Type to search

تجزیہ سیاست مذہب

رمضان کی رویت پھر اختلاف کی نذر، کون سچا اور کون جھوٹا؟

پاکستان میں کررنا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے سلسلے میں مکمل لاک ڈاؤن کرنے یا نہ کرنے کے ضمن میں حکومت اور صوبوں کے مابین بدستور اختلاف کی فضا برقرار ہے۔ تاہم، ایسے میں ملک بھر میں ایک ہی دن مشترکہ طورپر رمضان کا اعلان کرنے سے کسی حد تک قومی یکجہتی اور اتفاق کا تاثر پیدا کیا جا سکتا تھا لیکن بدقسمتی سے بعض مذہبی افراد کی بغض اور انا پرستی کے باعث رواں سال بھی یہ ممکن نہیں ہو سکا۔

پشاور میں مفتی شہاب الدین پوپلزئی کی سربراہی میں قائم غیر سرکاری رویت ہلال کمیٹی نے ایک مرتبہ پھر مرکز سے اختلاف کرتے ہوئے جمعہ کے روز صوبے بھر میں پہلی رمضان کا اعلان کیا جب کہ مرکز نے ہفتے کے روز سے پہلے روزے کا اعلامیہ جاری کر دیا۔

ملک میں الگ الگ روزے اور عیدین منانے کی غیر منتطقی روایت گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ معاملہ حل کیوں نہیں ہو رہا؟ کیا یہ مکاتب فکر کا اختلاف ہے یا لسانیت کا؟ حکومت کی کوتاہی ہے یا رویت ہلال کمیٹیوں کی؟ یا یہ دو مفتیان کی انا کا مسئلہ ہے؟ اور سب سے بڑا یہ سوال کہ کبھی یہ قضیہ حل کی طرف بھی جائے گا کہ نہیں؟

اگر دینی نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ انتہائی اہمیت کا حامل معاملہ ہے کیونکہ اپنے طور پر رمضان یا عید کا اعلان کرنا کوئی مذاق کی بات نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہوتی ہے جس میں لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے ایک اہم مذہبی فریضہ کا تعین ہونا ہوتا ہے۔ لیکن ہر سال یہ اہم معاملہ رویت ہلال کمیٹیوں کے درمیان تنازع کی نذر ہو جاتا ہے۔

اس رویے سے نہ صرف ہر سال امت تقسیم در تقسیم کا شکار ہو رہی ہے بلکہ دوسرے برادر اسلامی ممالک کے سامنے بھی ہم مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔ اگر مذہبی نظر سے دیکھا جائے تو پشاور کی رویت ہلال کمیٹی بھی سینئیر علمائے کرام پر مشتمل ہے اور اس طرح مرکزی کمیٹی میں بھی ہر مکتب فکر کے عالم دین موجود ہیں جن کی شاید مذہبی قابلیت پر کسی کو شک و شبہ نہ ہو۔ لیکن پھر بھی یہ مسئلہ حل ہونے کی بجائے امت میں مزید بگاڑ کا سبب بن رہا ہے۔

گذشتہ چند سالوں میں مفتی منیب الرحمان اور مفتی پوپلزئی کے مابین چاند کی رویت کا معاملہ اتنی سنگین حد تک جا چکا ہے کہ دونوں مفتیان اب کسی بھی صورت میں ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔

ہر سال اس معاملے میں شدت اس وجہ سے بھی آتی رہی ہے کیونکہ یہ دونوں حضرات ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی بھی کرتے رہے ہیں بلکہ یہاں تک کہ فتوے جاری کرنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا جس سے بظاہر ایک دینی معاملہ اب سنگین دشمنی میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس معاملے میں شاید لسانیت اور مکاتب فکر کا عمل دخل بھی رہا ہے اور شاید اس وجہ سے اس کا حل سردست نظر نہیں آ رہا۔

اگر میں ذاتی طورپر اپنی بات کروں تو میں نہ چاہتے ہوئے بھی ہر سال روزہ اور عید مفتی پوپلزئی کے اعلان پر کرتا ہوں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اول تو مجھ جیسے لاکھوں افراد ان دو مفتیان کے درمیان کھلونا بن کر رہ گئے ہیں اور کبھی ایک اسے ٹھوکر مارتا ہے اور کبھی دوسرا۔ ہم ان کے اثر میں کچھ اس حد تک آ چکے ہیں کہ اگر نکلنا بھی چاہیں تو نہیں نکل سکتے۔

میرے گاؤں ہنگو میں تمام فیملی کے افراد روزہ اور عید پوپلزئی کے اعلان پر کرتے ہیں۔ اس بارے میں ان کے پاس اپنے دلائل ہیں جس کی تفصیل میں یہاں جانا نہیں چاہتا۔ لیکن جب فیملی کے سب لوگ، والدین اور بچے ایک ساتھ عید منا رہے ہوں تو اپ کیسے انکار کر سکتے ہو؟ معروضی حالات کچھ اس نوعیت کے بن گئے ہیں کہ ان دونوں مفتیان نے ہمیں اس میں ہر طرف سے جکڑ کر رکھا ہوا ہے۔

اس طرح اگر کوئی ڈیرہ اسمٰعیل خان کا رہائشی ہے اور وہ پشاور میں مقیم ہے تو انہیں بھی لازماً مفتی منیب الرحمان کی پیروی کرنا ہوگی کیونکہ ڈی آئی خان کی اکثریتی آبادی حکومت کے ساتھ روزہ اور عید کرتی ہے۔ پورا صوبہ اس طرح تقسیم در تقسیم کا شکار ہے اور اس کا ذمہ دار ان دو صاحبان کو قرار دیا جا رہا ہے۔

اکثر افراد یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ مفتی پوپلزئی کون ہوتے ہیں رویت کا فیصلہ کرنے والے، یہ اختیار انہیں کس نے دیا؟ اگر کل کو ہر کوئی اس طرح اپنے طورپر فیصلے کرنے لگ جائے تو پھر ریاست کیا ہوئی اور حکومت کی کیا حیثیت ہوئی؟ طالبان اس وجہ سے ملک کے باغی ٹھہرے کیونکہ وہ ریاست کے اندر ریاست بنانا چاہتے تھے۔

لیکن دوسری طرف مفتی پوپلزئی کی حامیوں کا مؤقف ہے کہ حکومتی کمیٹی ہر سال رویت کے ضمن میں انتہائی غیر ذمہ داری سے کام لیتی ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات چاند کی رویت کے سلسلے میں غلط فیصلہ کر جاتی ہے۔ اس دلیل میں میرے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کسی حد تک حقیقت بھی نظر آتی ہے۔ میں خود رویت ہلال کے اجلاسوں میں شرکت کرتا رہا ہوں جہاں شہادتوں کے پرکھنے میں انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ غلط فیصلوں سے بچا جائے۔

لیکن اس کے باوجود بھی یہ کوئی دلیل نہیں کہ کوئی اپنے طورپر رویت کا فیصلہ کرے کیونکہ بنیادی طورپر یہ ذمہ داری حکومت وقت کی ہوتی ہے اور کسی کی طرف سے اس طرح اپنی مرضی مسلط کرنا ریاست سے غداری کے مترادف ہے۔ اگر اس طرح ہر کوئی اپنی مرضی کرنا چاہے تو اس کا انجام تو فتنے کی جانب بڑھتا ہے۔

آخر میں صرف اتنا کہوں گا کہ ان دو مفتیان میں سے کوئی ایک جھوٹ بول رہا ہے اور جھوٹ بولنے والوں پر اللہ تعالی نے لعنت بھیجی ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *