Type to search

Coronavirus خبریں سیاست میڈیا

اے آر وائی چینل کی پیپلز پارٹی کے خلاف مبینہ مہم کا انکشاف: ‘ملازم صحافیوں’ کو اعلیٰ حکام سے ملنے والی ہدایات لیک

اے آر وائی نیوز چینل جس پر اکثر اسٹیبلشمنٹ کے ماوتھ پیس چینل ہونے کے الزامات لگتے رہتے ہیں ایک بار پھر اپنے متنازعہ کردار کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ پیپلز پارٹی جس کی سندھ حکومت کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں بہترین حکمت عملی کی وجہ سے داد وصول کر رہی تھی اب اے آر وائی کے نشانے پر ہے۔ سوشل میڈیا پر لیک ہونے والی ایک دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ چینل کی جانب سے پیپلز پارٹی کے خلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

اس دستاویز میں دراصل چینل کے اعلیٰ حکام کی جانب سے اپنے نمائندگان،رپورٹرز اور دیگر فیلڈ سٹاف کو کہا گیا ہے کہ وہ پورے سندھ میں گزشتہ 10 سالوں کے دوران صحت کے شعبہ میں پیپلز پارٹی کی ایک ایک ناکامی، کوتاہی اور کمیوں کے بارے میں رپورٹس بنائیں۔

بظاہر ایک ادارتی حکم میں یہ واضح ہے کہ حکم پیپلز پارٹی کی کارکردگی کو جانچنا نہیں بلکہ اس کے منفی نکات اکھٹے کرنے ہیں۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ ہر نمائندہ ایک ایک رپورٹ فائل کرے گا جس میں بنیادی نکتہ یہ رہے کہ سہولیات نہ ہونے کا رونا رونے والے اور وفاقی حکومت پر مدد نہ کرنے کا الزام لگانے والے بتائیں کہ انکے لاکھوں ملازمین عوام کی مدد کر رہے ہیں یا وہ آرام کر ر ہے ہیں۔

گذشتہ روز اے آر وائی کے مارننگ شو میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی شو کے میزبانوں پر پھٹ پڑے اور انہوں نے اے آر وائی کو انکے مبینہ آقاوں کے اشارے پر پیپلز پارٹی کے خلاف مذموم مہم کا مورد الزام ٹھہرایا۔

اس کے بعد سعید غنی نے ٹویٹر پر اے آر وائی کے وائس پریزیڈنٹ عماد یوسف جن کی جانب سے مبینہ طور پر یہ ہدایات اپنے ملازمین کو دی گئیں تھیں متعدد ٹویٹس میں ٹیگ کیا جن میں سندھ حکومت کے بہترین کاموں کی عکاسی کی گئی تھی  اور سوال کیا کہ کیا تمہارے سندھ دشمن رپورٹر نے تمہیں یہ نہیں بتایا؟ انہوں نے چینل کی جانب سے اس مہم کو سندھ دشمنی قرار دیا۔

اس وقت #ARYNIAZI  کے نام سے ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بنا ہوا ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے اسے سندھ حکومت کی کرونا کے خلاف کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ 2014 کے دھرنے سے لے کر اب تک اے آر وائی میڈیا میں اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم سمجھی جاتی ہے۔ اس لئے اسکا جھکاؤ ہر اس سیاسی قوت کی طرف دیکھا جاتا ہے جس کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد ہو۔

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *