Type to search

تجزیہ جمہوریت سیاست کورونا وائرس معاشرہ

تاریخی لمحات میں کیے جانے والے تاریخی فیصلے

 

 

دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کرونا وائرس کی وبا  جس میں آج  29 اپریل تک 185 ممالک میں 3.11 ملین کیسز  سامنے آچکے ہیں اور تقریبا ً 2 لاکھ  17 ہزار افراد اس وبا کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ جبکہ 9 لاکھ 32 ہزار افراد اس وبا میں مبتلا ہونے کے بعد شفایاب بھی ہوئے  ہیں۔ اس وبا نے نہ صرف انسانوں کو خوف ، ہیجان اور ذہنی دباؤ کا شکار کیا  بلکہ بڑی بڑی طاقتوں کو بھی زمین بوس کردیا ہے۔ وہ اس وبا سے اپنے شہریوں کو بے بسی سے مرتا ہوا دیکھ  کر کف افسوس ملنے کے سوا کچھ کرنے سے قاصر ہیں ۔ تا حال اس  وباسے بچاؤ کی ویکسین کے دعوے تو بہت سامنے آئے ہیں مگر ابھی تک کوئی مستند ویکسین دنیا کے سامنے نہیں آئی ہے۔

اس وبا نے لوگوں کو گھروں تک محدود کردیا ہے مگران کی سوچ کے دروازے وا کردیے ہیں۔  جہاں گھروں میں رہنے پر مجبور لوگ  اپنے پڑوسیوں  ، برادریوں ۔ رشتہ داروں اور حقیقی رشتوں جن سے وہ اس مادی دور میں بھاگتے بھاگتے بہت دور ہوگئے تھے  اب ان کے قریب آنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ وہیں دنیا کی سب سے بڑی جمہوری طاقت امریکہ کے ایوانوں سے  مذہبی رواداری، ہم آہنگی اورمحبت، بھائی چارے  کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ ۔ اور اس سلسلے میں اگر کہیں مذہبی یا سماجی و معاشی  تفاوت کی وجہ سے  لوگوں نے دوسروں کو  مورد الزام ٹہرانا شروع کیا تو اس کی اتنی ہی  شدت سےمخالفت بھی سامنے آئی۔

گذشتہ روز ، کیلی فورنیا میں واقع ٹیمپل بت یحم میں منعقدہ ، امریکی مسلم اور کثیر المذاہب خواتین کی ایمپاورمنٹ کونسل (اے ایم ڈبلیو ای سی) کے زیر اہتمام زوم افطار میں مختلف العقائد برادریوں کے رہنماؤں کی ایک ملاقات زوم کے ذریعے منعقد ہوئی جس کا مقصد مختلف مسلکی نمائندوں کو تبادلہ خیال کے لئے ایک پلیٹ فارم پرجمع کرنا تھا ۔  شرکاؑ نے اس بات کا اقرارا کیا کہ کورونا کی وبا نے مذہبی ، نسلی وابستگی یا معاشرتی ، معاشی حیثیت سے قطع نظر کسی کو نہیں بخشا۔ اس نے سب کو متاثر کیا ہے ۔

کورونا وائرس نے ہمیں باور کرایا ہے کہ ہم چاہے کتنی ہی بڑی قوم کیوں نہ ہوں، وائرس نے ہم سب کو بلا تفریق متاثر کیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ  ہم  متفقہ طور پر، اس وائرس سے لڑنے کے لئے ویکسین ایجاد کرنےپر توجہ دیں۔ اجلاس کے شرکاء نے جو یہودی ، زرتشت ، ہندو ، عیسائی ، سکھ ، اور مسلمان سمیت متعدد مذہبی جماعتوں کی نمائندگی کررہے تھے، اظہار خیال کرتے ہوئے اس حقیقت پر اتفاق کیا کہ کورونا کی وبا نے ہمیں اس پر غور کرنے کا  مو قع فراہم کیا ہے کہ ہم ماضی میں کیا کرتے رہے ہیں، اب کیا کر رہے ہیں اور آ ئندہ مستقبل  میں ہما را لائحہ عمل کیا ہوگا۔  حسن اتفاق ہے کہ اگر اس سال   ایک طرف مسلمان ماہ  رمضان  کی بر کتوں سے فیضیا ب ہو رہے ہیں تو دوسری  طرف عیسائی، سکھ اور زرتشترین سمیت دیگر مذاہب  بھی اپنے تہوار  منا رہے ہیں ۔

اس سلسلے میں پادری زریر بھنڈارا نے کہا کہ زرتشترین دنیا کا قدیم ترین عقیدہ ہے جو محبت اور بقائے باہمی کو فروغ دیتا ہے۔ کوویڈ 19 کے بعد ، اپنے مذہبی اختلافات سے قطع نظر ہمیں جیو اور جینے دو کے اصول پر کاربند ہو کر سب کو متحد ہوجا نا چاہئے ۔انہوں نے 1936 ء کے دور سے ایک مثال  دیتے ہوئے بتایا کہ جب زرتشتی عقیدے کے پیروکاروں کے ایک گروپ نے ہندوستان میں پناہ کے لئے درخواست دی۔ اس پر ، اس وقت کے ہندوستان کے حاکم نے دودھ سے بھرا ہوا پیالہ ان کے گروپ لیڈر کے پاس بھیجا ، جس کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان پہلے ہی بھرا ہوا ہے اور اس میں کسی باہر سے آنے والے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس پر ان کے گروپ لیڈر نے دودھ میں چینی ملا کر واپس بھجوا دی جس کا مطلب تھا کہ وہ ان کے ملک پر کوئی بوجھ نہیں ہوں گےاور چینی کی طرح مقامی آبادی میں گُھل مل جائیں گے اور مٹھاس پھیلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ زرتشترین چینی اور دودھ کے امتزاج کی طرح امن ، اتحاد اور ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں اور اسلام اور رمضان کا پیغام بھی یہی ہے-

ویبینار کے شرکاہ نے  اس بات کو باور کروایا کہ ہم تقویٰ کے حصول کے لئے روزہ رکھتے ہیں جس کا مطلب ہے خدا کی موجودگی کا ادراک رکھنا اور دوسروں کی ضروریات سے آگاہ ہونا۔ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ کس طرح ایک چھوٹے سے  خوردبینی وائرس  نے پوری دنیا کو تبدیل کردیا ہے۔ شیعہ اسکالر امام قزوینی  نے کہا کہ واقعتاً  صرف اس دفعہ رمضان میں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ایک قول کے معنی کو سمجھا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "اللہ سے دعا کرو کہ وہ آپ کو روزہ رکھنے کی توفیق دے” کیونکہ ہم اپنی جسمانی صحت کو معمول کی بات سمجھتے ہیں۔ مگر ایک چھوٹے سے  وائرس  نے ہماری تمام دنیاوی طاقت کے ساتھ ہم سب کو زمین بوس کردیا ہے۔ اب کوویڈ 19 کی وجہ سے، ہمیں اپنی حقیقت کو سمجھنے کا موقع ملا ہے اور کمیونٹی لیڈر کی حیثیت سے لوگوں کو امید دینا ہمارا مشن ہونا چاہئے۔

اسی ویبینار میں کانگریسی خاتون جوڈی چو نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ مسلم سفری پابندی پر تنقید کرتے ہوئے اپنے متعارف کردہ  "نو بین ایکٹ” کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کی یہ بل صدر ٹرمپ کے مسلم پابندی کے تینوں ورژن منسوخ کردے گا۔ "رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہمیں صدقہ اور روحانیت کی تعلیم دیتا ہے اور لوگوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی برادری کے ساتھ  اس مقدس مہینے کو ان بنیادی اصولوں کے تحت منائیں۔  اگرچہ کہ وائرس کی وبا کی وجہ  سے بہت سے خاندان ایک ساتھ مل کر رمضان نہیں منا  پا رہے ہیں  مگر بدقسمتی سے، اس سنگین صورتحال سے قبل بھی بہت سے خاندان جُدا ہوگئے تھے اور وہ نہ صرف رمضان نہیں مناسکے تھے بلکہ ان  کےلیے  شادیوں، جنازوں یا گریجویشن کی تقاریب  میں بھی  شامل ہونا    امریکا  میں داخلے پر عائد پابندی کی وجہ سے ممکن نہ تھا۔

  اس پابندی کا اطلاق تین سال قبل ہوا تھا اور اس کے تیسرے مرحلے  میں اس سال جنوری میں صدر ٹرمپ نے پابندی میں مزید 6 ممالک کو شامل کردیا ہے۔ اس نفرت انگیز پابندی سے ہماری قومی سلامتی کو نقصان پہنچا ہے اور سماجی خوف کو فروغ  ملا ہے، اور اس  کے دور رس  پرتشدد اور خطرناک اثرات ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں نے  ایک مشن کے تحت ایچ آر 2214 بل پیش کیا ہے، جو نہ صرف اس پابندی کو ختم کردے گا بلکہ ہمارے قوانین کو  اس طرح  تبدیل کردے گا کہ آئندہ کوئی بھی صدر قومی خطرہ کے ٹھوس ثبوت فراہم کیے بغیر ایسی پابندی کا نفاذ نہیں کرے گا۔ نو بین ایکٹ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ کسی بھی شخص پر صرف مذہب کی بنیاد پر امریکہ میں داخلے  پر  پا بندی نہیں لگائی جاسکتی ” انہوں نے کہا کہ  انہیں اس پر ناقابل یقین ردعمل ملا ہے اور وہ اس بل کو ایوان میں 480 گروپس ، 32 سینیٹرز اور کانگریس کے 218 ممبرز، جو ساتھی اسپانسرزہیں، کی حمایت سے پیش کریں گی۔

“مجھے ایوان کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کووڈ 19 کے بعد حالات معمول پر آنے پر یہ بل ترجیحی طور پر ایوان میں پیش کیا جائےگا۔ انہوں نے برادری میں اتحاد، کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ تنوع ہماری طاقت ہے نہ کہ ہمیں تقسیم کرنے کا ایک ہتھیار۔”  اور  یہی  اتحاد  آگے بڑھنے  کی راہ فراہم کرے گا۔

اور یہ کوئی پہلے دفعہ نہیں تھا کہ اس طرح کے نفرت انگیز قوانین یا رویوں پر بات کی گئی ہو اس سے پہلے بھی  جب کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے (14 اپریل ، 2020) کو مذہبی رہنماؤں کی ایک ویڈیو کانفرنس طلب کی تھی۔  جس  میں ہندو، عیسائی، یہودی، مسلمان اور دوسروں سمیت مختلف برادریوں کے 120 سے زائد مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ گورنر  نے کوویڈ- 19 کے وبائی مرض کے اس دور میں  امریکی کمیونٹیوں، ایشیائی امریکی، یہودی اور افریقیوں کے خلاف جاری زینفوبیا اور  بڑھتی ہوئی نسل پرستی کے سبب ہونے والے غم و غصے کا فوری نوٹس لیا ۔ اجلاس کے بعد ایک ایشیائی امریکی پادری جیفری کوان نے ایشینز کے خلاف بڑھتی ہوئی نسل پرستی کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ خاص طور پر چینی افراد کو  ، چین سے اس وبائی مرض کے آنے  وجہ سے، اپنے کام کی جگہوں پر تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے-

اسی سلسلے میں جب پاکستانی نژاد امریکی اور ملٹی فیتھ ایمپاورمنٹ کونسل (AMMEC) کی صدر انیلہ علی نے بھی کیلیفورنیا میں مقیم مسلم برادری کے نمائندے کی حیثیت کیلیفورنیا میں پھنسے ہوئے وزٹ ویزے والے مسلمانوں اور پاکستانیوں کی مسلم نماز جنازہ کے قواعد سے متعلق کمیونٹی کے خوف پراپنی تشویش کا اظہار کیا توگورنر نیوسم نے مسلم کمیونٹی کو اپنے عزم کی یقین دہانی کرائی اور انیلہ علی کی جانب سے ظاہر کیے جانے والے خدشات کو دور کرنے یا مستقبل میں کسی بھی دوسری تشویش کو دور کرنے کے لئے انہیں اپنے عملہ کے ایک فرد کے ساتھ مربوط کیا۔ گورنر آفس نے ایک ای میل رسپانس سینٹر بھی تیار کیا ہے جس پر کمیونٹی اپنے خدشات  ای میل [email protected] کے ذریعہ بھیج سکتی ہے، جس کو ترجیحی بنیاد پر دیکھا جائے گا-

اس وقت دنیا کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی اس وبا سے لڑ رہا ہے  مگر ایک وبا کا ہم بہت پہلے سے شکار ہیں اور وہ ہے مذہبی منافرت اور انتہا پسندی ،فرقہ بندی اور سیاسی  و معاشی انتشار، الزام تراشی، بیخ کنی اور نفرت جو اب شاید  ہماری فطرت ثا نیہ بن چکی ہے۔ کیا اس کرونا کے دور میں جب مختلف النوع مذاہب پر مشتمل امریکہ جیسےملک میں مذ ہبی ہم آ ہنگی کی باتیں ہو سکتی ہیں تو کیا ہم ایک اسلامی معاشرے اور اسلام کے نام پر قائم ہونے والے ملک کے شہری  ہونے کے  نا طے ان اختلافات کو بھلاکر ایک صفحہ پر نہیں آسکتے؟ کیا ابھی ہمیں اپنے ضمیر جھنجھوڑنے کے لیے نعوذوباللہ  مزید کسی سزا کی  ضرورت ہے؟  جیسا کہ ربی پیٹر لاوی نے کہا کہ کوویڈ 19 کی وجہ سے بہت کچھ بدلا ہے مگر ابھی تک بہت کچھ ویسا ہی ہے۔ ہمیں آزادی اور ذمہ داری کے مابین توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔” ہما رے لیے یہ زیادہ بڑا لمحہ فکریہ ہے ۔

حالیہ وبا اللہ جلہ شانہ کی آزمائش  یا ہمارے لئے ایک چیلنج ہے، اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا  مگر جیسا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ "بیماری اور علاج دونوں ہی آپ کے اندر موجود ہیں” ۔قوموں اور ملکوں کی زندگی  میں اس طرح کے واقعات تاریخی اہمیت  کے حامل ہوتے ہیں۔ اب تا ریخ کو ہم کیا دے رہے ہیں ہمارا آج کا عمل اس کا فیصلہ کرے گا۔

 

 

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *