Type to search

بلاگ تجزیہ حکومت سیاست

11 مئی کے پروگرام پر شاہد خاقان عباسی کے خلاف ٹرینڈ 13 مئی کو کیوں؟

سوشل میڈیا پر آج سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ٹرینڈ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں اس وقت نمبر ون ٹرینڈ ’شاہد بدزبان عباسی‘ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 11 مئی کو کیپیٹل ٹی وی کے ایک پروگرام میں انہوں نے وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی (غالباً ان کا اشارہ شہزاد اکبر کی طرف تھا کیونکہ سوال بھی احتساب سے متعلق ہی کیا گیا تھا) کے بارے میں کہا کہ جس آدمی کو ماں نہیں پہچانتی وہ SAPM یعنی وزیر اعظم کا معاونِ خصوصی بنا ہوا ہے۔ تحریکِ انصاف کی ایک پسندیدہ ویب سائٹ پر SA کو اردو زبان کا لفظ ایسے لکھا گیا ہے اور انصاف ٹائیگرز نے لنک کھول کر ویڈیو دیکھنا گوارا نہیں کی، اسے وزیر اعظم کے خلاف ہرزہ سرائی گردان کر یہ ٹرینڈ بنانا شروع کر دیا۔ بعد ازاں ویب سائٹ پر ٹائٹل اور کیپشن درست کر دیا گیا لیکن تب تک تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا ٹائیگرز شہزاد اکبر کے دفاع میں آگے آ چکے تھے۔

یہ درست ہے کہ سیاستدانوں کو بات کرتے ہوئے اپنے الفاظ کے چناؤ کا خاص خیال رکھنا چاہیے لیکن یہ بھی عجب ہے کہ شلواریں گیلی کرنےکا ذکر کرنے والے، وزیر اعظم، وفاقی وزرا اور سرکاری افسران کو کنٹینر سے ’اوئے‘ کہہ کر مخاطب کرنے والے، لوگوں کو اپنے ہاتھوں سے پھانسیاں لگانے کا عزم ظاہر کرنے والے، وزیر اعظم کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹ کر باہر لانے کے اعلانات کرنے والے، ٹیلی فون پر وزیر اعظم کو bastard کہنے والے، اور ملک کے صدر کے بارے میں یہ کہنے والے کہ آپ نے ان کو کتا کہہ کر کتے کی توہین کی ہے، ایسے رہنماؤں کے پیروکار اتنی سی بات پر بھڑک اٹھیں تو تعجب فطری ہے۔

لیکن 11 مئی کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہی ایک بات پر ٹرینڈ 13 مئی کو کیوں چلایا گیا؟

اس کی وجہ یہ تھی کہ شاہد خاقان عباسی نے 13 مئی کو پارلیمنٹ ہاؤس میں کھڑے ہو کر ایک دھواں دار تقریر کی جس میں انہوں نے حکومتی نااہلی کا پردہ فاش کر کے رکھ دیا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دنیا بھر میں ایک ٹیسٹنگ پروٹوکول ہے اور ایک ٹریٹمنٹ پروٹوکول ہے۔ پاکستان کا کیا ہے؟ کیا حکومت کوئی ایک دستاویز دکھا سکتی ہے جس میں یہ پروٹوکول واضح کیے گئے ہوں؟ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اپنی ویب سائٹ کے اوپر سوشل آئسولیشن اور قرنطینہ کا فرق واضح نہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کوئی حکومتی وزیر ان دونوں کے درمیان فرق نہیں جانتا۔ تقریر کے دوران انہوں نے وزیر اعظم کی غیر موجودگی پر بھی بار بار تنقید کی اور کہا کہ 12 مرتبہ میڈیا بریفنگز کر چکے ہیں لیکن پارلیمنٹ کے لئے ایک گھنٹہ نہیں نکال سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی ایک شخص بتا سکتی ہے جس کے اوپر ذمہ داری عائد کی جا سکے، جس کے بارے میں کہا جا سکے کہ ملک کی کرونا وائرس کے خلاف effort کو وہ شخص lead کر رہا ہے؟

پولیو وائرس سے متعلق نومبر 2019 کی پاکستان پر ایک عالمی ادارے کی رپورٹ سے انہوں نے نکات سامنے رکھے کہ حکومت صوبوں کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کرے اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کو بہتر کرے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے 32 سالہ سیاسی کریئر میں انہوں نے کسی حکومت کے خلاف اتنی سخت رپورٹ نہیں دیکھی۔ لیکن پانچ مہینے گزرنے کے باوجود حکومت کے کانوں پر اس رپورٹ کے بعد جوں تک نہیں رینگی۔ پولیو مہم کا سربراہ اس شخص کو لگایا گیا جو وزیر اعظم کا سوشل میڈیا چلاتا تھا اور پھر اس کو نکال دیا گیا کہ یہ نالائق تھا، جب کہ نالائق تو لگانے والے ہوتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کا رویہ کرونا وائرس پر بھی بالکل یہی ہے۔ سیاسی مخالفین سے بات کرنے کے لئے وزیر اعظم وقت نہیں نکال سکتے جب کہ صوبوں کے ساتھ ہم آہنگی کا عالم یہ ہے کہ سندھ حکومت نے کچھ بہتر کام کیا تو وفاق سے دو وزرا کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ ان کو جا کر گالیاں نکالو۔ انہوں نے 3 مارچ 2020 کے کابینہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے منٹس نکال کر دیکھ لیں، وہاں یہ فیصلہ ہوا کہ صوبوں کو protective kits نہیں دیں گے۔

اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں تو یہ سمجھ آئی ہے اب تک کہ کرونا کی سب سے بڑی وجہ اٹھارہویں ترمیم ہے۔ اگر اس کے خاتمے سے کرونا ختم ہوتا ہے تو کر دیں۔ این ایف سی پر انہوں نے کہا کہ اگر وفاق سمجھتا ہے کہ این ایف سی کا پیسہ صوبوں کو دینے سے وفاق کمزور ہو رہا ہے تو صوبوں کو ایک پیسہ بھی نہ دے، میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ یہ ملک تباہ ہو جائے گا لیکن وفاق کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ شاہد خاقان نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں پیسہ نہ ملا تو صوبوں کے بجٹ کا سب سے بڑا حصہ تعلیم اور صحت کے اخراجات میں صرف ہوتا ہے اور ایک پیسہ بھی کم ہوگا تو صوبے یہ رقم انہی دو ہیڈز میں سے پورا کریں گے۔

ان کے چار اہم ترین سوال یہ تھے:

نمبر 1: حکومت کی عوام میں جانکاری بڑھانے کی حکمتِ عملی کیا ہے؟
نمبر 2: وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کی حکمتِ عملی کیا ہے؟
نمبر 3: میڈیکل رسپانس حکمتِ عملی کیا ہے؟
نمبر 4: حکومت کی معاشی منیجمنٹ پالیسی کیا ہے؟

امید ہے کہ سیاسی مخالفین کے خلاف ٹرینڈز چلوانے کے بجائے حکومت ان سوالات پر کوئی تسلی بخش جواب پیدا کرنے کی کوشش کرے گی اور عوام کو بھی اس سے آگاہ کرے گی۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *