Type to search

تجزیہ

نسرین انجم بھٹی:طبقاتی جہدوجہد، فکری آزادی اور انسانی حقوق کے حصول کی جنگ کا استعارہ

 

نسرین انحم بھٹی کا شمار ان خواتین شعرا اور لکھاریوں میں ہوتا ہے جنہوں نے جنرل ضیا کے تاریک دور میں لوگوں کو سیاسی  طور پر متحرک کرنے میں  بڑا اہم اور بنیادی کردار ادا کیا- ان کی شاعری کی کتاب ‘نیل کرایاں نیلکاں’ جب بھٹو کی  پھانسی کے قریب چھپی تو اس نے تہلکہ مچا دیا۰

وہ ماں بولی کی زبردست حامی تھیں۔ وہ کِئی زبانیں بول سکتی تھیں- وہ کوئٹہ، بلوچستان میں ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئیں، سندھ میں پلی بڑھیں۔ انگریزی، اردو اور پنجابی میں لکھتیں-انہوں نے چینی اور روسی ادب کا بہت مطالعہ کیا ہے-

وہ پچھلی صدی کی ساٹھ کی دہائی ٘میں بائیں بازہ کے سٹڈی سرکل میں شامل ہوتی تھیں- انہوں نے ہمیشہ طبقاتی جدوجہد، فکر کی آزادی اور انسانیت  کی بات کی اور لکھا-

1979 میں جب پولیس کو پتہ چلا کہ وہ بھٹو پر کتاب چھاپ رہی ہے تو پولیس نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی بھی پبلشر ان کی کتاب چھاپنے کے لئے تیار نہ تھا- نسرین  نے بطور براڈ کاسڑ ریڈیو پاکستان لاہور میں کام کیا اور قابلیت اور لیاقت کی ہمیشہ  ہمت افزائی کی-ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے ایک ادبی تنظیم کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا اور عمر کے آخری سالوں میں تحقیق کا کام کر رہی ہیں۔  ان کی زندگی میں ان کا ایک اہم انٹرویو درج ذیل ہے۔

سوال: اپنا پس منظر بتائیں؟

جواب: میں پیدائیش کے لحاظ سے بلوچ ہوں ، سندھ کی شہری ہوں اور پنجاب میں شادی کی ہے- میرا رشتہ سارے پاکستان سے ہے-میں نے بچپن کوئٹہ میں گزارا، اس سکول میں پڑھی جہاں ہزارہ لڑکیاں فارسی بولتی تھیں- میں نے گولیاں {بنٹے} اور وہ کھیل کھیلے جو کہ لڑکے کھیلتے تھے-میرے گھر والوں کو میری لڑکوں سے لڑائی کی بہت شکائتیں آتی تھیں- پھر ہم جیکب آباد سندھ چلے گئے کیونکہ میرے اجداد کوئٹہ کی زبردست  سردی برداشت نہیں کر سکتے تھے- پھر میں نے لاہور کالج میں فائن آرٹس میں داخلہ لے لیا- اس سے مجھے مزید تعلیم حاصل کرنے اور اپنی آزاد فکر کو آگے بڑھانے کا موقع مل گیا- میں نے اورینٹیل کالج سے ایم اے اردو کیا- میں نے این سی اے میں بھی دو سال گزارے لیکن ڈپلومہ نہیں لیا- میں نے ایوب مخالف تحریک میں بھی حصہ لیا-

سوال:  بطور لکھاری آپ کو کس نے انسپائر کیا؟

جواب: میں صوفیا، مادھو لال حسین اور آزادی کی تحریکوں سے متاثر ہوئی- میں ہو چی منہ، چی گویرا، لیلیٰ خالد، ذولفقار علی بھٹو اور بے نظیر سے متاثر ہوئی- اس کے علاوہ میں نے چینی اور روسی ادب بہت  پڑھا- میں سٹڈی سرکل میں شامل ہوتی جس میں سرمد صہبائی، فہیم جوزی، شاہد محمود ندیم اور کنول مشتاق بھی ہوتے تھے- نجم حسین سید میرے گرو تھے- میں ان کے گھر ہفتہ وار میٹنگِوں میں شامل ہوتی تھی-

سوال: آپ نے کب لکھنا شروع کیا؟

جواب: میں نے پہلی نظم نو سال کی عمر میں لکھی اور یہ ‘تعلیم و تربیت’ رسالہ میں چھپی- یہ میرے لئے بہت بڑی بات تھی اور میں نے یہ اپنے سارے دوستوں کو دکھائی- بعد میں، میں اپنے کالج کے رسالہ کی ایڈیڑ بنی- اردو اور انگریزی میں نظمیں لکھیں-میں نے طالب علمی کے زمانے میں ہی امروز اور پاکستان ٹائمز سی صحافت شروع کی- میں نے ادب، طلبا سیاست اور بچیوّں  کے مسائل کے بارے میں لکھا- ایڈیڑ ہارون سعد نے مجھے کہا کہ میں ہفتہ وار کالم لکھوں –

سوال: آپ نے ریڈیو پاکستان کب اور کیسے جوئین کیا ؟

جواب: میں نے 1971 میں Talent Hunt Programme کے تحت جوائین کیا- میں طلبا کی سرگرمیوں کو دیکھتی اور ادبی پروگرام میں نظمیں اور مضمون پڑھتی- میں یونیورسٹی کے زمانے میں باقاعدگی  سے لاہور ریڈیو سٹیشن  جاتی تھی- سو یہ میرے لئے کوئی نہیں بات نہیں تھی- جس بورڈ نے میرا انڑویو کیا اس کے سربراہ صوفی تبسم تھےاور دوسرے ممبران میں شکور بیدل، انجم رومانی اور اشفاق احمد شامل تھے –

سوال: آج کے معاشرہ میں لکھاری خاص کر عورت لکھاری کا کیا کردار ہے؟

جواب: ادب کی کوئی جنس نہیں- برصغیر کی ادبی تاریخ میں ہمارے ہاں عصمت چغتائی، قراۃ العین حیدر اور امرتا پریتم ہیں-پاکستان میں فاطمہ جناح ہیں جنہوں نے اپنے بھائی کے بارے میں چھوٹا سا کتابچہ لکھا- میں بپسی سدھوا، خدیجہ گوہر، الطاف فاطمہ، فاطمہ ثریا بجیہ، فرخندہ لودھی، ڈاکڑ عائشہ صدیقہ، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، عذرہ وقار، عابدہ وقار، فوذیہ رفیق اور آخر میں بے نظیر بھٹو کا  ذ کر کروں گی-

سوال: کیا موجودہ حالات کسی طریقہ سے آپ کے بطور شاعر تخلیقی کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں؟

جواب: میں محسوس کرتی ہوں کہ میں سوچنے میں آزاد ہوں اور اپنے ذہن کے لینڈ سکیپ پر اور اپنے خواب آنے والی نسلوں کو منتقل کر سکتی ہوں-

سوال: آپ آج کے پاکستان کے ثقافتی ماحول پر بات کرنا چاہیں گی؟                

جواب: ہم اس ملک کے بارے میں بات کر رہے ہیں جہاں گھوڑے اور اونٹ ناچ سکتے ہیں لیکن جہان انسان نہ ناچ  سکتا ہےاور نہ گا سکتا ہے-

سوال: آپ پاکستان میں عورتوں کی صورت حال کیسے  دیکھ رہی ہیں؟

جواب: ایک عورت ایک دوسرے انسان کو جنم دے سکتی ہے مگر خود آزادی سے سانس نہیں لے سکتی-وہ صرف اپنے اوپر نیلا آسمان اور پاوں کے نیچے ایک چھوٹا سا زمین کا ٹکڑا چاہتی ہے-

سوال: آپ اب ریٹائر ہو چکی ہیں تو آپ اپنا وقت کیسے گذارتی ہیں؟

جواب: ریٹائرمنٹ بھی ایک قسم کی نوکری ہوتی ہے- میں نے ریٹائرمنٹ بے کار بیٹھنے کی لئے نہیں لی ہے-یہ میرے لئے تخلیق کا ایک اور مرحلہ ہے جس میں مجھے عورتوں کی نفسیات پر تحقیق کا  وقت مل گیا ہے-

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *