Type to search

فلم فیچر

رخسانہ سلطانہ، اندرا گاندھی سے زیادہ طاقتور اور مسلمانوں کے خون کی پیاسی

نازک اندام، پرکشش اور حسین سراپے کی حامل، لمبی زلفیں، دراز قد اور مشرقی اور مغربی حسن سے مالا مال، جو دلوں کو گرما دینے کا حسن و جمال رکھتی تھی۔ لیکن مرد حضرات اس کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد راہ فرار اختیار کر لیتے۔ وہ مردوں کے لئے خوف کی علامت تھی۔ جو جب جب پرانی دہلی کے مسلم علاقوں میں قدم رکھتی تو ہر کسی پر لرزہ طاری ہو جاتا۔ نام تھا رخسانہ سلطانہ، جس کی دہشت سلطانہ ڈاکو کی طرح مسلمانوں پر قائم تھی۔ کھلی جیپ میں سوار ہو کر ساری میں ملبوس، آنکھوں پر دھوپ کی عینک لگائے اور قاتل نگاہوں کے ساتھ وہ مسلم مردوں کی تلاش کرتی، جو اس کی آمد کی مخبری ملتے ہی سر پر پیر رکھ کر بھاگ کھڑے ہوتے۔

ستر کی دہائی میں وہ بھارتی سیاست میں اندر گاندھی کے بعد سب سے طاقتور خاتون تصور کی جاتی بلکہ کچھ تو اسے اندرا سے زیادہ اختیارات والی تسلیم کرتے، جس کے ایک اشارے پر پوری کابینہ ہل جاتی۔ جو اندر گاندھی سے نہیں ڈرتے تھے وہ رخسانہ سلطانہ کی غصیلی نگاہوں سے ضرور کانپ جاتے۔ کوئی سنجے گاندھی کی داشتہ کہتا تو کوئی دوست، کوئی محبوبہ، تو کوئی پراسرار کردار، جس کے سامنے عمر رسیدہ وزرائے اعلیٰ اور وزیر ہاتھ باندھے کھڑے رہتے۔ کیونکہ سب اس کی ’اہمیت‘ سے بخوبی واقف تھے۔ اندرا گاندھی نے 1975 میں جب ایمرجنسی لگائی تو سنجے گاندھی، مسلم دشمنی کی آگ میں کھول رہا تھا۔ مسلم آبادیوں پر حملے کرائے جاتے، ان کے خون سے بے خوف ہو کر ہولی کھیلی جاتی۔ مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا جاتا۔

یہ سنجے گاندھی ہی تھا جس نے اندر ا گاندھی کی وحشیانہ سوچ میں اور سفاکیت بھری۔ مخالفین بالخصوص بھارتی مسلمانوں کی آواز کو کچلنے کے لئے سنجے نے ظلم و ستم کی کئی بھیانک خونیں داستانیں تحریر کیں۔ سنجے گاندھی کا خیال تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ آبادی کا بڑھتا ہوا پھیلاؤ ہے اور اسی لئے سنجے نے باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے ہندو آبادی کے بجائے مسلمانوں پر دھاوا بولا۔

24 برس کے اس نوجوان کی شیطانی ذہنیت کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ آبادی کو قابو کرنے کے لئے اس نے مسلمانوں کی نس بندی کرانا شروع کر دی۔ اور اس کام میں اس کی معاونت یہ دوشیزہ رخسانہ سلطانہ کرتی۔ جو مسلمانوں کے لئے دہشت اور بربریت کا دوسرا نام تھا۔

رخسانہ سلطانہ کون تھی؟ کس طرح سنجے گاندھی سے ملاقات ہوئی؟ اس حوالے سے رشید قدوائی کی کتاب ’ٹوئنٹی فور اکبر روڈ‘ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ رخسانہ سلطانہ، سکھ فوجی اہلکار کی مطلقہ بیوی تھی، جو کم سن بیٹی کے ساتھ دہلی میں سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی۔ سنجے گاندھی تک اسے کسی نہیں پہنچایا بلکہ وہ خود اندرا گاندھی کے چھوٹے بیٹے سے ملی۔ رخسانہ سلطانہ کے جیولری بوتیک میں یہ پہلی ملاقات ہوئی۔ وہ بھانپ چکی تھی کہ سنجے مسلمانوں کے لئے کسی صورت نرم گوشہ نہیں رکھتا۔ اسی لئے اپنی باتوں اور حسن کے جال میں ایسا پھنسایا کہ دو تین ملاقاتوں کے بعد سنجے گاندھی کی سب سے قابل اعتبار ساتھی بن گئی۔

رخسانہ سلطانہ نے اسے یہ باور کرایا کہ وہ خود مسلمان ہونے کے باوجود سنجے کے ہر اقدام کو تعریف کی نگاہوں سے دیکھتی ہے۔ سنجے کا اعتماد جیتنے کے لئے اس نے ایمرجنسی میں دہلی کے مسلم علاقوں کا دورہ کر کے وہاں کی مسلم آبادی کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ تیار کر کے سنجے گاندھی کو دینا شروع کر دی اور جب اس کے محبوب نے مسلمانوں کی نس بندی کا فیصلہ کیا تو وہ اس میں پیش پیش رہی۔ وہ اس قدر سفاک اور بے رحم تھی کہ نوجوان سے لے کر ادھیڑ عمر کے مسلمانوں تک کو پولیس اہلکاروں سے پکڑواتی، جس کے بعد بنائے گئے خیموں اور مخصوص اسپتالوں میں ان کی نس بندی کی جاتی۔

سنجے گاندھی اور رخسانہ سلطانہ کی قربتیں اس قدر بڑھ گئی تھیں کہ سنجے کی بیوی مانیکا نے اس تعلق پر پہلے شوہر اور پھر ساس اندرا گاندھی سے بھی احتجاج کیا۔ بہو کے اس شور شرابے سے زیادہ اندرا گاندھی کو اپنی سیاسی ساکھ اور مسلم دشمنی اہم تھی۔ اسی لئے مانیکا گاندھی کی آہ و پکار وزیراعظم ہاؤس میں سنی ان سنی کر دی گئی۔

سنجے، اندرا اور رخسانہ سلطانہ کی اس تکون کی اس بربریت کا عبرت ناک انتقام مسلمان ہی نہیں باشعور بھارتیوں نے کچھ اس طرح لیا کہ 1977 میں جب انتخابات کا دنگل سجا تو کانگریس کو بری طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ حکومت مخالف اتحاد نے 345 نشستیں جیت کر مرار جی ڈیسائی کو وزیر اعظم بنایا۔ یہ اندرا گاندھی کو ملنے والا پہلا دھچکا تھا۔ جس کے بعد سنجے گاندھی کی 23 جون 1980 کوطیارہ حادثے میں ہلاکت نے نہرو کی بیٹی کو توڑ کر رکھ دیا۔

دوسری جانب رخسانہ سلطانہ کو پہلی بار احساس ہوا کہ اب اس کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ لیکن اس نے شاطرانہ چالیں چل کر خود کو اندرا گاندھی کے قریب کر لیا۔ تاہم، اب اسے وہ مقام حاصل نہیں تھا جو کسی زمانے میں سنجے گاندھی کی وجہ سے ملا تھا۔ اسی دوران رخسانہ سلطانہ کی بیٹی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی تھی، جس کی خواہش تھی کہ وہ بالی وڈ میں کام کرے۔ اس مقصد کے لئے رخسانہ سلطانہ نے اپنے تمام تر اثر و رسوخ اور طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اسے ہدایتکار بی آر چوپڑا کی فلم ’نکاح‘ کی ہیروئن بنانے کی کوشش کی۔ لیکن رخسانہ کی بیٹی آڈیشن میں ناکام ہو گئی۔ ہدایتکار پر دباؤ ڈالا گیا لیکن وہ کسی دھمکی اور دباؤ میں نہ آیا۔ بلکہ بی آر چوپڑا نے ممکنہ اقدامات سے بچنے کے لئے آناً فاناً سلمیٰ آغا کو ہیروئن چن لیا۔

رخسانہ سلطانہ نے ہمت نہیں ہاری اور 1983 میں بیٹی کو ہیروئن بنا کر ہی دم لیا۔ فلم سپر ہٹ ہوئی تو سمجھیں رخسانہ کی لاٹری نکل آئی، جس نے سوچ لیا کہ اب وہ بیٹی کے ذریعے سیاست اور فلم پر حکمرانی کرے گی۔ یہ فیصلے ایسے مواقع پر کیے جا رہے تھے جب اس کا اکلوتا اور آخری سہارا اندرا گاندھی اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں قتل ہو چکی تھی اور راجیو گاندھی نے رخسانہ سلطانہ کو کانگریس سے دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکا تھا۔

رخسانہ کی بیٹی نے بعد میں کئی اور فلموں میں کام کیا۔ اور جب اس کی امیدوں اور تمناؤں کا مرکز اس کی لاڈلی بیٹی، اپنے سے بڑے ونود کھنہ کی محبت کی آگ میں جلنے لگی تو ایک بار پھر رخسانہ سلطانہ کا خوف ناک روپ سب کے سامنے آیا۔ رخسانہ سلطانہ نے بیٹی اور اس کے عاشق کو لگام دینے کے لئے اپنے بچے کھچے سارے اختیارات استعمال کیے۔ آنجہانی ونود کھنہ اس قدر ڈر گئے کہ انہوں نے اپنی راہیں ہی جدا کر لیں۔ رخسانہ کا خیال تھا کہ وہ اپنی عمر کے برابر ونود کھنہ کو داماد کے طور پر کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ لیکن بیٹی نے جب اپنے سے لگ بھگ دس سے بارہ سال چھوٹے شوہر کا انتخاب کیا تو رخسانہ مسرور تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ گھاٹے کا سودا نہیں کیونکہ بیٹی امرتا سنگھ نے پٹودی خاندان کے چشم و چراغ سیف علی خان کو شریک سفر بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اور یہ گھرانہ مالی اور سماجی ساکھ کے اعتبار سے رخسانہ کی توقعات پر پورا اترتا تھا۔

بدقسمتی سے اس کی طرح اس شادی کا انجام بھی طلاق پر ہوا۔ اور اب اسی رخسانہ سلطانہ کی نواسی سارہ علی خان بھی ماں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اداکاری کے میدان میں قدم رکھ چکی ہے۔ کل کا یہ طاقتور کردار آج بے بس اور لاچار ہے۔ کل جس کے ایک اشارے پر دہلی کے ایوان ہل جایا کرتے تھے آج وہ دو قدم چلنے کے بعد خود ہانپ جاتی ہے۔

مسلمانوں پر ڈھائے ہوئے اس کے ظلم وستم اب ناگ بن کر خود آج اسے ڈس رہے ہیں۔ طاقت، گھمنڈ اور لالچ کے خمار میں رہنے والی رخسانہ سلطانہ، وقت اور حالات کی ہی نہیں، اُن بے بس مسلمانوں کی بھی مجرم ہے جنہیں وہ کسی کے دل میں جگہ بنانے کے لئے قربانی کی بھینٹ چڑھاتی آئی۔ لیکن یہ کیسی بدقسمتی اور وقت کا انتقام ہے کہ اپنے مفاد کے خاطر مسلمانوں کی خون کی پیاسی بننے والی رخسانہ سلطانہ کی نواسی اور نواسے کے نام کے ساتھ، اس کی بیٹی امرتا سنگھ کے بجائے اس کے مسلم داماد سیف علی خان کا نام ہی جڑا ہے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *