Type to search

تجزیہ معاشرہ میڈیا

خلیل الرحمن قمرصاحب کی کتے کی موت مرنے کی ایک دعا

 

کچھ دنوں پہلے شیطانی ڈبے کے سامنے ضیاعِ وقت کی نیت لئے مختلف چینلز کو کھنگالتے ایک ایسے صاحب علم کی سحرانگیز گفتگو کو کانوں میں انڈیلنے کا موقع ملا، جو نام سے خلیل الرحمن قمر اور پیشہ سے ’’ماہر خواتین امور وفا داری‘‘ کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ حالات حاضرہ کے جس پروگرام میں موصوف کی لب کشائی کا خاص اہتمام کیا گیا تھا، اس میں موضوع سخن زمانہ بدنام کی ایک ’’خطا‘‘ تھی، جس کے خطاوار تو اس خطا کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں لیکن ان کے حامی نہیں۔ خیر گرما گرم گفتگو کے دوران ایک نازک موڑ پر ناظرین کے دماغوں پر اپنے دل کے گرد وغبار کو جھاڑتے ہوئے خلیل الرحمن صاحب ایک ایسی معصوم حسرت کا اظہار کر بیٹھے، جس کی خواہش ویسے تو ہر شریف النفس شخص دل میں رکھتا ہے لیکن زد زبان عام کرنے کی کوشش کوئی کوئی ہی کرتا ہے۔ حضور عالی فرماتے ہیں کہ ’’ان کا دل چاہتا ہے کہ وہ دعا کریں کہ لفافے لینے والے صحافی کتے کی موت مریں‘‘۔ اس سے پہلے کہ اشکبار آنکھیں رکھنے والا مشہور حلقہ ’’میرے پاس تم ہو‘‘ گرو جی کی اس دعا پر آمین ثم آمین کی ورد کرنا شروع کردیتا، موصوف نے بریک پر پیر رکھا اور عصرحاضر کے تقاضوں کا احترام کرتے ہوئے بولے اگر (لفافے والے کتے کی موت مرنا شروع ہو جائیں) ایسا ہو جانے تو بچیں گے کتنے؟ اور جو بچ جائیں گے ہم ان کا کیا کریں گے؟

بدقسمتی سے خواتین، صحافیوں کے بعد کتے کہلانے جانے والے یہ معصوم جانور خلیل صاحب کی اس فہرست میں شامل ہو گئے ہیں، جن سے حُسنِ سُلوک رکھنے کے وہ قطعاً روادارنظر نہیں۔ خیر اس چوپائے سے خلیل صاحب کی عداوت اپنی جگہ لیکن ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ قمر صاحب کی ’’آہیں‘‘ بدکلامیوں کی بنیاد پر صحافیوں کو تو کتے کی موت واصل کرتی ہوں لیکن حکمراں طبقہ اور ماضی کے برسر اقتدار سیاست دانوں کو مستثنٰی قرار دے سکیں؟ یہ ایلیٹ کلاسیے کتے کی موت مرنے کے حق بجانب کیوں نا ہوں جب ان کے حرکات و سکنات معاشرہ میں بے روزگاری، مہنگائی وغربت جیسے مسائل پروان چڑھاتی ہوں؟ اسی ڈگر پر قمر صاحب کے اصول کا بوجھ اٹھاتے ہوئے دوڑیں تو کیا ہماری ایسے ٹھیکے دار بھی کتے کی موت مرنے کا استحقاق نہیں رکھتے جومذہب کے نام پر اخلاقی اور روحانی قدروں کو پامال کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں؟

’’صراط قمر‘‘ کی جانب ایک قدم اور بڑھاتے ہیں، کیا ایسے لوگ ’’غیرکتے‘‘ کی موت مرنے کے حقدار ہیں جن کی جھولیاں قانونی ذمہ داریوں، اختیارات، نامزدگیوں، اور معاشرتی اصول وضع کے سازومان سے بھری پڑی ہیں لیکن وہ اس کو غریب کی منڈی کی بجائے بلیک میں بیچنے پر مصر ہوتے ہیں؟ یہ بھی تو ناممکن ہے کہ قمر صاحب منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کیخلاف امتیازی سلوک برتے ہوئے ان میں کتے کی موت مرنے کا لنگر نا بانٹیں؟ کیا یہ خدائی فوج۔۔۔۔ معذرت ایڈیڑ صاحب براہ کرم یہ جملہ کاٹیں، میرا بٹن ڈھیلا ہے۔۔۔۔!

خیر اس معاشرے میں کتے کی موت مرنے کا ہر وہ شخص مستحق ہے جو اخلاقی گراوٹ، اعلیٰ اقدار کی کمی اور عملیت کے فقدان کی وجہ سے بگاڑ میں اپنا بھرپور کردار ادا کر کے جہنم واصل ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے کتے کی موت مرنے کی دعائیں مانگنے کی قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ حقیقی طور پر یہ لوگ مرتے ہی کتے کی موت ہیں! جس کا ہم ادراک نہیں کرپاتے ہیں۔ اب اگر قمر صاحب کے سوال کا جواب دیں کہ بچیں گے کتنے اور ہم ان کا کیا کریں گے۔

تو جناب ایسی دعاوں کی قبولیت کے بعد وفاداری اور ایثارومحبت کے پیکر یہ ’’کتے‘‘ ہی بچ بائیں گے جنہیں ہم تضحیک آمیز لقب سے نواز کر اپنی اس خفت کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمیں احساس کمتری میں مبتلا کرتی ہیں۔ اور بچ جانے والوں کا ہم کچھ نہیں کرسکیں گے کیونکہ وہ تو زمین پر بن جانے والی جنت میں خوب عیش کررہے ہوں گے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *