Type to search

تاریخ جمہوریت فیچر

1947 سے لے کر آج تک مایوسیوں کا سفر طےکیا: نامور محقق اور تاریخ دان کے کے عزیز کا انٹرویو

عالمی شہرت کے حامل محقق و مورخ پروفیسر  خورشید کمال (کے کے) عزیز لائل پور کے قریب ایک چھوٹے سے گاؤں میں 1927 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے 40 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں اور آج بھی بر صغیر کے مسلمانوں کی تاریخ پر کام کر رہے ہیں۔

ان کا تعلق بٹالہ کے ایک پڑھے لکھے خاندان سے ہے- ان کے والد بیرسڑ میاں عبدالعزیز مغل مورخ تھے- وہ پہلے ہندوستانی تھے جنہوں نے ہیر وارث شاہ کا سٹینڈرڈ نسخہ پہلی دفعہ چھاپا- ان کے دادا شیخ عبد القادر، علامہ اقبال کے قریبی دوست تھے۔

 وہ دس سال کی عمر تک سکول نہیں گئے- بعد میں انہوں نے گورنمنٹ کالج اور ایف سی کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج سے ایم اے انگلش کیا- بعد میں انہوں نے پولیٹیکل سائنس میں بھی ایم اے کیا تاکہ، والدین کی خواہش پر وہ مقابلہ کا امتحان دے سکیں مگر انہوں نے امتحان میں حصہ نہیں لیا۔ انہوں نے اپنے کیریر کا آغاز گورنمنٹ کالج میں لیکچررشپ سے کیا لیکن پھر مانچسڑ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے کے لئے ولائت چلے گئے-جب وہ واپس آئے تو انہیں پتہ چلا کہ  محکمہ تعلیم نے انہیں گورنمنٹ کالج کیمل پور تبدیل کر دیا ہے- حالا نکہ وہ اپنے شعبہ سے پہلے استاد تھے جنہوں نے ڈاکڑیٹ کی تھی۔

انہوں نے پوفیسر اشتیاق حسین جو اس وقت کراچی یونیورسٹی کے وی سی تھے کے ساتھ مل کرStruggle for Pakistan لکھی-ان کا الزام ہے کہ ڈاکڑ اشتیاق نے یہ کتاب اپنے نام سے چھاپ دی-کیونکہ ڈاکڑ عزیز ایک آزاد سوچ کے حامل تھے اس لئے انہیں کسی یونیورسٹی میں ملازمت نہیں ملی سو وہ خرطوم یونیورسٹی چلے گئے اور وہاں دس سال رہے- 1973میں انہیں ذولفقار علی بھٹو نےNational Commission of Historical and Cultural Affairs کی سربراہی کی دعوت دی-ان کو جنرل ضیاالحق نے 1977 میں معطل کر دیا- انہوں نے1978 میں جبر کے تحت اسعتفیٰ دے دیا-کیونکہ انہوں نے ذولفقار علی بھٹو کے بنگلہ دیش پر مشیر کے طور پر کام کیا تھا اس لئے انہیں بھٹو کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا-1978 کی بعد وہ واپس خرطوم یونیورسٹی چلے گئے-وہ Heidelbeg University کے وزٹینگ پروفیسر بھی تھے- وہ 1986 میں واپس پاکستان آئے۔

وہ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ پر اپنا نقطہ نظر رکھتے ہیں-وہ مسلم لیگ کے آزادی کی تحریک  میں  کردار کےبعض پہلووں کے ناقد ہیں-وہ لکھنو پیکٹ کے ناقد ہیں اور اس کو مسلم لیگ کی کوتاہ نظری کہتے ہیں جس میں اس نے دوسرے صوبوں میں لیوریج حاصل کرنے کی لئے اکثریتی مسلم صوبوں بنگال اور پنجاب  کے حقوق کا سودا کرلیا۔

ان کی مندرجہ ذیل کتابیں ہیں۔

Britain and Muslim India –some problems of research in modern history, The Making of Pakistan, Amir Ali his life and works, The historical background of Pakistan, The All India Muslim Conference, The Indian Kahlafat Movement,, Britain and Pakistan, Party Politics in Pakistan, The British in India, Complete Works of Amir Ali (2) Volume, Muslim Under Congress rule (2 volume), A History of Idea of Pakistan (5 volume), Ramat Ali, a biography.

اپنی کتابوں میں وہ Britain and Pakistan; Bangladesh Crisis سے خوش نہیں ہیں-ان کا خیال ہے کہ وہ باہر رہنے کی وجہ سے پاکستان کے سرکاری پراپیگنڈہ کا شکار ہو گئے تھے-وہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ واحد کتاب ہے جو معیار کے مطابق نہیں-

ان کا ایک انٹریو پیش خدمت ہے۔

سوال: آپ مورخ کیسے بنے؟

جواب: یہ ایک اتفاق ہے کہ میں پولیٹیکل سائینٹسٹ بننے کی بجائیے مورخ بن گیا- میں ایم ایس سی کرنے کے بعد اپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ کی لئے موضوع ڈھونڈ رہا تھا- میں نے تین ٹاپکس کے سائنوپسس بنائے- پاکستان میں 1947-1958 پارٹی پالیٹکس-پاکستان کی عدلیہ کا مطالعہ- برطانوی پبلک اوپینین بمقابلہ ہندوستان میں مسلم نیشنلزم۔

جب میں یہ تینوں ٹاپکس اپنے پروفیسر کے پاس لے کر گیا تو اس نے فورا ہی دوسرا ٹاپک اس لئے مسترد کر دیا کہ میری قانون کی تربیت نہیں ہے- میں اس کی کوشش نہیں کر سکتا- پہلے خیال کے بارے میں اس نے کہا کہ گیارا سال کا دور ایک پی ایچ ڈی کے کی لئے بہت کم مواد مہیا کرتا ہے- اس وجہ سے میرے لئے صرف تیسرا موضوع ہی رہ گیا- میں خوش ہوں کہ اس تطہیر کے عمل کے نتیجہ میں یہ ٹاپک میری توجہ کا مرکز بنا-یقیننا اس کا مطلب بہت زیادہ کام کرنا تھا- دوسرے ٹاپکس سے بھی زیادہ-

میرا خیال ہے کہ میں دنیا کے ان معدودے چند آدمیوں میں سے ہوں جس نے ماضی کے پچاس سالوں کے پانچ یا چھ بڑے اخباروں کا مطالعہ کیا- میں نے برطانوی رسائل کا مطالعہ کیا-برٹش پارلیمنٹ ، ہاوس آف کامنز اور ہاوس اف لارڈ میں بحث مباحثہ مختلف سیاسی جماعتوں بشمول لیبر،لبرل، کنزرویٹو اور کمونسٹ پارٹی کی قراردادیں-

میرا تھیسس بعد میں نگلینڈ میںMuslims in British India کے نام سے چھپا- یہ میری پہلے تحقیقی اور علمی کتاب تھی-

اپنے تھیسس کے لئے میں نے برٹنڈ رسل کے طویل انڑویو کئے- میں نے ٹائن بی سے مختصر مایوس کن انڑویو کیا- میں نے سر پی جے گریگ اور ہندوستان/پاکستان کے آخری کمانڈر ان چیف اور سپریم کمانڈر  فیلڈ مارشل آکلینڈ سے کئی دفعہ ملا- سو تھیس لکھنا نہ صرف تحقیقی  کام تھا بلکہ ذاتی طور بھی بہت  مفید تھا- کیوں کہ اس نے مجھے بڑے بڑے لوگوں سے ملنے کا موقع دیا اور یہ جاننے کا موقع بھی دیا کہ وہ ہندوستان کو اپنے قیام میں کیسے دیکھتے ہیں-

سوال: آپ آج بنگلہ دیش کے مسئلہ کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: میں حال ہی میں بنگال مسلم لیگ تا ریخ  1906-194پڑھ رہا تھا جو کہ ایک بنگالی سکالر نے لکھی ہے وہ ڈھاکہ یونیورسٹی میں پڑھا رہا ہے- یہ زبردست چشم کشا کتاب ہے- اس نے کراچی میں دستاویزات دیکھیں اور اسلام آباد آرکائیوز میں جناح کی اس مسئلہ پر تحریریں دیکھیں-اس نے دوسری دستاویزات برطانیہ کے سرکاری  آرکائیو سے اکھٹی کیں- یہ مسلم لیگ کی زبردست تاریخ ہے- کتاب پڑھنے کے بعد اور ان ماخذوں کو دیکھ کر جن کا اس نے حوالہ دیا ہے- مِیں سمجھتا ہوں کہ اس  کی آدھی ذمہ دارای آل انڈیا  مسلم لیگ پر ہے۔

پاکستان کا بنگالیوں کے ساتھ ہتک آمیز رویہ بعد کی بات ہے- بنگال مسلم لیگ کے لیڈرون کے ساتھ رویہ اس سے بھی بدتر تھا-1947 کے بعد پاکستانی حکومت، مغربی پاکستان کے سرمایہ دار، جو مشرقی پاکستان میں آباد ہو گئے تھے- اور سرکاری ملازم جو کہ پنجابی اور اردو بولنے والے تھے کا بنگالیوں سے برتاو اچھا نہیں تھا- بنگالیوں کا پاکستان کی طرف رویہ کلی طور پربدل گیا تھا حتیٰ کہ اس سے پہلے انہوں نے پاکستان سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا- وہ مناسب موقع کا انتظار کر رہے تھے-

سو بطور ایک سکالر، مورخ اور سیات کے طالب علم کے میں یہ سمجھتا ہوں کہ بنگلہ دیش بنانے کے ہم خود مکمل طورپر ذمہ دار ہیں- بد قسمتی سے ان حقائق پر نہ ہی مناسب طریقہ سے  تحقیق کی گئی ہے اور نہ ہی ان کا مطالعہ کیا گیا ہے-میں نے کوئی بھی کتاب نہیں دیکھی جس میں کہ 1971 میں ہونے والی غلطی کا بے لاگ تجزیہ کیا گیا ہو اور جس میں سرکاری عہدوں پر براجمان لوگوں کو ایمانداری سے ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہو-

سوال: بطور ایک مورخ کے جنہوں نے تحریک پاکستان پر لکھا ہے- کیا آپ ان مورخین سے اتفاق کرتے ہیں  جو کہ قیام بنگلہ دیش اور دوسرے واقعات کی روشنی میں قیام پاکستان کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں؟

جواب: دوسرے مسلمان نوجوانوں کی طرح میں بھی مسلم لیگ طلبا محاذ کا ممبر تھا اور مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے حق میں  بحث و مباحثہ  اور جلوسوں میں متحرک حصہ لیتا تھا-اس وقت ہم میں بہت جوش و جذبہ تھا اور ہم میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں تھی- ہم سوچتے تھے کہ ہمیں اپنے ملک کی ضرورت ہے اور  تقسیم کی بعد ہم وہاں بہتر ہوں گے- اور ہم یہ سوچتے تھے کہ پاکستان کا قیام نہ صرف ہماری خواہش ہے بلکہ لازمی ہے-

 

میرا خیال ہے کہ مایوسی وسط پچاس کی دہائی میں شروع ہوئی- میں اس کا کئی وزیزوں کو ذ مہ دار سمجھتا ہوں- مثال کے طور پر جس سکینڈل نے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا وہ ہندوستان سے آئے ہوئے مہاجرین کی متروکہ جائیداد کی الاٹ منٹ کا تھا-جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ جس کو آپ اور ہم پاکستان کہتے ہیں میں رہنے والے غیر مسلم ، مسلمانّوں کی نسبت بہت ہی امیر تھے۔1947 میں ہجرت کرنے والے اور یہاں آنے والے مسلمان وہاں غیر مسلموں کی یہاں چھوڑی ہوئی جائیداد کا اشر اشیر بھی نہیں چھوڑ کر آئے تھے۔

میرے خیال میں دس میں سے 9 مسلم مہاجرنے جو یہاں آ ئے اپنی امارتوں کی داستانیں بیان کیں- بڑی حویلیاں ، کئی مربعہ زمین اور کامیاب کاروبار۔ سب جھوٹے دعویٰ تھے- ان کے ساتھ مقامی لوگ بھی شامل ہو گئیے جو کبھی ہندوستان نہیں گئے تھے- وہ متروکہ جائداد کی الاٹ منٹ میں اپنا حصہ چاہتے تھے-

 

مجھے یاد ہے کہ تقسیم سے پہلے انارکلی میں مسلمانوں کی دو اور پورے  مال پر دس سے زیادہ دوکانیں نہ تھیں۔ جبکہ ہندووں کا چھوڑا ہوا ہر دوسرا گھر فرنشڈ تھا- ایسی  کئی مثالیں ہیں کہ مقامی لوگوں نے کئی گھر اپنے نام الاٹ کر وا لئے، کچھ دن وہاں رہے اور پھر اسے بیچ کر دوسرے میں چلے گئے-میرے خیال میں یہاں سے  بڑے پیمانے پر کرپشن شروع ہوئی۔

پھر نوکر شاہی، سرکاری ملازمین اور فوج میں جلد ترقی- کیوں کہ افسران کی کمی تھی- سو راتوں رات جو سپرانٹنڈنٹ تھے  وہ انڈرسکریڑی، جائنٹ سیکریڑی اور سیکریڑی بن گئے۔

میرے خیال میں یہ مایوسی کا سفر تھا جو ہم نے 1947 سے آج تک طے کیا-اور میرا یہ یقین ہے کہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا-

 

سوال: آپ نہیں سمجھتے کہ اس سے مولانا ابو الکالم اور مولانا حسین احمد مدنی کا موقف درست ثابت ہوتا ہے جو قیام پاکستان کے خلاف تھے؟

 

جواب: مِیں نہیں سمجھتا ان کا موقف درست تھا کیو ں کہ ہندو مسلم مسئلہ تیس اور چالیس کی دہائی میں بہت آگے بڑھ چکا تھا- میں یقیننا سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کی  تقسیم ضروری ہو چکی تھی- کم از کم ہندو اور مسلمانوں میں بڑھتی  ہوئی نفرت- تشدد اور مذبی فسادات، حتیٰ کہ کانگرس اور مسلم لیگ کی قیادت میں تعلقات میں اس  قدر بگاڑ آگیا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تقسیم ہونا ضروری تھی- لیکن یہ مجھے کوئی اور چیز یاد دلاتی ہے کہ پاکستان کے قومی مورخ آزاد اور قوم پرستوں سے اتفاق نہ کریں کیونکہ انہوں  نے قیام پاکستان اور تحریک  پاکستان کی مخالفت کی تھی اور مسلم لیگ کے ناقد تھے- لیکن جو میں سمجھ نہیں سکا وہ یہ ہے کہ پاکستانی مورخ جو بر صغیر کی مسلم قوم پرست تحریک کو مسلم لیگ سے جوڑتے ہیں-چلیں 1906 میں مسلم لیگ کے قیام سے شروع کرتے ہیں- اب 1906 تا 1947 سوائے آخری نو، دس سالوں کے جب مسلم لیگ ایک عوامی پارٹی بن گئی- اور جناح کی قیادت میں پاکستان کا خیال دیا-1906-1934 شائد مسلمانوں کی اکثریت کے خیال کی  نماندہ ہو    شائد آدھے مسلمان لیکن یقیننا ایک عوامی پارٹی نہ تھی جس طرح کہ کانگرس ایک عوامی پارٹی تھی-

میں اسے اس طرح سے دیکھتا ہوں کہ بیسویں صدی میں مسلمان مکتبہ فکر ، سیاسی نظریات اور سیاسی پارٹیاں پیدا کیں، ہر کوئی اپنے طریقے سے تھوڑے سے لوگوں کو ایک چھوٹی سی تعداد کو متاثر کرتا تھا- سارے یہ خیالات، نظریات ۔ نقطہ نظر سے مسلم قومی تحریک بنتی ہے- مودودی کی جماعت اسلامی نے اس میں کردار ادا کیآ،کمونسٹ پارٹی نے کردار ادا کیا-آزاد نے اس میں بہت اہم کردار ادا کیا- دوسرے لیڈر اور تحریکوں نے کردار ادا کیا- احرار، خا کسار اور خدائی خدمت گار کو مت بھولیں- صوبہ سرحد ان کے کنڑول میں تھا- حنہوں نے  پشتونوں میں سیاسی شعور اجاگر کیا

 

جن کے بارے میں عام طور پر یہ کہا جاتا تھا کہ وہ پسماندہ ہیں اور ان میں سیاسی شعور نہیں ہے-غفار خان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ  اس نے اپنے لوگوں کو سیاسی شعور دیا- احرار پنجاب کے مقامی تھے- پنجاب کے نچلے اور درمیانہ طبقہ کی نمائندگی کرتے تھے-ان کی شلعہ بیانی کے باوجود عطا اللہ شاہ، احرار نے کچھ سال لوگوں کو رائے عامہ کو متاثر کیا- اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ایک زمانے میں مسلم لیگ نے احرار کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا کیونکہ کوئی اور اتحادی اور مدد گار نہ تھا-

اسی طرح آزاد کی ہندوستان کی سیاست میں کنٹریبیوشن نمایاں تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ تھی-اس کا کردار اردو لڑریچر، اسلامی سوچ، ہندوستان کے مسلمانوں میں الہلال اور البلغ کے ذریعہ سوچ پیدا کرنا بہت قابل تعریف ہے- آزاد پاکستان کو لیڈر کے طور پر قابل قبول نہیں لیکن یقیننا وہ ہندوستانی مسلمانوں کا لیڈر تھا-یہ بات ڈاکڑ انصاری کے بارے میں بھی سچ ہے- پاکستانی مورخ سرخ پوشوں کو اس وجہ سے مسترد کرتے ہیں کینکہ وہ مسلم لیگ کے دائرے سے باہر تھے-

یہی منطق پنجاب کی  نیشنلسٹ یوننسٹ پارٹی کے مطالعہ پر لاگو کیا جاتا ہے- میں روزانہ اردو اخبارات میں یہ پڑھتا اور سنتا ہوں کہ وہ پاکستان کے دشمن تھے کیونکہ انہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی- اسی وجہ سے کوئی بھی یوننسٹ ماضی کے ساتھ مشتبہ سمجھا جاتا ہے- میرَے خیال میں تاریخ  کو بڑے پیمانہ پر غلط طور پر پیش کیا جاتا ہے اوریہ  ہماری  لاعلمی کا نتیجہ ہے-یوننسٹ پارٹی لکھنو پیکٹ کی پیداوار ہے- جو 1916 میں مسلم لیگ اور کانگرس کے درمیان ہوا تھا- اس معاہدہ کے تحت ایک لین دین ہوئی تھی جس کے تحت کانگرس نے  مسلمانوں کے لئے جداگانہ انتخابات مانے تھے۔ مسلمانوں کا یہ غلط خیال تھا کہ یہ اس کی عظیم  فتح ہے- کسی کو اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ کانگرس سے یہ رعائت حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں نے کیا قیمت ادا کی – اس کی قیمت یہ تھی کہ پنجاب اور بنگال مستقل طور پر ٹکڑے کر دئے گئے- مستقل طور پر عددی برتری ختم کر دی گئی اور قانون سازی اور  وزارت بنانے کے لئے دوسری اقلیتوں کو ساتھ ملانا پڑتا-

 

سو لکھنو پیکٹ کو تاریخی طور پر عظیم فتح قرار دینے کے بجائے بہت بڑی غلطی کہنا چاہئے- مسلمانوں کی خوش قسمتی سے یوننسٹ پارٹی کا مدارامہام لیڈر میاں فضال حسین اپنے وقت کا مسلمانوں کا سب سے قابل لیڈر تھا-جس نے پہل قدمی کی اور وقت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پنجاب میں  وزارت بنا لی-

 

سوال: یہ بحث آج بھی جاری ہے کہ پاکستان کا تصور ایک مذہبی یا سیکولرریاست بنانا تھا-آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

جواب: میرے خیال میں اس کا جواب بہت سادہ اور آسان ہے- اگر آپ دیکھیں کہ اس کے بنانے والے کیا کہہ رہے تھے، خاص کر جناح کے خیالات تو یہ ظاہر ہوگا کہ وہ مسلمانوں کے لئَ ریاست بنانا چاہتا تھا-جہاں اکثریت مسلمان ہو- میرے خیال میں جناح بہت سمھجدار تھا کہ اس نے مسلم ریاست نہ کہ ‘اسلامی ریاست’ پر زور دیا- کیونکہ بطور سیاست کے طالب علم کے اسے معلوم تھا کہ اسلامی ریاست کا تصور پنڈورا بکس کھول دے گا-

دنیا میں کہیں بھی، کسی بھی اسلامی ملک میں اس بات پر اتفاق نہیں  ہوا ہے کہ اسلامی ملک کیا ہے، ریاست کیا ہے- اس کی بنیادِ ، اس کا تصور اور ڈھانچہ کیا ہو-حس کی بنیاد پر بھی مختلف بہت سارے خیالات ہیں-در حقیقت اسلام میں پاپائیت کا کوئی تصور نہیں ہے- کوئی مسلم مذہبی نکاح اور جنازہ پڑھا سکتا ہے- جہاں کلرجی کا تصور نہیں ہے وہاں پاپائیت  سیاسی  منظرنامہ  میں کہاں سے آسکتی ہے- مجھے سمجھ نہیں آتا-

 

سوال: آپ نے بھٹو کے ساتھ کچھ عرصہ کام کیا ہے آپ اسے کن الفاظ میں یاد کریں گے؟

جواب: مسڑ بھٹو میں بہت بڑی کمزوریاں تھیں- وہ اپنے فیوڈل پس منظر سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکا- وہ کسی پر اعتبار نہیں کرتا تھا اور تنقید برداشت کرنے پر راضی نہیں تھا- وہ اپنی عادات میں آٹو کریٹ تھا اور صرف حکم دیتا تھا- وہ ماتحتی کا قائل تھا-لیکن اس کی شخصیت کے مثبت پہلو بھی تھے- اس جیسی انتھک محنت کرنے والا میں نے بہت کم دیکھا ہے- وہ روزانہ 14-16 گھنٹہ کام کرتا تھا-وہ اس معاملہ میں خوش قسمت تھا کہ وہ چار پانچ گھنٹوں کی نیند سے کام چلا سکتا تھا-عام طور پر صبح دو بجے بستر پر لیٹتا تھا-

وہ صبح چھ سات بجے جاگ جاتا تھا-لوگوں کو ملنا، فائلیں دیکھنا،انتظامی امور نمٹانا اور تقریریں کرنا- یہ سارا وقت َ جاتا تھا- کام کرنے کی یہ عادت  غالبا طالب  علمی کے زمانے سے تھی جب وہ امریکہ اور آکسفورڈ میں پڑھتا تھا- اس کی سب سے بڑی تفریح   اپنے بچوں یا دوستوں کے ساتھ رات کو ٹیبل ٹینس کی گیم تھی-

میں نے اپنی دوسری یا تیسری میٹنگ میں یہ نقطہ ان کے ساتھ اٹھایا کہ آپ اپنے اختیارات کیوں نہیں بانٹتے- میں نے اس سے کہا کہ یہ آپ کی صحت اور حکومت چلانے پر اثر انداز ہوتی ہے- ایک اور اہم بات یہ تھی کہ اپنی جا نشینی کی لائن نہ بنا کر وہ اپنے سیاسی پروگرام پراثر انداز ہو رہا ہے-جو وہ کرنا چاہتا ہے- پر اثر انداذ ہوگا-وہ مسکرایا اور کہا کہ حکومت کرنے کا صرف یہی طریقہ ہے اور ہم یورپ میں نہیں رہ رہے- مِیں سمجھ گیا کہ وہ اپنے ارد گرد ماتحت اور اسسٹنت چاہتا ہے، کوئی کولیگ، ساتھی نہیں- مسڑ جناح بھی اسی طرح کی مجبوریو میں مشکلات میں رہتا تھا- ان لوگوں کا مرتبہ اتنا اعلیٰ تھا کہ پیپل کے درخت کے نیچے کچھ نہیں اگتا-

ایک اور بھٹو کی جس چیز نے مجھے متاثر کیا وہ اس کا کتابیں پڑھنے کا شوق تھا- خدا جانے وہ اپنی مشغولیت میں سے کتاب پڑھنے کی لئے کیسے وقت نکال لیتا تھا- بعض دفعہ وہ مجھ سے جو کتاب اس نے پڑھی  ہوتی اس کے بارے میں گفتگو کرتا تھا-اس کی کمال  کی یاداشت تھی وہ کتاب سے لمبے لمبے حصہ سنا سکتا تھا- بھٹو کو نہ صرف کتابیں اکھٹا کرنے کا شوق تھا بلکہ وہ کتابیں پڑھتا بھی تھا-

ایک اور بھٹو کی خصوصیت جس کو میں نے جانا اور حیران ہوا- وہ اس کی عاجزی تھی – میرے بھٹو کے ساتھ تعلق میں ،نے  یہ دیکھا کہ وہ میرے ساتھ اپنے وزیروں سے زیادہ مہذ ب تھا- جب بھی میں پرائم منسڑ سے اس کے آفس یا گھر پر ملتا-وہ اٹھ کر مجھے کرسی پیش کرتا-اور اس وقت تک نہ بیٹھتا جب تک کہ میں نہ بیٹھ جاوں-

 

وہ مجھے تمباکو اور چائے پیش کرتا اور میرے ساتھ برابری کی سطح  پر بات چیت کرتا-گفتگو کرتا-جب وقت ختم ہو جاتا وہ کھڑا ہو جاتا-اور بعض دفعہ میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے دروازہ تک چھوڑنے آتا-صاف ظاہر ہے کہ یہ اس کی شائستگی کا مظاہرہ کرتی تھیں جو اس نے بیرون ملک اپنی تعلیم سے  سیکھا-جہاں وہ بطور طالب علم کے گیا تھا-یہ اس  کی شخصیت کا پہلو اس سے مختلف تھا جو تاثر اس کے ارد گرد کے لوگوں نے دیا تھا- مجھےبتایا گیا تھا-

 

سوال: کیا آپ پاکستان واپس آآنا چاہیں گے اگر آپ کو یہاں ریسرچ کی سہولیات میسر ہوں؟

جواب: میں واپس آنا پسند نہیں کروں گا-میں آپ کے ہر سوال کا جواب نفی میں نہیں دینا چاہتا۔ مگر جنہوں نے دوسرے مملک میں ریسرچ کی ہے انہیں پتہ ہے کہ پاکستان میں ریسرچ کی سہولیات صفر ہیں- ہماری لائبرریاں اتنی بری ہیں اور اس برے طریقے سے چلائی جارہی ہیں کہ کوئی بھی عزت دار شخص یہاں  آکر ریسرچ کرنا پسند نہیں کرے گا-لائبریری سٹاف آپ کی مدد نہیں کرتا- اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں پاکستانی سکالرز کوکوس رہا ہوں کہ وہ کام نہیں کرتے- ان سب خامیوں کے باوجود ہمارے ہاں اپنی تاریخ کے بارے میں اوریجنل سورس میڑیل ہے جو دنیا میں اور کہیں نہیں ہے-

 

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *