Type to search

Coronavirus فیچر میڈیا

کرونا وائرس کی وبا کی کوریج کرتے صحافیوں کے لئے احتیاطی تدابیر

کرونا کی وباء میں ، صحافی قرنطینہ میں رہ کر رپوٹنگ نہیں کرسکتے ہیں۔ انہیں سچ کی تلاش میں ہر صورت  بیماری والے والے علاقہ میں جانا پڑتا ہے ، اور ایسا کرتے ہوئے ان کے وبا کا شکار ہونے  کے خطرات کئی گنا بڑھ جاتے  ہیں۔ بالعموم لیکن  خاص کر ترقی پذیر ممالک میں وبائی امراض کی رپورٹنگ کیلئے میڈیا ہاؤسز کی استعداد کار  بہت محدود  ہوتی ہے۔ اس بات کا اندازہ آپ اس سے  بخوبی لگا  سکتے ہیں کہ پورے  پاکستان میں صحت پر رپوٹنگ کرنے والا ایک بھی نامور صحافی نہیں۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ عالمی وبا  کو رپورٹ کرنے کا تجربہ  دنیا  بھر میں کسی بھی بڑے سےبڑے میڈیا ہاوس کے پاس بھی نہیں ۔ پاکستان میں صحافت  کا  پیشہ اختیار کرنے کیلئے کسی خاص تعلیمی ڈگری  کی ضرورت نہیں اور دوران ملازمت تربیتی مواقع بھی نا ہونے کے برابر ہیں۔ اس لئے یہاں کرونا جیسی مہلک وبا کی درست رپورٹنگ اور بھی مشکل کام  ہو جاتا ہے۔  صحافیوں خاص کر کے کیمرہ مین، تکنیکی فیلڈ سٹاف،  ڈرائیور  اور رپورٹرز  کو سائنسی علم  اور وبا کے  پھیلاو  کے بارے میں  درست معلومات کی فراہمی اور بچاو کی حفاظتی تدابیر سے بر وقت آگاہی  کی اہم ضرورت ہیں۔

حفاظتی تدابیر:

1-کرونا وائرس ایک نا نظر آنے والا مہلک وائرس ہے۔ یہ عام طور پرانسانی رطوبت سے  پھلتا ہے۔ جو صحافی ، کیمرہ مین اور تکنیکی عملہ پہلے سےہی کسی  خطرناک  مرض میں  مبتلا ہیں اور ان کی عمر بھی 50 سال سے زائد ہے وہ اپنے اسانمنٹ ایڈیٹر کو اس بارے میں بتائیں اور فیلڈ میں جانے سے مکمل  اجتناب کریں ۔

2-عالمی ادارہ صحت کی ہدایات کے مطابق تمام میڈیا ورکر اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران سرجیکل ماسک پہن کر رکھیں۔ ماسک کے گیلا ہونے کی صورت میں اپنا ماسک فورا تبدیل کریں۔ اپنے استعمال شدہ ماسک کو محفوظ طریقے سے تلف کریں۔ ماسک اس لئے ضروری ہے کیونکہ وائرس کچھ عرصہ فضا میں رہتا ہے اور   صحافی  بعض اوقات کیونکہ تیزی سے اپنی جگہ  بدلتے ہیں  اور ان دیکھے لوگوں سے ملتے ہیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ  وبا کے علاقے کے علاوہ بھی ہمیشہ اپنا ماسک پہن کر رکھیں۔

3- فرائض کی انجام دہی کے دوران ہاتھوں کو بار بار جراثیم کش ہینڈ سینیٹائزر سے صاف کریں۔  اپنی پاکٹ اور گاڑی میں ہینڈ سینیٹائزر کی موجودگی کو یقینی بنایئں ۔ ہمیشہ  دستانوں کا  بھی استعمال بھی استعمال کریں ۔  آپ کے  آلات جیسا کہ کیمرہ، مائیک، سیل فون، قلم اور کاغذ پر بھی وائرس  آ سکتے ہیں۔ دستانے پہنے ہوئے اپنے منہ اور آنکھوں کو ہاتھوں سے  بلکل بھی نا چھوئیں۔ دستانے اتارنے کے بعد انہیں محفوظ طریقے سے تلف کریں۔ اپنے  ہاتھ اور آلات کو بھی جراثیم کش سپرے سے اچھی طرح صاف کریں۔

4-وبا میں مبتلا مریضوں سے بات چیت سے مکمل اجتناب کریں۔ ہسپتال، لیبارٹری اور وبا سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے سماجی دوری کو ہمیشہ  یقینی بنایئں۔ اکثر اوقات کیمرہ دیکھ کر لوگوں کا ہجوم لگ جاتا ہے۔  رپورٹنگ کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایئں کہ ہجوم اکٹھا نا ہونے پائے۔ لوگوں کو نرمی اور  دلیل سے  دوری کا سمجھائیں۔

5- صحت کے عملہ سے بھی معلومات لیتے ہوئے اور بات چیت کرتے ہوئے سماجی دوری برقرا رکھیں  اور مکمل احتیاط کا مظاہرہ کریں۔  صحت کا عملہ وبا کے مریضوں کا علاج کرتے وقت ان کے بہت قریب ہوتا ہے۔ ان کے کپڑوں اور ان کے آلات پر بھی وائرس کے ہونے کے قوی امکانات ہوتے ہیں۔ ایسے میں صحت عملہ کے ساتھ ساتھ  ہسپتال کے  ہر قسم کا  دوسرے عملے سے  بھی سماجی دوری بنائے رکھنا لازمی ہے۔

6-وبا کے دنوں میں جہاں جسمانی صحت ضروری ہے وہاں  ذہنی صحت کا  خیال رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ میڈیا ورکر کے پاس سب سے زیادہ اور سب سے پہلے معلومات آتی ہیں۔ بعض اوقات  کچھ تصاویر، اور کچھ مناظر دل خراش ہو سکتے ہیں۔ قاری ، ناظر اور سامع تک  صرف  منتخب معلومات۔ تصاویر اور ویڈیوز ہی جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں اپنے آپ کو مضبوط رکھیں۔ سنسنی خیزی سے اجتناب کریں۔ آپ کی اور عوام کی صحت بریکنگ نیوز سے زیادہ اہم ہے۔ ایسے میں اپنا ذہنی بوجھ کم کرنے کئلیے صحت کے عملہ سے بات کریں۔  کیونکہ بات کرنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔

7-ایسے میں صحافی اور میڈیا ورکر  اپنے دوسرے دفتری ساتھیوں ، گھر والوں، خصوصا  بیمار، بزرگ اور بچوں سے سماجی دوری اور ان سے رابطہ کرتے وقت مکمل احتیاط کریں۔ کیونکہ ایسا کر کے آپ اپنے عزیزوں و اقارب کو اس مہلک مرض سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے  ہیں۔

8- کھانسی، نزلہ اور بخار کی صورت میں فورا  ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اگر ڈاکٹر  ٹیسٹ کا مشورہ دے تو گھبرائیں نہیں۔ تاہم فورا اپنے آپ کو قرنطینہ کر لیں اور جب تک ٹیسٹ کی رپورٹ نا آ جائے۔ کسی سے ملاقات نا کریں۔ کرونا وبا مہلک ضرور ہے مگر ایک صحت مند انسان اس کو تھوڑی کوشش سے آسانی سے  شکست دے سکتا ہے۔ دنیا بھر کے ممالک میں جہاں چند  ہزار افراد اس مرض کا شکار ہوئے ہیں وہاں لاکھوں کی تعداد میں مریض مکمل صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

اپنا خیال رکھیں کیونکہ آپ کا خیال آپ سے زیادہ کوئی دوسرا نہیں رکھ سکتا۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *