Type to search

Coronavirus انصاف بلاگ تجزیہ

لیفٹننٹ جنرل کی سپریم کورٹ آمد، چیف جسٹس نے کورونا کو وبا قرار دے دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کمرہِ عدالت کی داخلی راہداری سے ہی لوگ کھڑے نظر آگئے جس کا مطلب تھا ججز کی آمد ہو چکی ہے اور جب راہداری ختم ہوئی تو سامنے معزز ججز کھڑے ہوئے تھے۔ ان کی تعظیم میں سر کو ہلکا سا جُھکایا اور بڑھتا ہوا بینچ کے بالکل سامنے موجود کتابوں کے ساتھ جا کر کھڑا ہوگیا۔ پانچ رُکنی لارجر بینچ کے ججز کو قریباً پانچ فُٹ کے فاصلے سے دیکھ اور سُن سکتا تھا۔ کمرہِ عدالت میں آج رش تھوڑا زیادہ تھا۔ سر گُھمایا تو چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل محمد افضل نیلی شرٹ، نیلی ٹائی اور نیلے سوٹ میں مکمل میچنگ کے ساتھ دولہے کی طرح نشستوں کی پہلی قطار میں بیٹھے تھے اور دو باوردی جوان بھی اُن کی نشست سے کچھ فاصلے پر کورٹ روم نمبر ون میں موجود تھے جبکہ کافی سارا عملہ اپنے جرنیل کی طرح سول کپڑوں میں ہی بیٹھا تھا۔

اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان روسٹرم پر آگئے اور اُنہوں نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ کے حُکم کی تعمیل کرتے ہوئے اخراجات کی تفصیلات لایا ہوں۔ لارجر بینچ کے سربراہ چیف جسٹس گلزار احمد بولے کہ ہمیں آپ کے خرچ کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں، ہم تو جس معیار کی سروس آپ لوگوں کو دے رہے ہیں اس پر فکر مند ہیں۔ چیف جسٹس نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ایک عام تاثر ہے کہ عملہ یا افرادی قوت ہے وہ مریض میں دلچسپی نہیں لیتی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر عام آدمی کورونا کا ٹیسٹ کروانے سرکاری ہسپتال جائے تو وہ وہاں پھنس جاتا ہے کیونکہ اُس کا ٹیسٹ پازیٹیو آجاتا ہے اور وہی اگر پرائیویٹ ہسپتال جائے تو ٹیسٹ نیگیٹو آجاتا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے اس موقع پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ لاہور میں یہی ہوا عملے کے سرکاری ہسپتال سے ٹیسٹ پازیٹو آئے لیکن اگلے دن پرائیویٹ لیبارٹری سے ٹیسٹ کروانے پر رپورٹ نیگیٹو آئی۔ چیف جسٹس نے ایک اور مثال بھی دی کہ انہوں نے آج ایک کلپ دیکھا جِس میں ایک شخص لاہور کے نیشنل ہسپتال کے باہر رو رہا تھا کہ میری بیوی کو نہیں چھوڑ رہے۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ وہ ڈاکٹروں کی عزت کرتے ہیں کیونکہ وہ کورونا کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں لیکن وہ ان مسائل کو بھی دیکھیں۔

چیف جسٹس نے اِس موقع پر آبزرویشن دی کہ لاہور کے ایکسپو سینٹر والے قرنطینہ مرکز کا کیا حال ہے اور اسلام آباد میں بھی دیکھیں تو کیا حال ہے۔ چیف جسٹس نے ایک اور ویڈیو کلپ کا حوالہ دیا کہ کیسے لوگ اپنے پیاروں کو پیغام دے رہے کہ پاکستان واپس مت آؤ ورنہ مر جاؤ گے۔ چیف جسٹس نے سوال اُٹھایا کہ بیس، بیس لوگ ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں یہ کیسے قرنطینہ مراکز ہیں؟ قرنطینہ مراکز کے عملہ کے پاس حفاظتی لباس تک نہیں، نہ ہی معلوم ہے کھانا کہاں سے آئے گا اور اگر بجلی چلی جائے تو پتہ نہیں کب آئے گی۔

اٹارنی جنرل خاموش تھے اور صرف چیف جسٹس بول رہے تھے جبکہ لارجر بینچ کے باقی چار ججز اٹارنی جنرل کی طرف دیکھ رہے تھے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پیسے کیسے خرچ ہورہے ہیں آپ لوگ تو پیسے سے کھیل رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے حکومت کو ہدایت دی کہ پاکستان بہت غریب مُلک ہے پیسہ عقلمندی سے لگانا چاہیے۔

چیف جسٹس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری معیشت کا افغانستان اور سومالیہ سے تقابل ہو رہا ہے۔ یہ ہمارا معیارِ زندگی ہے؟ ہم اپنے لوگوں کو یہ سہولت دے رہے ہیں؟ ہم غریب سے غریب تر ہو رہے ہیں اور اِس پر ہم فخر کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کہ سب پیسے سے کھیل رہے ہیں لیکن کام بھی تو اہم ہے اور کام بھی تو کسی کو کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے طویل ریمارکس کا اختتام کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ نے رپورٹ میں لِکھا ہے کہ ایک فیکٹری لگائی ہے اور مشین مُنگوائی ہے لیکن یہ فیکٹری ڈیسٹو پاکستان آرمی کیا ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ مشین تو کسی آرمی افسر کے نام پر پرائیویٹ طور پر مُنگوائی گئی ہے۔

چیف جسٹس کے اِن ریمارکس کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل محمد افضل اپنی نشست سے اٹھ کر عدالتی روسٹرم پر آگئے اور انہوں نے چیف جسٹس کو بتایا کہ یہ فوج نے امپورٹ کی ہے اور یہ فیکٹری ایس پی ڈی کا حصہ ہے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ یہ ایس پی ڈی کیا ہے؟ لیفٹننٹ جنرل نے جواب دیا کہ یہ اسٹریٹجک پلان ڈویژن ہے۔ چیف جسٹس نے سوال پوچھا کہ یہ ایک ہی مشین منگوائی ہے تو لیفٹننٹ جنرل محمد افضل نے ہاں میں جواب دیا۔ چیف جسٹس نے چیئرمین این ڈی ایم سے سوال پوچھا کہ کیا آپ کے علاوہ بھی لوگ مقابلے میں مارکیٹ میں موجود ہیں؟ لیفٹننٹ جنرل نے جواب دیا کہ جی ہاں ہیں۔ (لیکن نہ تو لیفٹننٹ جنرل افضل خان نے وضاحت کی کہ فوج کے علاوہ دیگر ادارے کون سے ہیں اور نہ ہی عدالت نے اُن سے تفصیل مانگی۔) چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ نجی شعبے سے بھی مدد لے رہے ہیں؟ لیفٹننٹ جنرل محمد افضل نے عدالت کو بتایا کہ اُنہوں نے اِس شعبے سے مُنسلک تمام کاروباری حضرات کو دفتر میں بلا کر ملاقات کی تھی اور مدد کی یقین دہانی کروائی تھی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم سب بنا سکتے ہیں ہر چیز آپ کو باہر والے نہیں دیں گے۔

چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کیا کہ ملک میں اتنا ٹیلنٹ ہے، استعداد ہے، معلوم نہیں یہ یونیورسٹی گریجویٹس کہاں جا رہے۔ میں نے قریب بیٹھے ڈان کے سینئر نمائندے ناصر اقبال کے کان میں سرگوشی کی کہ یونیورسٹی گریجویٹ یا تو غائب کر دیے جاتے ہیں یا ایک بااثر ادارہ میں ان کو انٹرن شِپ کروا دی جاتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کے ریمارکس میں مُداخلت کرتے ہوئے لارجر بینچ کو بتایا کہ اب پاکستان وینٹی لیٹر بنا سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل اور لیفٹننٹ جنرل سے مُکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیل مِل کو ہم نے تباہ کردیا ہے ورنہ اگر ہم اُس کو چلانا چاہتے تو اُس سے سب کُچھ بنا سکتے تھے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم اسٹیل مِل سے حاصل ہونے والے اسٹیل سے ہوائی جہاز، ٹینک اور بحری جہاز تک بنا سکتے تھے۔ اِس موقع پر چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنا ذاتی تجربہ سامعین سے شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ میں ایک ٹینک بنانے والی کمپنی کا لیگل ایڈوائزر تھا جو بند ہوگئی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے وضاحت کی کہ وہ اُن کی وجہ سے نہیں حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے بند ہوئی۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے آئین توڑنے والے سابق آمر آرمی چیف جنرل ایوب خان کو اِس موقع پر خصوصی کریڈٹ دیا کہ انہوں نے پاکستان کو ایک صنعتی مُلک بنا دیا اور مُلک کا 80 فیصد ریونیو صنعتی شعبے سے آرہا تھا۔ یاد رہے وزیراعظم عمران خان بھی فوجی آمر جنرل ایوب خان کے فین ہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اب کیا ہو رہا ہے سب بند ہوتا جا رہا ہے، ہم صومالیہ سے بھی نیچے جارہے ہیں لیکن کُچھ لوگ بادشاہوں والی زندگی گُزار رہے ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے آبزرویشن دی کہ پاکستان میں بہت سے لوگ جانوروں کی طرح رہ رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ تمام ذرائع عوام کے لیے استعمال کرے کیونکہ حکومت عوام کی وجہ سے ہی ہوتی ہے اور آپ کو ذرائع دو فیصد مراعات یافتہ طبقہ نہیں بلکہ اٹھانوے فیصد غیر مراعات یافتہ طبقہ کے لیے استعمال کرنے چاہیے۔

چیف جسٹس نے حکومت کی توجہ دیہی علاقوں کی طرف دلواتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ نے گاؤں، دیہات کی خبر لی ہے۔ وہاں ابھی بھی لوگ پیر کے پاس دم کروانے جاتے ہیں۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ یہاں قرنطینہ مراکز کا یہ حال ہے کہ ایک بار جو وہاں چلا گیا وہ نیگیٹو ہونے پر بھی باہر نہیں آسکتا۔ اِس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل محمد افضل نے چیف جسٹس کے جاری ریمارکس میں مُداخلت کرتے ہوئے کہا کہ سر میں کُچھ وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ چیف جسٹس نے جواب دیا کہ میں نے کل رات آپ کا ٹی وی انٹرویو سُنا تھا۔ لیفٹننٹ جنرل محمد افضل کا کہنا تھا کہ سر این ڈی ایم اے مدد کر رہا ہے اور ہماری مدد کی وجہ سے ہی پاکستان میں 20 اپریل کے بعد سے حفاظتی لباس بننا شروع ہوگیا ہے۔ (حفاظتی لباس ایک طرح کا یونیفارم ہے جو پاکستان میں پہلے سے موجود گارمنٹس میں ہی بن رہا ہے جو پاکستان میں موجود دستیاب گارمنٹس کی فیکریٹریوں کے لیے بنانا با آسانی ممکن تھا۔) چیف جسٹس نے لیفٹننٹ جنرل کی طرف سے حفاظتی لباس کی پاکستان میں تیاری کی خبر پر بہت مُسرت کا اظہار کیا اور ریماکس دیے کہ یہ تو بہت بڑی اور اچھی خبر ہے۔

چیف جسٹس نے اِس موقع پر لیفٹننٹ جنرل سے سوال پوچھا تھا کہ آپ نے جو پاکستان کے بیرونِ مُلک سفارتخانوں کو پچاس ملین ڈالر جاری کیے تھے وہ کھپ گئے ہیں؟ لیفٹننٹ جنرل نے کہا جی میں عدالت کو بتا دیتا ہوں پچاس ملین ڈالر کہاں کھپے ہیں۔ چیف جسٹس جنہوں نے کل این ڈی ایم اے کے ایک سول نمائندے سے 25 ارب کے ایک ایک خرچ کی تفصیل پر بحث کی تھی اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال پر شدید سرزنش کی تھی، آج این ڈی ایم اے کے فوجی سربراہ کو تفصیلات بتانے سے روکتے ہوئے ریمارکس دیے کہ بس پچاس ملین ڈالر کھپ گئے ہیں تو کافی ہے۔

اب چیف جسٹس نے اِس موقع پر لیفٹننٹ جنرل افضل خان سے مُکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو چین کی اشیا کے معیار کا تو معلوم ہوگا۔ پاکستان سے تاجر ایک ہزار والی پراڈکٹ کم کوالٹی والی چین سے دس روپے میں تیار کرواتے ہیں جبکہ اُسی چین سے انتہائی اعلیٰ کوالٹی کی پراڈکٹس امریکہ بھجوائی جاتی ہیں۔ چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ چین ہمارا ہمسایہ مُلک ہے لیکن یہاں کی دُکانوں پر چین کی گھٹیا ترین کوالٹی کی الیکٹرانک مصنوعات ملتی ہیں۔ چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ چین اور سویڈن سے وینٹی لیٹر خریدے گئے ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا کہ یہ وینٹی لیٹر استعمال شُدہ ہیں یا نئے؟ کیونکہ پاکستان میں جو وینٹی لیٹرز اسکریپ ہو جاتے وہ بھی وہاں سے نئے بن کر واپس آجاتے ہیں۔ لیفٹننٹ جنرل مُحمد افضل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ نئے وینٹی لیٹرز ہیں۔

اب اٹارنی جنرل نے بولنا شروع کیا کہ لارجر بینچ کے کل کے ریمارکس اور آرڈر سے تاثر گیا کہ کورونا وائرس ایک معمول کی وبا ہے۔ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کا کہنا تھا کہ مائی لارڈشپ آپ جانتے ہیں کہ دُنیا بھر میں چالیس لاکھ سے زائد افراد کورونا وائرس سے مُتاثر جبکہ تین لاکھ سے زائد اموات ہوچُکی ہیں۔

اٹارنی جنرل نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ وہ تو ترقی یافتہ مُمالک تھے پھر بھی وہاں اتنا نُقصان ہوا ہے۔ اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں لارجر بینچ کو بتایا کہ لوگ اسٹوک اور دیگر بیماریوں سے طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے مر رہے تھے لیکن اب حکومت نے ہسپتالوں کی ایمرجینسی کھولنے کا فیصلہ کیا ہے اور نجی ہسپتالوں کی بھی ہدایت دی ہے کہ وہ مریض واپس نہ بھیجیں۔ اٹارنی جنرل نے اِس موقع پر چیف جسٹس کو مُخاطب کرتے ہوئے اہم درخواست کی کہ مائی لارڈشِپ آپ نے مذہبی مسئلہ زکوۃ کے لیے رائے لینی تھی تو آپ کی عدالت نے مُفتی صاحب سے رجوع کیا تھا اِسی طرح اب کورونا وائرس کی مُہلک وبا کے لیے بھی لارجر بینچ شعبہِ طِب کے ماہرین سے رائے لے۔

اٹارنی جنرل نے اپنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ کورونا وائرس کی موجودگی پر سوال اُٹھا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ شاید یہ انسانوں کا اپنا بنایا ہوا کُچھ ہے لیکن میں نے ایک بھی ڈاکٹر نہیں دیکھا جس نے کورونا کے مُہلک ہونے پر سوال اُٹھایا ہو۔ اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ ابھی جون میں کورونا وائرس کی ایک بڑی لہر آئے گی اور صورتحال بدتر ہوسکتی ہے۔

اٹارنی جنرل کی اِس درخواست پر چیف جسٹس گلزار احمد نے اپنے دائیں طرف موجود جسٹس مُشیر عالم کی طرف جُھک کر اُن سے مُشاوت شروع کردی جبکہ چیف جسٹس کے بائیں طرف موجود جسٹس سردار طارق مسعود نے جسٹس قاضی مُحمد امین احمد سے مُشاورت شروع کردی۔ آج بھی لارجر بینچ کے سربراہ چیف جسٹس گُلزار احمد، جسٹس مُشیر عالم اور جسٹس سردار طارق مسعود نے فیس ماسک پہن رکھے تھے لیکن جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس قاضی مُحمد امین احمد نے فیس ماسک نہیں پہنے ہوئے تھے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے جسٹس مُشیر عالم سے مُشاورت کے بعد اپنی بائیں طرف جُھک کر جسٹس سردار طارق مسعود سے مُشاورت شروع کردی۔ ججز میں بارہ بجے شروع ہونے والی یہ مُشاورت تقریباً تین منٹ جاری رہی اور اِس کے بعد ججز سیدھے ہو کر دوبارہ اٹارنی جنرل کی طرف دیکھنے لگے۔

اٹارنی جنرل نے دوبارہ اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ کے کل کے ریمارکس اور آرڈر میں خصوصاً پیراگراف تیرہ سے یہ تاثر گیا ہے کہ کورونا وائرس پاکستان میں وبا نہیں ہے اور کل سے لوگ سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو جواب دیا کہ میں کل رات کھانے کے وقت ٹی وی دیکھ رہا تھا تو ایک ٹاک شو میں کوئی صاحب کہہ رہے تھے کہ وہ صُبح طارق روڈ پر گئے تو پارکنگ کے لیے جگہ نہیں تھی تو اُس وقت تو ہم نے کوئی آرڈر بھی جاری نہیں کیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس کو جواب دیا کہ لیکن اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی سب سی بڑی عدالت کا سربراہ یہ کہہ رہا ہے کہ کورونا وبا نہیں ہے۔

اِس موقع پر چیف جسٹس گلزار احمد نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو معاونت کے لیے روسٹرم پر بُلا لیا کہ آپ کو سب پتہ ہے آپ بتائیں۔ چیف جسٹس نے جو پہلے بھی این ڈی ایم اے کے فوجی سربراہ پر کافی مہربان نظر آرہے تھے، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل محمد افضل کی تعریف کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ لیفٹننٹ جنرل صاحب آپ بہت سمجھدار اور زیرک انسان ہیں۔ چیف جسٹس نے لیفٹننٹ جنرل مُحمد افضل کی تعریف آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ دور اندیش بھی ہیں اور آپ کو اپنا کام آتا ہے لیکن آپ کے نیچے کُچھ لوگ صحیح کام نہیں کررہے آپ کو اُن پر نظر رکھنی ہوگی ورنہ وہ آپ کی بدنامی کا باعث بنیں گے جیسے اگر عدلیہ میں کوئی جج غلط کام کرے تو وہ میری بدنامی کا باعث بنے گا۔

میں نے چیف جسٹس کی طرف سے لیفٹننٹ جنرل مُحمد افضل کی تعریف میں ادا ہوتے ریمارکس کے دوران گردن گُھما کر ساتھی صحافیوں پر نظر ڈالی تو سب کے چہروں پر معنی خیز مُسکراہٹ تھی جبکہ سینئر صحافی جاوید سومرو سر پکڑے اپنے نوٹس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ میری نظروں کے سامنے آرمی چیف کی مُدتِ مُلازمت میں توسیع والے کیس کی سماعت کے فلیش بیک آنے لگے کہ کیسے سابق چیف جسٹس کھوسہ نے دُھواں دار ریمارکس کے ساتھ سماعت کا آغاز کیا اور تیسرے دِن پاکستان کے قانون میں گنجائش نہ ہونے کے باوجود عدالتی تحمل کا اعلان کرتے ہوئے آرمی چیف کی مُدتِ ملازمت میں توسیع کو عدالتی تحفظ دے کر اُٹھ گئے تھے۔

چیف جسٹس کا چیئرمین این ڈی ایم اے سے مُکالمہ مُکمل ہوا تو لارجر بینچ کے رُکن جسٹس سردار طارق مسعود جو کل چیف جسٹس کے دُھواں دھار ریمارکس کے دوران سر جُھکا کر خاموش بیٹھے رہے تھے انہوں نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو مُخاطب کر کے سوال پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ دُکانیں ہم نے یعنی کے سُپریم کورٹ نے کُھلوائی ہیں؟ لارجر بینچ نے تو ایسا کوئی حُکم نہیں دیا۔ چیف جسٹس کے بائیں طرف بیٹھے سنیارٹی لسٹ میں چھٹے نمبر پر موجود جسٹس سردار طارق مسعود کا مزید کہنا تھا بازار تو پہلے سے ہی حکومت کھول چُکی تھی اور وہاں پر رش بھی تھا ہم نے تو صرف مالز کا آرڈر کیا اور وہ بھی سندھ کی حد تک کیونکہ جب لاہور اور اسلام آباد سمیت سارے پاکستان میں مالز کھُل رہے تھے تو سندھ میں یہ تفریق کیوں تھی؟

اٹارنی جنرل نے جسٹس سردار طارق مسعود کو جواب دیا کہ ہم صرف کل کے حُکمنامہ میں پیراگراف تیرہ میں دیے جانے والے تاثر پر درخواست کر رہے ہیں بازار کُھلنے پر ہم نے بینچ کو ذمہ دار قرار نہیں دیا۔ اِس دوران کراچی سے وڈیو لنک پر موجود ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ مائی لارڈشِپ یہاں کل سے بیوٹی پارلر اور نائی کی دکانیں بھی کُھلنے لگی ہیں۔ چیف جسٹس نے اُنہیں ٹوکا اور کہا کہ ہم نے ایسا کُچھ نہیں کہا سندھ حکومت کو وہ آپ کے انسپکٹر پیسے لے کر کُھلوا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ سندھ حکومت نے سب سے پہلے سب رجسٹرار کا دفتر دو ہفتے پہلے کھولا کیونکہ وہاں سب سے زیادہ رشوت چلتی ہے۔ چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے دفاتر اپنے کاروبار کے لیے کھولے ہیں عوام کی سہولت کے لیے نہیں۔

تمام صحافی چیف جسٹس کے لیفٹننٹ جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل سے لہجے کا فرق محسوس کرسکتے تھے۔

چیف جسٹس کا ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے مزید کہنا تھا کہ اگر آپ اپنے تمام سرکاری دفاتر کھول سکتے ہیں تو پھر نجی دفاتر بند رکھنا پالیسی میں بہت بڑا تضاد ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے لارجر بینچ سے درخواست کی کہ عدالت ماہرین کی ایک کمیٹی بنانے کا حُکم دے جو عدالت کو لاک ڈاؤن مں نرمی اور کورونا وائرس کے پھیلاو پر بریف کرے۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ کا مزید کہنا تھا کہ ہماری درخواست ہے کہ اب عملاً لاک ڈاون ختم ہو چُکا ہے، آپ ہفتہ اتوار کو بھی بازار کُھلے رکھنے کا اپنا کل کا حُکم واپس لے لیں کیونکہ اُس کے پیچھے حِکمت یہ تھی کورونا وائرس میل جول سے پھیلتا ہے اور دو دِن بازار بند رکھ کر وائرس کا پھیلاؤ روکا نہ بھی جاسکے تو کم از کم اُس کے پھیلاؤ کی رفتار سُست کی جاسکتی ہے۔ اِس موقع پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان بھی بولے کہ ہم عدالت سے درخواست کرتے ہیں کہ ہفتہ اتوار کو بازار بند رکھنے کا فیصلہ صوبوں پر چھوڑ دیں۔

بارہ بجکر بیس منٹ ہو چکے تھے اور چیف جسٹس نے اپنے بائیں طرف موجود جسٹس سردار طارق مسعود سے مُشاورت شروع کر دی۔ تقریباً پانچ منٹ جاری رہنے والی مُشاورت کے بعد چیف جسٹس نے حُکمنامہ لکھوانا شروع کر دیا۔ چیف جسٹس نے آرڈر میں لکھوایا کہ جیسا کہ حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل نے بتایا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس پاکستان میں وبا کی صورت موجود ہے اور اُس کی ابھی ایک بدترین لہر آنا باقی ہے اور حکومت اُس کا مقابلہ کر رہی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں کورونا وائرس بالکل موجود ہے اور اِس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں اور لوگ مُتاثر بھی ہوئے ہیں۔ بہت امکان ہے کہ یہ وائرس مزید بدترین شکل اختیار کرے اور میڈیکل ایمرجنسی لگانے کی ضرورت پڑ جائے جس کے لیے بہت فنڈز اور وسائل درکار ہوں۔ پاکستان کی معیشت اتنی طاقتور نہیں کہ اِس میڈیکل ایمرجینسی کے لیے درکار وسائل کا بوجھ اُٹھا سکے۔

چیف جسٹس نے اِس موقع پر آرڈر میں بھی این ڈی ایم اے کے کردار کر بہت سراہا اور لکھوایا کہ این ڈی ایم اے نے عدالت کو بہت اہم اور مُفید معلومات دیں کہ حفاظتی لباس اب پاکستان میں بننے لگ گئے ہیں۔ چیئرمین این ڈی ایم نے بتایا کہ وہ نجی شعبہ کی مدد کررہے ہیں جبکہ انہوں نے گیارہ سو ستاسی وینٹی لیٹرز کا بیرونِ مُلک آرڈر بھی دیا ہے جِس میں سے تین سو پاکستان پہنچ چُکے ہیں۔ ہمیں اُمید ہے ہسپتالوں کو جتنے آلات چاہیے ہیں جلد پاکستان میں بنیں گے۔ اب تو ادویات بھی پاکستان میں بن رہی ہیں۔ این ڈی ایم اے کی تعریف کرنے کے بعد چیف جسٹس نے اُس کے فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل کے لیے بھی حُکمنامہ میں خصوصی طور پر لکھوایا کہ وہ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹننٹ جنرل محمد افضل کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے ہمیں طبی ماہرین سے رائے دینے کی جو تجویز دی ہے تو یہ معاملہ حکومت خود دیکھ رہی ہے وہی طبی ماہرین سے رائے لے کر عدالت کو آگاہ کردے۔ چیف جسٹس نے حُکمنامہ میں حکومت کی ہفتہ اور اتوار کو بازار بند رکھنے کی استدعا مُسترد کرتے ہوئے مزید سماعت آٹھ جون تک مُلتوی کردی۔

کمرہِ عدالت سے باہر نکلے تو سب صحافی ہلکا پُھلکا مذاق کررہے تھے شاید سب کو بخوبی احساس ہوگیا تھا کہ کل این ڈی ایم اے کے ساتھ سختی برتی گئی تھی تو آج کی سماعت صرف اُس کے ازالہ میں ہی گُزر گئی۔

Tags:

You Might also Like

1 Comment

  1. Dr. Abdullah Arijo مئی 20, 2020

    Every one knows the gut feeling what supreme court is aimed at.

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *