Type to search

خبریں سیاست قومی کرپشن

مسلم لیگ ق کی قیادت سالوں پرانے کیسز کی دوبارہ تحقیقات پر وفاقی حکومت سے ناراض

سالوں پرانے کیسز کی دوبارہ تحققیقات کھلنے کی اطلاعات پر وفاقی حکومت اور مسلم لیگ ق میں فاصلے بڑھنے لگے۔ مسلم لیگ ق ایک بار پھر پی ٹی آئی قیادت سے ناراض ہو گئی، ق لیگ نے تحفظات پر اتحادی قیادت سے جواب مانگ لیا۔

ایکسپریس نیوز سے حاصل معلومات کے مطابق مسلم لیگ ق کے رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے، اتحادیوں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بعد ازاں مسلم لیگ ق نے ہر بدلتی صورتحال پر پارٹی کے اندر مشاورت کا فیصلہ کیا ہے اور پارٹی قیادت نے قانونی اور عدالتی فورم پر ریلیف حاصل کرنے کے تمام آپشنز استعمال کرنے پراتفاق کیا۔

مسلم لیگ ق کے رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا کہ اثاثہ جات کیس 20 سال پرانا ہے، سب سے پہلی انکوائری مشرف دور میں سامنا کیا، 17 سال انکوائری چلنے کے بعد کیس 2017 میں بند کیا گیا، ملازمتیں دینے کا کیس 34 سال پرانا ہے، اس کیس کو بھی نیب کا پراسیکوشن ونگ بند کرنے کی سفارش کرچکا ہے، قرضوں کی معافی کا کیس بھی بے بنیاد، تفتیشی بند کرنے کی سفارش کرچکے ہیں، ان حقائق کے تناظر میں نیب کا کیسز چلائے رکھنا سراسر بدنیتی ہے، نیب کا ادارہ اپنی ساکھ مکمل طورپر کھو چکا ہے۔

مسلم لیگ ق کے رہنما کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ ہم نے انصاف کے لئے عدالت سے رجوع کیا ہے، حکومت اور نیب سمیت سب کو عدالتی کیس میں اپنی پوزیشن واضح کرنا ہے اتحادی معاملات کا انحصار حکومتی رویے پر ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *