Type to search

بلاگ تجزیہ سیاست کھیل

احتیاط کیجیے! بہت اونچائی سے گرنے پر تکلیف زیادہ ہوتی ہے، شاہد خان آفریدی کے نام ایک کھلا خط

بخدمت شاہد آفریدی صاحب!

امید ہے مزاج بخیر ہوں گے، میں کرکٹ کے بارے میں زیادہ تو نہیں جانتا لیکن مجھے اتنا ضرور پتا ہے کہ کرکٹ میں سب سے لمبی ہوا میں تیرتی شاٹ کو چھکا اور سب سے لمبی زمینی شارٹ کو چوکا کہتے ہیں۔ مجھے اتنا علم بھی ہے کہ کرکٹ کے تین فارمیٹ ہیں اور ان تینوں فارمیٹ کو بالترتیب ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹونٹی ٹونٹی کہتے ہیں۔ مجھے کرکٹ کے کھلاڑیوں سمیت گیند باز، بلے باز اور گیند کو پکڑنے والوں کا بھی علم ہے، میں نے کوور ڈرائیو، سٹریٹ ڈرائیو، گلی، پوائنٹ، سلی پوائنٹ، لونگ لیگ، مڈآن، مڈ آف، لونگ آف جیسی اصطلاحات سنی تو ہوئی ہیں لیکن میں کرکٹ کے میدان میں ان کی اصلیت سے ناواقف ہوں۔

تھرڈ مین میرے ناقص علم کے مطابق اس کھلاڑی کو کہتے ہیں جو وکٹ کیپر کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے مجھے اس آدمی کے وکٹ کیپر کے پیچھے کھڑے کرنے کا مقصد صرف یہ نظر آتا ہے کہ اگر کوئی ایسی گیند جسے بلے باز نہ کھیل سکے اور وکٹ کیپر اس کو اپنی سستی کی وجہ سے جھپٹ کر پکڑ نہ سکے تو تھرڈمین اس گیند کو روکنے کے لئے ایک اضافی حفاظتی اقدام کے طور پر کھڑا کیا جاتا ہے۔

ہاں یاد آیا کہ کرکٹ کے کھیل میں سے ہی مستعار لیا گیا ایک محاورہ روزمرہ کی زندگی میں مستعمل ہے۔ اگر کوئی فضول دلیل دے تو اسی دلیل کو بنیاد بنا کر اگلے کو زچ کرنے کے عمل کو روزمرہ زندگی میں "نو بال پر چھکا لگانا” کہتے ہیں، آپ "نو بال پر چھکا” لگانے کے عمل سے بخوبی واقف ہوں گے۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ جب آپ کرکٹ کی دنیا میں جگمگاتے ستارے تھے (شاید میرے کچھ دوست اس سے اختلاف کریں) تو اس وقت آپ کا پراعتماد انداز میں میدان میں داخل ہونے کے عمل اور خطرناک ترین گیند بازوں کو آپ کے کریز پر آنے کے بعد پریشان ہوتا دیکھ کر آپ کا مداح بنا تھا۔ مجھے علم نہیں کہ آپ کرکٹ کی دنیا میں اپنی جارحانہ بیٹنگ، اپنی تیز ترین ففٹی یا سینچری کے علاوہ کوئی اور قابل ذکر ریکارڈ اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوئے کہ نہیں یا اس کھیل کی دنیا کے نقاد آپ کو اچھا کھلاڑی سمجھتے ہیں کہ نہیں، لیکن بعد از ریٹائرمنٹ آپ کے کچھ بیانات کی وجہ سے میں آپ کو اچھا انسان ضرور سمجھتا تھا۔

آفریدی صاحب! کسی اہم ترین سیاسی، سماجی یا معاشرتی نقطے پر بحث سے فراغت کے بعد ایک بار کسی دوست نے یہ بتایا تھا کہ آپ نے ریستوران کا کام شروع کیا ہے جو شاید کافی مہنگا ہے، مجھے اشتیاق ہوا کہ آپ کے ریستوران سے کھانا کھایا جائے مگر دوستوں نے ہی مشورہ دیا کہ مجھ ایسا تہی دست اس ریستوران سے کھانا کھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا، ہاں یہ بات تو درست ہوگی میرے طبقے کے کئی خوبرو نوجوان آنکھوں میں حسین خواب سجائے شاید آپ کے ریستوران میں ملازم ہوں گے، یہ بھی باعث طماینت ہے کہ آپ کے کاروبار کے طفیل کسی مفلس کے گھر کا چولہا تو جلے گا، خوابوں کا کیا ہے، میلا کچیلا لباس پہنے، زرد رو چہروں کا حسین خواب دیکھنا بھی شاید کل کا کوئی بالادست ممنوع کر دے۔

پھر ایک بار دیکھا کہ آپ کے نام کا ایک بڑا بورڈ آویزاں ہے او ر اس بورڈ کے پیچھے شیشوں سے بنی ایک دکان میں رنگ برنگے مردانہ کرتے لگے ہیں بالکل ویسے ہی کرتے جیسے جنید جمشید مرحوم کے نام سے چلنے والی دکان میں ہوتے ہیں۔ میں نے جیب میں موجود نقدی کو دیکھتے ہوئے دکان کے اندر جا کر کرتا خریدنا چاہا لیکن وہ میری استطاعت سے زیادہ مہنگا تھا۔ مجھے ایک دوست کی انتہائی جذباتی گفتگو یاد آئی، ایک بار اس نے سیاسی عمل اور طبقاتی جدوجہد پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ تم نے کبھی سوچا ہے کہ ایک خوبصورت مکان بنانے والامعمار اس مکان میں رہ نہیں سکتا، فریج بنانے والا مزدور فریج نہیں خرید سکتا، دن بھر زمینوں پر کام کر نے والا مزارع جاگیردار سے اتنا ہی اناج حاصل کر پاتا ہے کہ وہ صرف دو وقت کی روٹی پوری کر سکے اور بڑے برانڈز کے کپڑے سینے والے وہ کپڑے خود نہیں پہن سکتے۔

میں آپ کے نام والے کرتے کی دکان پر موجود سیلز مین کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرایا تو اس کی جوابی مسکراہٹ مجھے ایسی لگی جیسے کہہ رہا ہو کہ  آپ کا دوست درست کہتا ہے۔

پھر میں نے شاہد آفریدی فاونڈیشن کے بارے میں پڑھا، میں نے سوچا دیکھو شاہد آفریدی اچھے کام بھی تو کر رہا ہے۔ مجھے پہلا خیال آیا کہ میں شاہد آفریدی کی فاؤنڈیشن میں رضاکارانہ اپنی خدمات دے سکوں لیکن برا ہو اس پڑھنے، سیکھنے اور کھوج لگانے والی عادت کا، زمانہ طالب علمی کے دوران ایک درویش صفت پڑھے لکھے انسان نے ہمیں غیر سرکاری تنظیموں، ان کے بننے کی وجوہات اور ان کے سیاسی مضمرات پر ایک سیر حاصل لیکچر دیا تھا اور میں نے اس کی تمام باتیں ایک کاپی پر نوٹ کر لی تھیں۔ آپ کی فاونڈیشن کے بارے میں پڑھتے وقت مجھے اس کاپی کا خیال آیا تو جھٹ سے ایک پرانے بیگ سے وہ کاپی نکال کر لفظ بہ لفظ وہ لیکچر دوبارہ پڑھا۔ گو کہ کوئی میری نیت سے واقف نہیں تھا لیکن مجھے رضاکار بننے والی سوچ پر پشیمانی ہوئی اور میرے سامنے افریقی رہنما نیلسن منڈیلا کا قول ٹمٹمانے لگا کہ غربت خیرات سے نہیں انصاف سے ختم ہوتی ہے۔

پچھلے دنوں آپ میرے وطن پاکستانی زیرانتظام جموں کشمیر میں کرونا کے باعث خوراک کی کمی کے شکار انسانوں کے لئے غذائی اجناس سے بھرا ٹرک لے کر آئے تو خوشی ہوئی کہ چلیں میرا خیرات، خیراتی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں سے جتنا مرضی اختلاف ہو آپ کی امداد سے کچھ ضرورت مندوں تک راشن پہنچے گا۔ لیکن آپ کے راشن بانٹنے کی تقریب دیکھی تو حیرت اور شرمندگی دونوں ہوئیں۔ حیرت اس بات پر کہ کھیل کی دنیا کا ایک ستارہ تو عوامی ملکیت ہوتا ہے، اگر عوام اس سے محبت کرتے ہیں تو اس کو فوج کی حفاظت کی ضرورت کیوں کر ہو سکتی ہے۔ اور شرمندگی اس بات پر کہ میرے وطن کے باسیوں کی غیرت اور حیا اتنے نیچے درجے پر پہنچ چکی کہ وہ راشن کے لئے ٹرک پر گِدھوں کی طرح جھپٹ پڑیں۔

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ جب کسی بھی طوفان، زلزلے، سیلاب یا وبا کے دوران حکومتیں عوام کو دستور میں بتائے گئے بنیادی حقوق دینے میں ناکام ہو جاتی ہیں تو غیر سرکاری تنظیمیں اور خیراتی ادارے بظاہر عوام کی مدد کر رہی ہوتی ہیں لیکن درحقیقت وہ عوام میں حکومت مخالف وہ جذبات ٹھنڈے کرنے کا کام کرتی ہیں جو اگر مجتمع ہو جائیں تو حکومت کا دھڑن تختہ ہو سکتا ہے۔

شاید لکھنے والے نے غلط لکھا ہو۔ شاید آپ سقراط کو جانتے ہوں، اس نے کہا تھا کہ غربت انقلابات کی ماں ہوتی ہے۔

آپ کے ٹرک پر جھپٹنے والے افراد کو اگر آپ کا ٹرک میسر نہ ہوتا تو قرین از قیاس تھا کہ ان کا ہیجان بڑھتے ہوئے ان کا ہاتھ اس مخصوص علاقے پر گذشتہ چالیس سال سے بالا شرکت غیر وارث ہونے کا راگ الاپنے والوں کے گریبان پر ہوتا۔ جس طرح میں کرکٹ کے بارے میں زیادہ علم نہیں رکھتا، آپ کی گفتگو سے لگا کہ آپ تاریخ کے علم پر دسترس نہیں رکھتے۔ آپ کی گفتگو یہ بتاتی ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کےدور دراز علاقوں میں سب اچھا ہے صرف ان وبا کے دنوں میں لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں۔

میں آپ کو بتاتا چلوں کہ ریاست جموں کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان منقسم ہے اور اس متنازعہ خطے کی تاریخ بھی خطے کی طرح ہی متنازعہ ہے۔ تقریباً سبھی لوگ اس بات پر متفق ہیں۔ اس کا بانی مہاراجہ گلاب سنگھ تھا جس نے ایک برطانوی سرکار سے ایک معائدہ کر کے پچھہتر لاکھ نانک شاہی کے عوض جموں کشمیر کو خریدا تھا۔

میرے خیال سے یہ بہت بڑی رقم تھی مہاراجہ گلاب سنگھ کا بیوقوفانہ فیصلہ بھی شاید اس وقت آٹے کی بوریوں سے خریدنے کا فارمولہ رائج نہیں ہوا ہوگا نہیں تو اس سارے خطے کے لوگ آٹے کی بیس کلو کی تھیلیوں سے بھرے چند ٹرکوں کی مار تھے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ مہاراجہ کے خلاف وقتاً فوقتاً ریاست کے مختلف خطوں سے بغاوت ہوتی رہی اور مہاراجہ اسے اپنی طاقت سے کچلتا رہا۔

پاکستان اور ہندوستان کے وجود میں آنے کے بعد ریاست کے آخری مہاراجہ جن کا نام ہری سنگھ تھا، نے دونوں نومولود مملکتوں سے ایک معائدہ قائم کیا کہ ریاست کی موجودہ حیثیت برقرار رہے گی کیونکہ مورخین کے مطابق قانون آزادی ہند کے تحت تمام ریاستوں کو اپنی آزادانہ حیثیت کو برقرار رکھنے کا حق حاصل تھا۔

اسی دوران 22 اکتوبر 1947 کے دن پاکستان کی جانب سے قبائلی حملہ ہوا تو مہاراجہ کی فوج قبائلی جنگجوؤں کا مقابلہ نہ کر سکی، کیونکہ ریاست کے اندر مہاراجہ کے شخصی راج کے خلاف ایک عوامی غصہ موجود تھا تو ناعاقبت اندیش مسلمانوں نے مہاراجہ کے ڈوگرہ ہونے کی بنیاد پر قبائلی حملہ آوروں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کا ساتھ دیا۔ میری دادی جو چند برس پہلے وفات پا چکی ہیں ، بتلاتی تھیں کہ ان قبائلی حملہ آوروں نے نہ صرف ریاست جموں کشمیر میں بسنے والے ہندؤں اور سکھوں کا قتل عام کیا بلکہ زیور پہنے عورتوں کے ہاتھ، کان اور گردنیں تک کاٹ ڈالیں۔

مہاراجہ نے بھارت سے مدد مانگتے ہوئے ایک عارضی الحاق کی دستاویز پر دستخط کر  لئے اور یوں 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج ریاست جموں کشمیر میں داخل ہوئی جو ہنوز ظلم و جبر کا بازار گرم کیے ہوئے ہے۔

یاد رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارتی آئین سے جس باشندہ ریاست قانون کا خاتمہ ہوا ہے وہ مہاراجہ کا ہی بنایا ہوا تھا۔ میرے کچھ دوست ان قبائلی حملہ آوروں کو آپ کے آبا کہتے ہیں، اب اس میں کتنی حقیقت ہے یہ آپ بتا سکتے ہیں۔ یہ شائبہ ہوتا ہے کہ آپ کا فوج کی نگرانی میں ریلیف کی سرگرمیاں کرنا کہیں پاکستان میں ایک نئے سیاسی لیڈر کی تراش خراش کا نقطہ آغاز تو نہیں کیونکہ پاکستان میں سیاسی جماعت و نظریہ جو بھی ہو طاقت کی منتقلی کا کام ایک ہی ادارہ کرتا ہے، یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا۔

میرا ایک حقیقت پسند دوست جو چار کتابیں پڑھ کر خود کو افلاطون سمجھتا ہے اس نے آپ کے حق کی بات کی ہے، وہ کہتا ہے کہ طاقتور حلقے کھلاڑیوں اور ستاروں کی فین فالونگ کو استعمال کرنے کے لئے انہیں معاشرے پر مسلط کرنے کے مختلف حربے اپناتے ہیں اور یہ کسی فلم، ڈرامے، کمرشل اشتہار کے ڈائریکٹر کے اشاروں کی طرح ان طاقتور اشاروں پر اداکاری کے جوہر دکھانے میں جت جاتے ہیں۔ اکثر اوقات رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہوتے ہیں اور ردی کی ٹوکری کی نذر ہوجاتے ہیں۔

شاید آپ کو اندازہ ہو کہ کرکٹ میں آپ کے سینئر اور پاکستان کے موجودہ وزیراعظم اقتدار کے ایوان تک پہنچ تو گئے لیکن سیاست اور حکومتی امور میں گہری دلچسپی رکھنے والے انہیں اس وقت ڈسٹ بن کے قریب ترین سمجھتے ہیں اور قرین از قیاس ہے کہ وہ بھی ڈسٹ بن کی نذر ہو جائیں۔ اگر آپ اقتدار کی غلام گردشوں کی ہوا کھائے بغیر ہی ڈسٹ بن کی نذر ہوگئے تو آپ کے چاہنے والے پریشانی اور پشیمانی دونوں کا شکار ہو سکتے ہیں (بغیر کچھ لئے دیے ردی کی ٹوکری میں پھینکنا بھی بعید از قیاس نہیں)۔ اس لئے احتیاط کیجیے، بہت اونچائی سے گرنے پر تکلیف زیادہ ہوتی ہے۔

زیادہ آداب

آپ کا خیر اندیش/ آپ کے کرکٹ کے دنوں کا مداح۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *