Type to search

Coronavirus خبریں

اعتزاز احسن کے بھائی ڈاکٹر اعجاز احسن کرونا وائرس سے انتقال کر گئے

پاکستان پیپلز پارٹی رہنما اعتزاز احسن کے بھائی ڈاکٹر اعجاز احسن کرونا وائرس سے انتقال کر گئے ہیں.

ڈاکٹر اعجاز احسن ایک مانے ہوئے ڈاکٹر تھے جنہوں نے 1957 میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے گریجویشن کی اور 70 کی دہائی میں علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل تھے اور 90 کی دہائی میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے پرنسپل بھی رہے. پاکستان کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کے پرنسپل بھی رہے.

ڈاکٹر احسن نے سرجری پر ایک ٹیکسٹ بک کتاب لکھی اور دوسری تکمیل کے مراحل میں تھی جب ان کا انتقال ہوا.

Tags:

1 Comment

  1. عمران خان مئی 24, 2020

    رویت ہلال کمیٹی آسٹریلیا کی حقیقت اور وقت کی ضرورت.

    کل مورخہ 23 مئی 2020 میں پورے اسلامی دنیا میں چاند دکھائی دیا اور 24 مئی 2020 کو تمام دنیا میں متفقہ عید منائی گئی۔ اس وقت صرف آسٹریلیا کی رویت ہلال کمیٹی. . . Moon Sighting Committee وہ واحد تنظیم سامنے آئی جنہیں پورے آسٹریلیا سے کہیں بھی چاند کی شہادتیں موصول نہیں ہوئیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ سادہ لوح باقی اکثریت کیساتھ مل کر عید کی خوشی سے محروم ہو کر رہ گئے۔ اور ایک ایسی عید جس میں تمام امت مسلمہ غالباّ پہلی مرتبہ عید الفطرکے موقع پر یکجا ہونے جا رہی تھی ۔ تاہم رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے عید کا اعلان نہ کرکے اس کاوش میں دراڑ ڈال دی گئی اور دشمنوں کے اس پراپیگنڈا کو تقویت بخشی گئی کہ مسلمان کبھی بھی ایک پیج پر نہیں آ سکتے۔. بہت سے ناقدین کو یہ بھی کہتے سنا ہے کہ اگر رویت ہلال کمیٹی بھی عید کا اعلان کر دیتی تو شائد رویت ہلال کمیٹی کی ضرورت ہی ختم ہو جاتی کیونکہ عوام کا سائنسی کیلنڈر پراعتماد بڑھ جاتا اور مستقبل میں ایسی کمیٹیوں کی ضرورت ہی نہ رہتی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے عوام کو ایسی کمیٹیوں کو زیادہ سنجیدہ لینے ضرورت نہیں ہے تاکہ اپس میں اتحاد و یگانگت کی فضا پیدا ہو ۔
    یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ آسٹریلیا میں زیادہ تر موسم ابر آلود رہتا ہے اور یہاں naked eye سے عید کے چاند کو دیکھنا شاد و نادر ہی ممکن ہے ۔
    جب اذان دینے کیلئے ٹیکنالوجی تبلیغ کرنے کیلئے ٹیکنالوجی خطبہ دینے کیلئے ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جاتا ہے تو چاند دیکھنے کیلئے ٹیکنالوجی کو ماننے میں یہ منافقت اور ہٹ دھرمی کیوں ؟
    کون تاریخ کے اس صِدق کو جُھٹلا سکتا ہے کہ جب لاؤڈ اسپیکر ایجاد ہوا تھا تب برِ صغیر پاک و ہند کے جید اور معتبر علماء کرام نے متفقہ فتویٰ صادر کیا تھا کہ اس کا استعمال حرام ہے اور اس میں شیطان بولتا ہے اور اب مولوی حضرات بڑے مزے سے لاؤڈ اسپیکرز پر تقریریں کرتے نظر آتے ہیں۔

    عمران خان میلبورن

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *