Type to search

Coronavirus خبریں سیاست میڈیا

سیاسی مقاصد کے لئے اے آر وائی چینل کی مبینہ پیپلز پارٹی مخالف مہم: ٹویٹر پر #LanatARY ٹاپ ٹرینڈ

  • 21
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    21
    Shares

 

اے آر وائی نیوز چینل جس پر اکثر اسٹیبلشمنٹ کے ماؤتھ پیس چینل ہونے کے الزامات لگتے رہتے ہیں ایک بار پھر اپنے متنازعہ کردار کی وجہ سے خبروں میں ہے۔ پیپلز پارٹی جس کی سندھ حکومت کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں بہترین حکمت عملی کی وجہ سے داد وصول کر رہی تھی اب اے آر وائی کے ساتھ تنازع میں ہے۔ 

اسی حوالے سے ٹویٹر پر لعنت  اے آر وائی #LanatARY کا ٹرینڈ جاری ہے۔ یہ ٹرینڈ بظاہر پیپلز پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم، اسکے کارکنوں اور اسکی قیادت کے مداحوں نے بنایا ہے تاہم اس وقت اس  ٹرینڈ کے تحت 12 ہزار کے قریب ٹویٹس کی جا چکی ہیں۔ اس ٹرینڈ کے تحت ہونے والی ٹویٹس میں خاص طور اے آر وائی کے پروگرام سرعام کے معروف اینکر اقرار الحسن کے متنازع کردار کے بارے میں سر عام روشنی ڈالی گئی ہے۔  ایک صارف نے لکھا کہ یوں #LanatARY اپنے پروگرامز کو حقائق تبدیل کرکے اور دوسروں کوبدنام کر کے سنسنی خیز بناتا ہے۔ یہ بلیک میلنگ اب بند ہونی چاہیئے۔

ایک صارف ممتاز سومرو  نے لکھا کہ اے آر وائی کو اپنا نام تدیل کر کے اے آر وائی نیازی رکھ لینا چاہیئے کیونکہ وہ سلطنت نیازیہ کی ٹرولنگ ٹیم کا حصہ ہیں۔

 

 

یاد رہے کہ دو روز قبل سوشل میڈیا پر لیک ہونے والی ایک دستاویز سے معلوم ہوا کہ چینل کی جانب سے پیپلز پارٹی کے خلاف بظاہر سیاسی مقاصد کے تحت باقاعدہ مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

اس دستاویز میں دراصل چینل کے اعلیٰ حکام کی جانب سے اپنے نمائندگان،رپورٹرز اور دیگر فیلڈ سٹاف کو کہا گیا تھا کہ وہ پورے سندھ میں گزشتہ 10 سالوں کے دوران صحت کے شعبہ میں پیپلز پارٹی کی ایک ایک ناکامی، کوتاہی اور کمیوں کے بارے میں رپورٹس بنائیں۔

بظاہر ایک ادارتی حکم میں یہ واضح  تھا کہ اس کا مقصد پیپلز پارٹی کی کارکردگی کو جانچنا نہیں بلکہ اس کے منفی نکات اکھٹے کرنے ہیں۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ ہر نمائندہ ایک ایک رپورٹ فائل کرے گا جس میں بنیادی نکتہ یہ رہے کہ سہولیات نہ ہونے کا رونا رونے والے اور وفاقی حکومت پر مدد نہ کرنے کا الزام لگانے والے بتائیں کہ انکے لاکھوں ملازمین عوام کی مدد کر رہے ہیں یا وہ آرام کر ر ہے ہیں۔

اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور صوبائی وزیر سعید غنی نے اے آر وائی چینل کی ان کوششوں کو کھلے عام چیلنج کیا۔ دو روز قبل اے آر وائی کے مارننگ شو میں سعید غنی شو کے میزبانوں پر پھٹ پڑے اور انہوں نے اے آر وائی کو انکے مبینہ آقاوں کے اشارے پر پیپلز پارٹی کے خلاف مذموم مہم کا مورد الزام ٹھہرایا۔

 

اس کے بعد سعید غنی نے ٹویٹر پر اے آر وائی کے وائس پریزیڈنٹ عماد یوسف جن کی جانب سے مبینہ طور پر یہ ہدایات اپنے ملازمین کو دی گئیں تھیں متعدد ٹویٹس میں ٹیگ کیا جن میں سندھ حکومت کے بہترین کاموں کی عکاسی کی گئی تھی  اور سوال کیا کہ کیا تمہارے سندھ دشمن رپورٹر نے تمہیں یہ نہیں بتایا؟ انہوں نے چینل کی جانب سے اس مہم کو سندھ دشمنی قرار دیا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *