Type to search

خبریں سیاست قومی کھیل

ہربھجن سنگھ اور یوراج سنگھ کا شاہد آفریدی سے کسی بھی قسم کا تعلق نہ رکھنے کا اعلان

قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم کو ڈرپوک کہنے پر سابق بھارتی کرکٹرز ہربھجن سنگھ اور یوراج سنگھ نے آفریدی سے کسی بھی قسم کا تعلق نہ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

بھارتی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ہربھجن سنگھ نے کہا کہ شاہد آفریدی کے بیان سے مجھے تکلیف ہوئی جس میں انہوں نے ہمارے ملک اور ہمارے وزیر اعظم کو برا بھلا کہا اور یہ بات ناقابل قبول ہے۔

ہربھجن نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ آفریدی نے ہم سے عطیات کی اپیل کی تھی اور ہم نے بھی ایک اچھے مقصد کے لیے انسانیت اور کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کے لیے ایسا کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ میرے ملک کے بارے میں غلط باتیں کر رہا تھا، میں صرف یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ میرا شاہد آفریدی سے کوئی لینا دینا نہیں، انہیں ہمارے ملک کے خلاف بولنے کا کوئی حق نہیں اور انہیں اپنے ملک اور اپنی اوقات میں رہنا چاہیے۔ شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کی انسانی بنیادوں پر مدد کی لیکن اب میرا ان کے ساتھ تعلق ختم ہو گیا ہے۔

دوسری جانب یوراج سنگھ نے بھی ہربھجن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قومی ٹیم کے سابق کپتان سے تعلق توڑنے کا اعلان کر دیا۔

یوراج نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے وزیر اعظم کے بارے میں شاہد آفریدی کے الفاظ سے بہت مایوسی ہوئی، اپنے ملک کی نمائندگی کرنے والے ایک ذمے دار بھارتی کی حیثیت سے میں اس طرح کے الفاظ برداشت نہیں کر سکتا، میں نے انسانیت کی خاطر اپیل کی تھی لیکن دوبارہ ایسا نہیں کروں گا۔

واضح رہے کہ شاہد آفریدی ان دنوں اپنی فلاحی تنظیم شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کے کاموں اور غریب افراد کی مدد کے لیے ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں اور اسی سلسلے میں وہ آزاد کشمیر بھی گئے۔

آزاد کشمیر میں عوام سے خطاب کے دوران شاہد آفریدی نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو کرونا وائرس سے بھی بڑی بیماری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مودی سرکار مذہب کی بیماری میں مبتلا ہے اور مذہب کے نام پر مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ظلم کر رہی ہے۔ بھارت کو دنیا و آخرت میں اپنے ہر ظلم کا حساب دینا ہوگا اور اپنے آپ کو بہادر سمجھنے والا بھارتی وزیر اعظم مودی ایک ڈرپوک شخص ہے جس نے چھوٹے سے کشمیر میں 7 لاکھ سے زائد فوج جمع کردی ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *