Type to search

Coronavirus خبریں قومی معیشت

کرونا ریلیف فنڈ: لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے ملکی تاریخ کی بڑی ٹیلی تھون کا آغاز

  • 5
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    5
    Shares

ملک میں کرونا وائرس کے پیش نظر لگنے والی پابندیوں سے متاثر افراد کی مدد کے لیے قائم کیے گئے فنڈ میں عطیات وصول کرنے کے لیے ملکی تاریخ کی بڑی احساس ٹیلی تھون کا آغاز ہو گیا ہے۔

ملک کے سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی سمیت نجی ٹی وی چینلز پر بیک وقت نشر ہو رہی اس ٹیلی تھون کا مقصد ضرورت مندوں کے لیے امداد اکٹھا کرنا ہے۔ اس احساس ٹیلی تھون میں وزیراعظم عمران خان خود شریک ہیں جبکہ ان کے علاوہ ملک کے معروف صحافی حامد میر، کامران شاہد، منصور ملک، کاشف عباسی، ندیم ملک، محمد مالک اور سمیع ابراہیم بھی موجود ہیں۔

ٹیلی تھون کے موقع پر عمران خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حالات پہلے کبھی نہیں آئے اور اس وائرس کے اثرات ابھی آئے نہیں ہیں بلکہ یہ آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ اس طرح کے حالات کبھی آئے نہیں تو لہٰذا ملک کا ردعمل بھی ایسا ہونا چاہیے جو پہلے کبھی نہیں ہوا ہو، اسی سلسلے میں ملک کا سب سے بڑا ریلیف پروگرام دیا۔ کرونا وائرس اور دیگر وائرسز میں جو فرق ہے وہ یہ کہ اس وائرس کے پھیلاؤ کی شرح غیرمعمولی ہے۔ لہٰذا لوگ سماجی فاصلے کو اپنائیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی حکومت خود سے کرونا وائرس کا مسئلہ حل نہیں کرسکتی، اس وبا کو شکست دینے کے لیے ہر ایک کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

ٹیلی تھون کے دوران ملک بھر کے مختلف اداروں کے سربراہان، معروف شخصیات و عوام نے اپنی حیثیت سے فنڈ کے لیے رقم عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔

واضح رہے کہ اس فنڈ کے قیام کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو کرونا وائرس کے باعث لگنے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے یکم اپریل کو وزیراعظم عمران خان نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالیں۔ عمران خان نے فنڈ کے قیام کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سب اس فنڈ میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ ان لوگوں کی دیکھ بھال ممکن ہوسکے جنہیں لاک ڈاؤن نے افلاس کے کنارے لاکھڑا کیا۔

خیال رہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس سے آج مزید 8 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ملک میں مہلک وبا سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 228 ہو گئی ہے جب کہ مزید نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مصدقہ مریضوں کی تعداد 10811 تک پہنچ گئی ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *