Type to search

خبریں سیاست

وزیر اعظم عمران خان نے 9 سال استعمال کے بعد جہانگیر ترین کی گاڑی واپس کردی

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے جہانگیر ترین کی طرف سے تحقفہ کردہ بیش قیمت لینڈ کروزر جیپ انہیں واپس کر دی ہے۔ یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں شوگر مافیا کے خلاف فرانزک رپورٹ سامنے آئی ہے اور اس نے مبینہ طور پر  چینی بحران کی وجوہات کا پتہ چلاتے ہوئے اس میں جہانگیر ترین کو ملوث قرار دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کو وزارت عظمیٰ تک پہنچانے والے کرداروں میں جہانگیر ترین صف اول میں رہے ہیں۔ سیاسی جوڑ توڑ اور اس کے لئے اربوں روپے کا خرچ اٹھانے سے لے کر تحریک انصاف کے  لئے ایم این اے ایم پی ایز خریدنے اور میڈیا مینج کرنے تک جہانگیر ترین پیش پیش رہے ہیں اور یہ واضح ہے اگر جانگیر ترین کرپٹ ہیں تو اس کرپشن کے مال سے استفادہ کرنے والوں میں وزیر اعظم عمران خان کا نمبر پہلا ہے اور اسی حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

عمران خان   کے زیر استعمال مذکورہ گاڑی کا ماڈل 2011 ہے اور ابھی تک اسکا ٹوکن ٹیکس جہانگیر ترین کی کمپنی بھر رہی ہے۔ عمران خان کے زیراستعمال  رہنے والی اس گاڑی کے حوالے سے اہم معلومات  صحافی فخر درانی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے گذشتہ ماہ شئیر کی تھیں۔  انہوں نے عمران خان کی گاڑی کی ملکیت کے حوالے سے کچھ دستاویزات شئیر کی ہیں۔ فخر درانی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا  کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کو لینڈ کروزر LEE-1 جہانگیر ترین نے نہیں علیم خان نے دی تھی۔ 1 کروڑ 69 لاکھ کا یہ قیمتی تحفہ ترین نےہی دیا۔علی ترین کا نام نہ صرف گاڑی خریدتےوقت کی رسید میں ہےبلکہ اسکےسالانہ ٹوکن تک JK Farms آج تک ادا کررہاہے۔خان صاحب کم از کم ٹوکن تواپنی جیب سےدے دیا کریں۔

یاد رہے کہ جہانگیر ترین کا جہاز بھی عمران خان اور پی ٹی آئی کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ جہانگیر ترین نے ایک ٹاک شو میں انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے پنجاب کے سیاسی خاندانوں کو توڑ کر پی ٹی آئی میں شامل کیا تھا۔

 

 

Tags:

You Might also Like

1 Comment

  1. Salamat Ali مئی 24, 2020

    Every prime minister give adva ntage to his friends in every govt. If Imran khan give advantage to Tareen tgen no any problems .bear it

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *