Type to search

تجزیہ سیاست مذہب معاشرہ

مولانا طارق جمیل کی خان صاحب کے لیے خاص محبت

مولانا طارق جمیل صاحب ایک انتہائی نفیس شخصیت کے مالک ہیں۔ یہ ان چند ایک لوگوں میں سے ہیں جن کے ساتھ کسی  کا کوئی بڑا اختلاف نہیں ہوتا۔ ایسی عزت ہم عموماً معاشرے میں ان لوگوں کو دیتے ہیں جو انا سے خالی، بے ضرر اور اپنے کام سے کام رکھتے ہوں۔ اب جب ایسا ایک شخص اچانک سے کسی ایک کے حق میں بیان دے دے یا اپنی شخصیت کا اثر استعمال کر کے کسی ایک کو فائدہ پہنچا دے تو ردِّ عمل تو آئے گا۔

میں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ مولانا نے خود سے خان صاحب کی اس انداز میں تعریف کی کہ کسی طریقے سے ان کے سیاسی عکس پہ مذہب کی چادر چڑھا کر اس کو مضبوط کیا جائے یا ان کو ایسا کرنے کا کہا گیا یا پھر ان کی منت زاری کی گئی کہ ملک کی سالمیت کو بچانے کے لیے ایسا کرنا ناگزیر ہے۔ بلکہ میں اس بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں کہ اس سب کے بعد جو ہوا اور جو ہو رہا ہے۔

مولانا نے ایسا کیا کہا ہے کہ ایک طوفان برپا ہے سوشل میڈیا پہ جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ قصہ شروع ہوتا ہے کرونا وائرس سے۔ میں اکثر جب دوستوں کو دو متضاد زاویئوں سے گفتگو کرتے دیکھتا ہوں اور جب ان کے اظہار میں شدت آنے لگتی ہے تو ان سے کہتا ہوں کہ ایک بات یاد رکھیں! علم محدود ہے۔ جتنا بھی علم ہمارے پاس ہے وہ مکمل نہیں ہے۔ تو یہ کہنا کہ کوئی بھی چیز سو فیصد اسی ہی وجہ سے ہے خام خیالی سے کم نہیں۔ اب ایسے میں جب کوئی ایسا واقع ہو جائے جو پہلے کبھی کسی نے نہ دیکھا ہو تو سب مفکر اپنا اپنا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ سائنسدان اور مذہب سے وابستہ رفقاء اپنے اپنے علم کے مطابق وضاحت دیتے ہیں۔ پھر ان سب کی الگ الگ وضاحت ہوتی ہے۔ ہاں! ان میں ایک دوسرے کے ساتھ کچھ نا کچھ مماثلت ضرور ہوتی ہے لیکن سب کا اسرار اپنے الگ ہونے پہ ہوتا ہے۔ پھر ان سب کے اپنے اپنے ماننے اور چاہنے والے ہوتے ہیں جو مفکر کو اپنا گرو مان لیتے ہیں اور اس کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ ان کے لیے حرفِ آخر ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھیئے کہ جیسے جیسے حقائق سامنے آنے لگتے ہیں ویسے ویسے تجزیئوں میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے۔

جن تک کرونا وائرس صرف چائینہ میں تھا تو انٹرنیٹ پر ایک ویڈیوگردش کرنے لگی جس میں چائینہ کے لوگوں کو جانوروں پہ شدید ظلم کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ تو یعنی مذہبی رفقاء نے عوام الناس کے ذہنوں میں یہ بات ڈالی کہ یہ وائرس کفار پہ اللہ کا عذاب ہے۔ پھر جب یہ پوری دنیا میں پھیل گیا تو سننے کو ملا کہ یہ اللہ کا امتحان ہے۔ اب جب پاکستان میں پھیل گیا تو اس کی وہی وجہ ہے جو سب جانتے ہیں کہ وقت پہ احتیاطی تدابیر نہیں لی گئیں۔ اب مولانا کا کہنا ہے کہ نہیں۔ یہ وائرس اس لیے پھیلا ہے کہ ہم ایک انتہائی گناہ گار قوم ہیں۔ شاید ایسا ہی ہو لیکن میں چند باتیں سوچنے پر مجبور ہوں۔ جب بھی گناہ کی یا بے حیائی کی بات آتی ہے تو ہمارے یہاں یکدم سارا ملبہ عورت پر کیوں پھینک دیا جاتا ہے؟ ساری کی ساری گفتگو جنس کے گرد کیوں گھومتی ہے؟

 مولانا نے کہا کہ ہماری بچیوں کو کس نے نچوایا؟ اب یہ انتہائی مشکل بحث ہے۔ آپ خود سوچیں کہ آخر سچ کی تلاش میں انسان کہاں جائے؟ میں جب چھوٹا تھا تو میرے تبلیغی انکل مجھ سے کہا کرتے تھے کہ میوزک مت سنا کرو یہ حرام ہے۔ اب جب ایک سیاستدان یہ کہتا ہے کہ وہ ایک دن اس ملک میں عین شریعت کے مطابق انصاف کا نظام نافذ کرے گا تو اس سے ہمارے ذہن میں ایک خوفناک سی تصویر بنتی ہے کہ جیسے طالبان سے ملتے جلتے نظام کی بات ہو رہی ہے جس میں عورت برقعہ میں ہو گی، اور گانے بجانے بند ہو جائیں گے۔ لیکن کیا اسلام صرف اس ایک چیز پہ بحث کا نام ہے کہ حیا والی عورت کون سی ہوتی ہے اور میوزک سننا حلال ہے یا نہیں۔

آپ اگر توجہ فرمائیں تو ہمارے علماء دین اسلام کو صرف اس ایک نکتہ پہ لے آئے ہیں۔ تو جو لوگ ہیں ہی اس شعبے سے یعنی ان کا کام ہی گائیکی ہے یا رقس کرنا ان کے اندر ایک پچھتاوا پنپ رہا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے سب سے زیادہ گناہ گار اپنے آپ کو یہی شوبز والے حضرات سمجھتے ہیں جب یہ سب کچھ چھوڑ کے اچانک سے تبلیغ کا رخ کرتے ہیں۔ آپ اگر ان کی باتیں سنیں تو یہ زیادہ ذکر بھی انہی حوالوں کا کریں گے۔ خواتین خاص طور پر زور دیں گی کہ کیسے پردے میں وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتی ہیں اور کتنا شرمندہ ہیں اپنے ماضی پہ۔ شاید ایک قاتل کو اپنے قتل پہ اتنا پچتاوا نہ ہو گا جتنی ایک ایکٹر کو اپنی فلموں اور ناچ گانوں پہ۔ آپ حمزہ علی عباسی ہی کی مثال لے لیں۔ ایسا اسی لیے ہے کہ ہمارے رفقاء کا زور عموماً اسی زاویئے میں پھرتا ہے۔

آپ اکیلے لگے ہوئے ہیں! یہ بات مولانا نے خان صاحب سے مخاطب ہو کر کہی۔ اور ساتھ ہی کہا کہ اس ملک میں کتنے ہیں جو سچے اور ایماندار ہیں؟ اگر اس بات کی گہرائی میں جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ مولانا کہہ یہ رہے ہیں کہ اس ملک میں اکثریت جھوٹی اور بے ایمان لوگوں پر مشتمل ہے۔ ہو سکتا ہے ایسا ہو لیکن کرونا اس وجہ سے پھیلا یہ کہنا صحیح نہیں! جیسا کہ میں نے اوپر لکھا کہ علم محدود ہے۔ مولانا اپنا اندازہ لگا سکتے ہیں اور اپنے علم کی روشنی میں ایک تجزیہ دے سکتے ہیں اور بس! اس سے زیادہ کہنے کا حق صرف نبی رکھتے تھے کہ پورے یقین کے ساتھ اللہ کے حکم کو اس کے بندوں تک پہنچاتے تھے۔ جو صرف اور صرف ان کو پیغام کی صورت میں بھیجا جیتا تھا۔

جب سے مولانا پہ تنقید شروع ہوئی تو ایک بھرپور تعداد میں لوگ ان کے دفاع میں بحث کرتے پائے گئے۔ ان کے دفاع میں نہ صرف ان کے اپنے پیروکار آئے بلکہ ہر شعبہ سے یہاں تک کہ شوبز سے بھی ایک کثیر تعداد ان کے حق میں بولی۔ دو حوالوں سے لوگ مولانا پہ تنقید کو غلط اور ناجائز سمجھتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ ایک عالم دین ہیں اور عالم دین پہ تنقید کرنا اسلام میں جائز نہیں۔ اس سے ایک اور بحث نے جنم لے لیا اور وہ یہ کہ وہ عالم دین ہیں یا محض ایک اچھے مقرر۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے۔ ہم یوں کہہ لیتے ہیں کہ وہ ایک بہت مشہور مانے ہوئے اور اثرورسوخ رکھنے والی شخصیت ہیں۔

دوسرا دفاع یہ ہے کہ انہوں نے کچھ ایسا غلط نہیں کہا جس کی وجہ سے ان پہ تنقید کی جائے۔ یعنی مولانا کا کہنا کہ میڈیا جھوٹا ہے، ہم من حیث القوم جھوٹے اور بے حیا ہیں اور چند ایک پاکستانی ایماندار ہیں جیسا کہ وزیراعظم عمران خان، تمام افواج کے  چیف آف سٹاف ، انٹیریئر منسٹر اعجاز الحق وغیرہ وغیرہ۔ آئیں ان دونوں دفاع کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔

کیا ایک مذہبی آدمی کا نفس نہیں ہوتا؟ کیا نفسانی خواہشات محض جنس سے تعلق رکھتی ہیں؟ کیا ایک بہت بڑے گھر اور بہت مہنگی گاڑی کی خواہش رکھنا ہی نفس ہے؟ بعض اوقات ہم انتہائی اچھے اعمال کر رہے ہوتے ہیں لیکن اس کے پیچھے بھی نفسانی خواہشات ہو سکتی ہیں۔ کبھی کسی ایسے رشتہ دار کے ساتھ بیٹھ کے دیکھیئے جس نے اپنے خاندان والوں کے لیے بہت کچھ کیا ہو۔ وہ ایک پوری لسٹ آپ کے سامنے رکھے گا کہ کیسے اس نے مشکل میں فلاں فلاں کی مدد کی اور اس کو کوئی وصولی نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے کہ آپ مولانا کی محبت میں مجھ پہ طنز کریں کہ میں کوئی دماغی امراض کا ڈاکٹر ہوں جو بات اتنی گہری ہوتی جا رہی ہے آپ اپنی تحقیق ضرور کیجیئے گا اور غور سے مشاہدہ ضرور کیجیئے گا اپنا بھی اور اپنے اردگرد کے انسانوں کا بھی۔

جو لوگ شخصیات سے مونوس ہو جاتے ہیں وہ اپنے پیر کے خلاف ایک لفظ سننے کو تیار نہیں ہوتے۔ آخر کیوں؟ کیونکہ ان کے ذہن میں اس پیر کا تصور ایک خطا نہ کرنے والے انسان کا ہوتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ وہ پیر اپنے پیروکار کو اپنے وجود اور شخصیت کا حصہ سمجھنے لگ جاتا ہے۔ عقیدت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ اس شخص کی چال ڈھال اور روئیوں میں وہی خصوصیات آنے لگ جاتی ہیں جو پیر میں ہوں۔ آئیں اب مختلف پیروں اور ان کے مریدوں کے روئیوں کا معائنہ کریں۔ مولانا طارق جمیل کے میرید جن میں سے اکثریت کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے انہی کی طرح حلیم طبیعت اور ٹھنڈے مزاج کے لوگ ہیں۔ کچھ نوجوان اور جوان ان کے ناقدوں پہ سخت لہجے اور گالی گلوچ کرتے ہیں لیکن ابھی یہ ارتقائی عمل سے گزر رہے ہیں اور شاید نہ جانتے بوجتے ہوئے اپنی عقیدت کو ثابت کرنے کے لیے کبھی کبھی اپنے اعصاب پر قابو کھو بیٹھتے ہیں۔ خان صاحب کے مرید بالکل انہی کی طرح صبروبرداشت سے کوسوں دور، ضدی، اور غصیلے ہیں۔ جس طرح خان صاحب نے اپنے ایمانداری کو چار چاند لگائے ہیں ان کے مریدوں کے ساتھ آپ جب بیٹھیں تو نہ جانتے بوجتے ہوئے بھی آپ کو اپنا آپ ایک لمحے کے لیے چور اور وہ ایماندار لگیں گے۔ نواز شریف صاحب کی شخصیت صبر اور ضد کا ایک نمایاں مجموعہ ہے۔ وہ بہت انقلابی ہیں اور نہ ہی بہت زیادہ تابع فرمان۔ یہی خصوصیات آپ کو ان کے پیروکاروں میں ملیں گی۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پچھلے 7 سالوں سے وہ صبر بھی کر رہے ہیں اور ضد پہ بھی کھڑے ہیں۔ آج پیپلز پارٹی کی باگ ڈور آصف علی زرداری صاحب کے ہاتھ میں ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ وہ بلکل بھی انقلابی نہیں ہیں۔ان کا سب سے بڑا ہتھیار صبر اور زبان میں ٹھہراؤ کو مانا جاتا ہے۔ آپ پیپلز پارٹی کا وہ دورحکومت یاد کریں جب آصف علی زرداری صدر تھے۔ تحریک انصاف کے بعد دوسرے نمبر پر برا دورحکومت پیپلز پارٹی کے وہ مرکز میں پانچ سال تھے۔ دن رات پیپلز پارٹی پہ جو تنقید ہوتی تھی آج تحریک انصاف پہ اس کا دسواں حصہ بھی نہیں ہو رہا لیکن پیپلز پارٹی کی ٹرینگ تھی ‘برداشت’۔

ایک آخری مثال کے پڑھنے والوں کا مکمل ذہن کھل جائے اور وہ مثال ہے مولانا خادم رضوی کی۔ ان کی تقریروں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک جارحانہ شخصیت کے مالک ہیں اور تیزی دکھاتے ہیں۔ ان کے پیروکاروں کو بھی آپ ان سے زیادہ مختلف نہیں پائیں گے۔ تو گویا ہر خاص شخص اندر سے اتنا ہی عام ہوتا ہے جتنے میں اور آپ۔ تو پھر جھگڑا کس بات کا۔

ان تمام باتوں کی نظر میں میری اپنے پڑھنے والوں سے درخواست ہے کہ آپ کا پیر جو کوئی بھی ہو وہ آپ ہی کی طرح ایک آدمی ہے۔ ایک آدمی دوسرے آدمی کا روحانی نجات دہندہ نہیں ہو سکتا۔ جتنی عقیدت ہم ان عام آدمیوں کے لیے دکھاتے ہیں اگر اس کا صرف ایک فیصد نبی پاکؐ کی بے مثال شخصیت پہ قربان کر دیں تو ہماری زندگیاں بدل جائیں گی۔ اگر کسی کی شخصیت میں ڈھلنا ہی ہے تو اس کی شخصیت میں اپنے آپ کو ڈھالیں جو انسانیت کا بادشاہ تھا۔

Tags:

You Might also Like

1 Comment

  1. Mohammad Baig مئی 27, 2020

    Since you are a law practitioner so according to which laws this whole debate could be seen and reviewed so to practice for the future or even adopted as a life system having lot of benefits and getting rid of the elderly broken,rotten, and defecto orders that have not yet provide the poor or the deprived their constitutional rights and a system that let the elites and the ruler do their own with never accounted for their sins or the crimes but the people to have faced the accountability,trails and then go to the jails and wait for about 10 to 18 years for an access to justice.Last did you declared the Prophet,PBUH as the gone one then why to follow him.

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *