Type to search

بلاگ تجزیہ تعلیم

آن لائن تعلیم اور ای لرننگ کے نفاذ سے قبل ان اقدامات پر عملدرآمد کی اشد ضرورت ہے

پاکستان میں نظام تعلیم پرائمری، مڈل، سکینڈری، ہائرسکینڈری اور ہائر ایجوکیشن پر مشتمل ہے۔ زیادہ تر روایتی طریقہ تعلیم رائج ہے جبکہ آن لائن تعلیم کا کلچر نہ ہونے کے برابر ہے۔ 14 مارچ 2020 کو جب حکومت نے تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کیا، تب سے حکومت اور پرائیویٹ ادارے آن لائن تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے جس کے لیے حکومت نے ٹیلی سکول کے نام سے ایک ٹی وی چینل شروع کیا، جس کے ذریعے نرسری سے بارہویں جماعت تک کے طالب علموں کو مختلف مضامین پر لیکچرز دیے جاتے ہیں۔

اس چینل پر نشر کیے جانے والے لیکچرز کو دیکھ کر سب سے پہلا خیال جو دماغ میں آتا ہے وہ یہ کہ پڑھانے کے لیے سب سے اہم جزو یعنی Assessment کا کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا، اس کے علاوہ ہوم ورک جیسے لازمی حصہ تعلیم کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس لیے ٹیلی سکول کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے۔

اگر آن لائن تعلیم کا ذکر کیا جائے تو ہائر ایجوکیشن میں پاکستان میں ورچوئل یونیورسٹی اسے بہت احسن طریقے سے سر انجام دے رہی ہے جبکہ سکینڈری، ہائر سیکنڈری کی سطح پر پاکستان میں آن لائن تعلیم کا کوئی قابل ذکر ادارہ موجود نہیں ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں تقریباً 60 فیصد سے زائد آبادی دیہی علاقے میں آباد ہے وہاں آن لائن تعلیم کا نفاذ انتہائی مشکل ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد آن لائن تعلیم پر بحث کا آغاز ہوا، اس سے قبل صرف ہائر ایجوکیشن کے لئے آن لائن تعلیم کا موضوع زیر بحث رہا لیکن اب لاک ڈاؤن کے سبب سکینڈری اور ہائر سکینڈری کے طالب علموں کے لیے بھی آن لائن طریقہ تعلیم پر بحث جاری ہے۔

یہاں پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آن لائن تعلیم سے ہمیں کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟

آن لائن تعلیم کا ایک فائدہ یہ ہے کہ طلبہ کسی مقررہ شیڈول کے پابند نہیں ہوتے۔ کلاس روم کی ایک روایتی ترتیب میں، کلاس کے اوقات طے ہوتے ہیں اور طالب علم کو اس پر کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ زیادہ تر لوگ جو آن لائن تعلیم کا انتخاب کرتے ہیں وہ تعلیم اور دوسرے کاموں میں توازن قائم کرنے میں آسانی محسوس کرتے ہیں۔ دوسرا فائدہ یہ کہ مختلف وجوہات کی بنا پر آن لائن تعلیم پر کم لاگت آسکتی ہے۔ مثال کے طور پر سفر کرنے کے لئے کوئی لاگت نہیں ہے۔ مختلف اخراجات جو نقل و حمل سے متعلق ہیں۔ جیسے ایندھن، پارکنگ، کاروں کی دیکھ بھال اور عوامی نقل و حمل کے اخراجات آن لائن طالب علم کو متاثر نہیں کرتے ہیں۔ جبکہ انتہائی اہم، آپ کو درکار تمام معلومات محفوظ طریقے سے کسی آن لائن ڈیٹا بیس میں محفوظ ہوتی ہیں۔ اس میں لیکچرز، دستاویزات، تربیتی مواد اور ای میلز جیسی چیزیں شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر لیکچرز کے بعد بھی کوئی ایسی چیز ہے جس کی وضاحت کی ضرورت ہو تو، طالب علم قیمتی وقت کی بچت کرتے ہوئے، ان دستاویزات تک تیزی سے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

روایتی تعلیم کو آن لائن طریقہ تعلیم سے بدلنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ طالب علموں کو ای لرننگ E-learning کی تربیت دی جائے کیونکہ اس تربیت کے بغیر آن لائن تعلیم ایک خواب کے علاوہ کچھ نہیں۔ 2019 میں مجھے ورچوئل یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرتے ہوئے تھیسیس پر کام کرنے کا موقع ملا جس کا عنوان تھا “student’s attitude towards e-learning”۔ یہ سٹڈی دیہاتی علاقوں میں کی گئی جس سے حاصل ہونے والے نتائج کا ذکر ذیل میں کیا جائے گا۔ اس سٹڈی کا بنیادی مقصد ای لرننگ کی طرف طلبہ کے رجحان کو جاننا تھا۔

سٹڈی میں ہم نے دریافت کیا ہے کہ طلبہ در حقیقت ای لرننگ کی طرف مائل ہیں لیکن کچھ مشکلات ہیں جو روایتی تعلیم سے آن لائن تعلیم کی طرف آنے میں رکاوٹ کا باعث ہیں۔ بیشتر طلبہ  کے پاس اپنا ذاتی کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ نہیں ہوتا لہذا وہ ای لرننگ کے ذریعے سیکھنے کے قابل نہیں ہوتے، یہاں تک کہ طلبہ کے پاس انگریزی زبان کی اتنی مہارت بھی موجود نہیں ہے جو کمپیوٹر کو چلانے کے لئے ضروری ہے، نہ صرف زبان کی مہارت بلکہ کمپیوٹر استعمال کرنا بھی ان کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ وہ مائیکروسافٹ ورڈ، سپریڈ شیٹ یا دیگر ضروری سافٹ ویئر استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔

اس سٹڈی کا دوسرا مقصد سیکنڈری سطح پر ای لرننگ کے نفاذ میں رکاوٹوں کو جاننا تھا، ہم نے اساتذہ سے ای لرننگ کے نفاذ میں درپیش مشکلات کے بارے میں جاننے کے لئے ایک سوال نامہ تیار کیا۔ اس کے ذریعہ ہم نے دریافت کیا کہ تقریباً نصف اساتذہ انگریزی زبان اور کمپیوٹر آپریٹ کرنے کی مہارت نہیں رکھتے تھے اور ان صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے انہیں تربیت کی بھی ضرورت ہے۔ اس سٹڈی کا آخری مقصد یہ تھا کہ ای لرننگ کو مؤثر طریقے سے کیسے نافذ کیا جائے۔ اس بارے میں ہم نے اساتذہ کے نقطہ نظر کا پتہ لگانے کی کوشش کی، اس تحقیق میں شامل اساتذہ کی رائے یہ تھی کہ حکومت کو تربیت پر زیادہ سے زیادہ فنڈ خرچ کرنے چاہیں اور اس کے لئے مزید سہولیات اور انفراسٹرکچر کی فراہمی بھی یقینی بنانی چاہیے۔

یہ مطالعہ دیہی علاقوں میں ای لرننگ کے نفاذ میں رکاوٹوں کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کے لئے کیا گیا تھا، اس میں جن اہم رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی تھی، وہ تھیں:

سہولیات کی کمی

انگریزی زبان کی مہارت کی کمی

کمپیوٹر کی مہارت کی کمی

سٹڈی سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر حکومت سکینڈری سکول کی سطح پر آن لائن تعلیم کا نفاذ چاہتی ہے تو اسے پرائمری کی سطح پر نصاب کو اس انداز میں تیار کرنا چاہیے کہ طلبہ انگریزی زبان پر عبور حاصل کر سکیں جو کمپیوٹر چلانے کے لئے ضروری ہے۔

کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم کو پرائمری سطح پر پڑھانا ضروری ہے تاکہ طلبہ ثانوی سطح پر کمپیوٹر کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے استعمال کرسکیں۔

تمام طلبہ کو کمپیوٹر پر کام کرنے کیلئے سکول کے کمپیوٹر لیب میں کافی وقت ملنا چاہیے۔

اساتذہ کو ای لرننگ کے ذریعے پڑھانے کی تربیت دی جانی چاہیے۔ اساتذہ کو کمپیوٹر پر ہوم ورک دینے اور اسے چیک کرنے کی تربیت دینی چاہیے۔

اساتذہ کی انگریزی زبان کی مہارت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، لہذا اساتذہ کو اپنی انگریزی زبان کی مہارت کو بہتر بنانے کے لئے تربیت دی جانی چاہیے۔

سکول کی سطح پر آن لائن تعلیم کا نفاذ کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ بچوں اور اساتذہ کو ای لرننگ کی تربیت دی جائے ساتھ ہی نصاب تعلیم کو اس طرح ڈیزائن کیا جائے کہ پرائمری سکول کے طلبہ کمپیوٹر پر اسائنمنٹ بنانے کے طریقے سیکھ سکیں۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *