Type to search

بلاگ تجزیہ سائنس کورونا وائرس مذہب معاشرہ

کیا کرونا وائرس ویکسین کے ذریعے بل گیٹس فاونڈیشن مسلمان جوڑوں کو بانجھ کرنے کی سازش کر رہی ہے؟

 آپ کی آنکھوں کے سامنے پنکھا چل رہا ہو تو کیا ضروری ہے کہ یہ چل رہا ہے؟ آخر کیوں مان لیا جائے کہ موصوف واقعی ہی “چل” رہے ہیں ۔ اگر چل بھی رہے ہیں تو کیا ہوا بھی دے رہے ہیں؟ اب جو تازہ تازہ، ٹھنڈی ٹھنڈی، یا گرم ہوا آپکو محسوس ہو رہی ہے اسکی حقیقت پر ہی غور کر لیں کیا واقعی اس فتنہ نما ایجاد میں ایسا کوئی وصف ہے کہ یہ چلے اور “ہوا” بھی دے؟ کہیں ایسا تو نہیں یہ ہوا نہ دے رہا ہو بلکہ ہمیں صرف احساس دلایا گیا ہو کہ یہ ہوا کا ذریعہ ہے؟ یعنی وہ ہوا جو ہمارے الگ الگ عقائد کے مطابق ہمارے خداؤں کے حکم سے چلتی ہے ایک دھات سے بنی بے جان چیز سے کیسے حرکت میں لائی جا سکتی ہے؟ ہوا کا یہ احساس ہی دراصل وہ خوش فہمی، غلط فہمی یا اندھی تقلید ہے جو ہمیں بغیر سوچے سمجھے مغربی ایجنڈے پر من وعن عمل کرنے پر مجبور کر رہی ہے؟ یہ کوئی مذاق کی بات نہیں بلکہ ایک ناقابل یقین سچائی ہے۔

ناقابل یقین اس لئے کہ اکثریت تو وہی بات کرتی ہے جو اسے محسوس کروایا جاتا ہے یا دوسرے لفظوں میں کہیں کہ اکثریت کے پاس عقل ہے نہ شعور، نہ دین کا فہم اور نہ ہی اہل مغرب کی سازشوں کا علم، دماغ ہیں تو ایسے فکس کہ گھڑی کی سوئیوں کی مانند ایک ہی دائرے میں لگے پھرتے ہیں، غلام ابن غلام ابن غلام ابن غلام یعنی نسل در نسل غلام اذہان کا کیا لینا دینا آوٹ اف باکس سوچنے میں، کمپنی نے کہہ دیا پنکھا ہے ہوا دے گا اور ہم نے مان لیا ۔ کبھی سوچنا ہی نہیں کوئی سوچتا ہے تو وہ جسکا تعلق خود مغرب سے ہے یا جس نے کسی بڑی مغربی یونیورسٹی سے ایک آدھ ڈگری کھڑکائی ہو۔ کھڑکائی کا لفظ اس لئیے استعمال کیا کہ ان جامعات کا “بے فضول” رعب و دبدبہ جو پھیلایا گیا ہے اسے کوئی ذی شعور ہی چیلنج کر سکتا ہے تو کچھ صاحب خرد ایسے نکل ہی آتے ہیں جو بڑے ہو کر ان سے حاصل ” ناقص تعلیم ” کی توجیہی ڈگری کو اپنی جبلت پسند طبیعت سے اچھی طرح ” کھڑکا” کر ثابت کر دیتے ہیں کہ انہوں نے سازش پکڑ لی ہے. اب عام لوگ تو عقل رکھتے ہیں نہ شعور، عقل اور شعور ہو بھی تو تعلیم سے فارغ، تعلیم بھی ہو مگر دیسی تو کیا فائدہ اور اگر مغرب کی کسی بڑی جامع سے کوئی ” کھڑکی ہوئی” ڈگری لے بھی لیں تو کیا حاصل؟ اصل میں تو اسی نظام کا حصہ بن کر دانستہ یا غیر دانستہ طور پر “انہی کےایجنڈا” ہی کو فروغ دیتے ہیں ایسے میں چند انتہائی ذہین وفطین اذہان بچتے ہیں جو مایا کے بچھے اس جال سے نکل کر بلکل نئے زوایہ سے سوچتے ہیں جنکے افکار عاموں سے یکسر مختلف ہوتے ہیں۔

پنکھے کا گمراہ کن اور سازشی رویہ ان کی زیرک نظروں سے نہیں بچ پاتا اور وہ بھانپ جاتے ہیں بلکہ بھانپ کیا مکمل طور پر سمجھ جاتے ہیں کہ پنکھے کے اندر لگا خفیہ کیمرہ براہ راست سیٹلائٹ سے منسلک ہے اور دھوکا دہی کے لئیے یہ جو مُنڈی گہما کر دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں گھومتا ہے یہ سوتے، جاگتے اٹھتے بیٹھتے، ہماری جاسوسی کر رہا ہے۔ اگر یقین نہیں آتا تو زیرو زیرو سیون کی کوئی سی فلم اٹھا کر دیکھ لیں، بریکٹ فین کی طرح لگے خفیہ کیمرے اسی طرح گردن گھما گھما کر خفیہ فلمیں نہیں بناتے۔ شائد آپ کو یقین کرنے میں مشکل پیش آئے لیکن سچی بات ہے کہ جب پنکھے کا تار سوئچ میں لگایا جاتا ہے تو تار کی مدد سے آپکے فنگر پرنٹس اندر لگے کیمرے کی مدد سے سیدھا سیٹلائٹ تک پہنچتے ہیں آپ ماڈرن دکھنے کے چکر میں ہر جگہ تھمب ایمپریشن سے ایمپریشن ڈالتے رہیں اور ادھر آپکا تھمب امپریشن بھی ان تک پہنچ چکا ہے جو اسے کسی بھی وقت آپ کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں آپکی جائیدادوں پر اس نشان انگوٹھا کی وجہ سے قبضہ ہو سکتا ہے۔

آپکے بنک میں پڑی آپکی جمع پونجی غائب ہو سکتی ہے اور آپ کو غبن کے الزام میں پھنسا کر اس غبن کو ایف اے ٹی ایف کی کڑی شرائط کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے دہشت گردی ثابت کر کے گوانتا ناموبے بھی بھجوایا جا سکتا ہے پھر آپ کے پاس اپنے دفاع کا کوئی ثبوت نہیں ہو گا اور یہ سب اس لئیے ہو گا کیونکہ آپ نا سمجھ ہیں اپنا برا بھلا نہیں جانتے تو کوئی بھی آپکی لا علمی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور وہ کوئی، کوئی اور نہیں اس دنیا پر حکومت کرنے والے وہ عناصر ہیں جنکا آپکو ادراک تک نہیں۔

اب کوئی نکتہ چیں اگر یہ کہتا ہے کہ یہ تعصب ہے اور عصر حاضر کے انسان کو زندہ رہنے کے لئیے اپنی عقل، سمجھ، سماجی رتبہ اور شعور کے مطابق ” تعصب” کی ضرورت ہے تو پھر بھگتو. اب جن خواتین و حضرات کو میرا نکتہ نظر سمجھ آ گیا ہے وہ تو اس مضمون کی قرآت جاری رکھیں جنہیں لگتا ہے کہ میں کسی ” سازشی نظریہ” کا پالن کرنے کی سعی میں ہوں وہ چھٹی کریں ۔ علم و خرد ایسی بےوقعت نہیں کہ کچھ خانامہ خرابوں پر ضائع کئیے جائیں۔ ایسے فاتر العقل بار بار بھی پوچھیں گے تو ” میں نہیں بتاوں گا” میری یہ عرق ریزی صرف ان قارئین کے لئیے جو واقعی سنجیدہ ہیں اور معاملہ کی نزاکت سے متعلق تھوڑے حساس اور متجسس واقع ہوئے ہیں۔

تو اصل بات جو مقصد تھا پنکھے کی مثال کا وہ یہ ہے کہ. بل گیٹس کے خلاف امریکی عوام کی طرف سے وائٹ ہاوس میں دائر کردہ ایک پٹیشن، اب یقینا وہی قارئین یہ اہم انکشاف پڑھ رہے ہیں جو اپنی کم علمی کی وجہ سے ہٹ دھرم اور ضدی نہیں تو مزید کھل کر بات ہو سکتی ہے، چونکہ آپ تقریبا صاحب شعور ہیں اس لئیے داد و تحسین کا شکریہ۔ تو معاملہ یوں ہے کہ مذکورہ پیٹیشن میں موقف اپنایا گیا ہے کہ حکومت امریکہ اس بات کی تحقیقات کرے کہ کرونا وائرس وباء پھیلنے سے صرف چند ہفتے پہلے 18 اکتوبر2019 کو کیسے بل اینڈ ملینڈا فائونڈیشن نے John Hopkling Institute اور ورلڈ اکانومک فورم کے ساتھ مل کر Event 201 منعقد کیا جس میں ممکنا پھیلنے والی وباء کی مکمل ریہرسل کروائی گئی کہ وباء پھیلنے کے بعد کس طرح تیاری کرنی ہے۔

 

اسکے علاوہ پٹیشن میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بل گیٹس اقوام متحدہ کے اداروں WHO اور UNICEP کے ساتھ مل کر پہلے ہی ویکسینز سے کینیا کے بچوں کو ایک خفیہ اینٹیجن HCG منتقل کر کے بانجھ بناچکے ہیں۔

لہذا اب بل گیٹس پر کسی طرح بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا. اس پیتیشن میں امریکی عوام نے وائٹ ہاوس سے مطالبہ کیا ہے کہ بل گیٹس کے خلاف تحقیقات کی جائیں۔

اب آیا ہے اونٹ پہاڑ کے نیچے۔ کرونا سے متعلق پھیلایا گیا خوف اب چھٹنے لگا ہے حقائق کو آخر کر حد تک چھپایا جا سکتا ہے؟

اگرچہ اب یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ کرونا نامی کسی بیماریوں کا سرے سے وجود ہی نہیں اور یہ ڈر کا کھیل ہے جس میں عوام الناس کو ڈرا کر بل گیٹس کرونا سے بچاو کی ویکسین کی آڑ میں ہماری آنے والی نسلوں کو بانجھ کرنا چاہتا ہے۔ اس ضمن میں سب سے اہم ثبوت کراچی  کے قدیم ہسپتال کی انتہائی قدیم ہیلتھ ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمٰی کوثر کا بیان ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے اس بیان میں خود ڈاکٹر صاحبہ نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں ابتک ایک مریض بھی کرونا سے ہلاک نہیں ہوا۔ اب سوشل میڈیا پر سو کالڈ قسم کے طبی ماہرین نے اس انتہائی مفید انکشاف کو متنازعہ بنا دیا یے اور اسے فیک نیوز ڈیکلیئر کر رہے ہیں اور یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ جس نجی چینل کی ٹیمپلٹ اور بریکنگ کا پھٹہ اس “انکشاف” کو عوام الناس تک پہنچانے کے لئیے استعمال کیا گیا ہے اسی چینل پر ڈاکٹر صاحبہ بیٹھ کر خود کرونا وائرس سے ہلاکتوں کا اعتراف کر چکی ہیں۔

یعنی اس کھوکھلی اور بے تکی دلیل سے وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ڈاکٹر صاحبہ کا یہ انگشت بدنداں کر دینے والا بیان جھوٹ ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی ڈرایا جا رہا ہے کہ اگر اس انکشاف کو سچ مان کر خوف کے اس ماحول سے آزادی چاہی یعنی خلوت یا جلوت میں جپھیاں، پپیاں قسم کی قبیحہ حرکات کیں، یا معیشت کا پہیہ چلانے کی کوشش کی جو کرونا سے پہلے ہی جام تھا یا تعلیمی ادارے کھولے جنکی کارکردگی کرونا سے پہلے بھی صفر بٹہ صفر تھی تو کرونا جو اصل میں کہیں بھی وجود نہیں رکھتا پھیل سکتا ہے اور بڑے پیمانے پر جنگ عظیم دوئم کی طرح لاشیں گرا سکتا ہے ۔

چلیں ایک فیصد مان ہی لیا جائے کہ کرونا نامی کوئی بیماری ہے اور یہ نقصان دہ بھی ہے تو اسکے لئیے بل گیٹس ہی کی ویکسین کیوں؟؟؟ کیا ہم لندن کے پی ایچ ڈی ڈاکٹر نذیر احمد کے کامیاب طریقہ علاج سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے جنہوں نے بے اولاد حضرات کے بعد اب کرونا کو بھی چیلنج کر رکھا ہے اور ایسے 400 بیوقوفوں کا کامیاب علاج صرف 12 گھنٹے میں کر چکے ہیں پی ایچ ڈی ڈاکٹر نذیر احمد لندن والے تو کسی بھی قسم کے نزلہ و زکام کا علاج اپنے قہوہ سے ایسا کرتے ہیں کہ بقول انکے جب نو نو کوس دور بچہ کھانستا ہے تو ماں کہتی ہے وغیرہ وغیرہ. کرونا بذات خود ایک سازشی نظریہ ہے جسے عقل فہم رکھنے والوں نے مسترد کر دیا ہے اب جبکہ کرونا کی سازش بے نقاب ہو چکی ہے اور بل گیٹس کی ویکسین کے مدمقابل ڈاکٹر نذیر احمد پی ایچ ڈی لندن والے کا علاج بھی دریافت ہو چکا ہے تو ہمارا، بھی امریکی عوام کے شانہ بشانہ وائٹ ہاؤس سے مطالبہ ہے، بجلی دو نہ پانی دو، بس بل گیٹس کو تم پھانسی دو۔ 

 

نوٹ : آپ یہاں تک آہی گئے ہیں تو محترم/ محترمہ عرض یہ ہے کہ اس قسم کے سازشی مفروضے آپ کے لئے انتہائی موذی ہیں۔ ان سے بچیئے۔ وہ کیا ہے مصنف آج اکیلے اور ویلے تھے۔۔ بس دل کیا کہ سازش کا کھیل لفظوں میں رچایا جائے۔ہاں ہاں، ہنسی آرہی ہے۔ خوب ہنسیئے جناب، اپنی سادہ لوحی پر خوب ہنسیئے۔ اور ہاں، جاتے جاتے وہ سامنے کیمرے میں ہاتھ ہلاتے جایئے گا۔ اللہ نگہبان

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *