ایک دو دفعہ وقت کی کمی اور مہمان ارینج نہ ہوسکنے پر انکی لاٹری نکلی ہے اور یہ غلطی سے کسی معروف شو میں پائے گئے ہیں۔ بہر حال موصوف اسی طرح ایک ٹاک شو میں شریک تھے اینکر نے کرونا وائرس سے متعلق ان سے سوال کیا جس پر موصوف صرف یہ بتانے کے لئے کہ کرونا کوئی اتنا مسئلہ نہیں ہے، بودی بودی سی مثالیں دینا شروع کیں۔

پہلے سب کو بتانے کی کوشش کی کہ انہوں نے ملیریا کی وبا کے بارے میں ملٹری ہسٹری میں پڑھ رکھا ہے (حالانکہ میٹرک بھی صحیح سے پڑھ لیتے تو معلوم ہوتا) پھر بولے دہشت گردی میں اتنے مر گئے کون گھروں سے نکلنا بند ہوا؟ اینکر نے انکی منطق پر سوال اٹھا دیا تو پھر مڑ کر ہمسایہ ملک بھارت میں جا گھسے اور 80 فیصد ہندووں کو جاہل قرار دے دیا ۔ اسکی وجہ یہ بتائی کہ آج کے دور میں بھی وہ بتوں کی پوجا کر تے ہیں اس لئے میں تو انہیں جاہلین کہوں گا ساتھ ہی سورہ البقرہ کی آیت کا تذکرہ کیا جس میں کہ اللہ کی جانب سے آزمائش کا ذکر ہے۔

کسی مذہب کے ماننے والوں کے عقائد پر نکتہ چینی کر کے اپنے مذہب کو اونچا دیکھانے کا چلن صرف اور صرف انسان کی فکری پستی اور اپنی جاہلیت کا ثبوت ہوا کرتا ہے۔ وگرنہ اسی کو درست مان لیا جائے تو نعوذ باللہ انگریز مستشرقین اور منکرین کے اسلام کے خلاف بیانیئے کو کوئی کیا کہے گا؟ اور پھر جب ہمارے اپنے وطن میں پاکستانی ہندو لاکھوں میں بستے ہیں۔ وہ ملسمانوں کی خوشیوں میں خوش ہوتے ہیں مسلمان انکی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں؟ اور اگر جاہلیت ہی ناپنا مقصود ہے تو کرونا کے دوران بھارت میں مندروں کو زبردستی کھلوا کر عبادت کے معاملہ اور پاکستان میں مساجد کو زبردستی کھلوا کر تراویح پڑھوانے کے درمیان ناپیئے۔ ورنہ آنکھوں پر پڑی مذہبی منافرت کی پٹی کا کیا کریں یہ تو ہمارے اتنے پیارے برگیڈئیر ریٹائرڈ صاحب کو بھی جاہل کر سکتی ہے۔

چلتے چلتے یاد آیا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے تو جانچ پھٹک کر ہی کسی فوجی تجزیہ کار کو ٹاک شوز میں بیٹھنے کی اجازت دی جاتی ہے نا؟ تو کیا ہندووں کی تضحیک کرنے والے برگیڈیئر ر امجد ملک کو ہندو مذہب اور اسکے ماننے والوں کی تضحیک کی کھلی اجازت ہے یا پھر ابھی وہ آئی ایس پی آر کے رجسٹر برائے تجزیہ کار( ملٹری) میں رجسٹر ہی نہیں ہو پائے؟

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *