Type to search

تجزیہ سیاست

کیا عمران خان کو ہٹا کر اسد عمر کو انکی جگہ وزیر اعظم بنانے کی تیاری ہو رہی ہے؟

 

معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو آٹا چینی سکینڈل کی تحقیقات کے لئے قائم کمیشن میں پیش ہوکر تفتیش کاروں کے سوالات کا سامنا کرنے سے ان کے بعض قریبی رفقاء نے روک دیا۔ تاکہ وزیراعظم کا بیان ریکارڈ پر آجانے کے نتیجے میں بعض اہم حکومتی شخصیات کی چھٹی کی نوبت نہ آسکے۔ ذرائع کے مطابق ان میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نمایاں ہیں جنہوں نے بطور وزیر خزانہ چینی کی برآمد کی اجازت دی تھی۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان چینی انکوائری کمیشن میں پیش ہونا چاہتے تھے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا ” میرے ہاتھ صاف ہیں پھر میرے پیش ہوجانے میں کیا حرج ہے؟ جو کچھ حقائق میرے علم میں ہیں ، مجھے ان سے انکوائری کمیشن کو آگاہ کردینا چاہیئے "۔ لیکن حکومت میں شامل وزیر اعظم کے بعض اہم رفقاء نے وزیراعظم کو اس اقدام سے باز رہنے پر قائل کیا ، جس میں بنی گالہ اسٹیبلشمنٹ نے بھی کردار ادا کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ کابینہ کے کپتان کے طور پر بظاہر وزیر اعظم چینی برآمد کرنے کی منظوری کے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں اور اپوزیشن نے وزیراعظم کے پیش ہونے کا مطالبہ بھی شائد اسی لئے کیا ہے تاہم وزیر اعظم کا حلفیہ بیان ریکارڈ پر آجانے پر کابینہ کے متعدد ارکان اور بعض دیگر برسر اقتدار شخصیات کے پکڑ میں آجانے کا زیادہ امکان ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ انکوائری کمیشن وزیر اعظم کے بیان کی روشنی میں متعلقہ وزراء کی برطرفی کی سفارش کر دے اور چینی کی برآمد کی اجازت دینے والے اس وقت کے وزیر خزانہ اسد عمر اور پنجاب میں اس پر سبسڈی دینے والے صوبائی وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی فوری چھٹی کروانی پڑجائے ، جبکہ ان میں سے ایک اس وقت ” پنڈی والوں ” کا چہیتا ہے تو دوسرا بنی گالہ کا۔

واضح رہے اسد عمر کو اس وقت اقتدار کے ایوانوں ، خاص کر پرائم منسٹر ہاؤس میں وہی حیثیت اور اھمیت حاصل ہے جو کبھی جہانگیر ترین کو حاصل رہی ہے۔ انہیں اس وقت غیر علانیہ ڈپٹی پرائم منسٹر تصور کیا جاتا ہے جبکہ مقتدر حلقے مبینہ طور پر بطور ” ممکنہ متبادل ” اسد عمر کی تربیت کر رہے ہیں ، مبصرین کے سنجیدہ حلقوں کا خیال ہے کہ جہاں اس وقت مقتدر حلقوں کے پاس عمران خان کے مقابلے میں کوئی قابل ذکر آپشن موجود نہیں ، وہیں بطور ممکنہ متبادل ان کے پاس اسد عمر سے بہتر کوئی شخصیت دستیاب نہیں۔ لہٰذا مقتدر حلقے بھی اس وقت کسی نئے سیاسی بحران کے متحمل نہیں ہو سکتے .

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *