Type to search

تاریخ سیاست فیچر مذہب

تاریخی شواہد کے مطابق ارطغرل بت پرست غیر مسلم تھے؟

آج کل سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر ترکی ڈرامہ ’ارطغرل‘ کا خوب چرچا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ اسلامی تاریخ کے سنہری دور کی کہانی ہے اور پاکستانیوں کو اپنی تاریخ سے روشناس کرانے کے لئے یہ ڈرامہ ضرور دیکھنا چاہیے۔

‏ترکی کی تاریخ پر ایک بڑا علمی کام چار ضخیم جلدوں پر مشتمل Cambridge History of Turkey ہے، جس کی تدوین میں ترک اور عثمانی تاریخ پر اتھارٹی پروفیسر ثریا فاروقی معاون مدیر کے طور پر اور ان کے علاوہ دیگر ترک مؤرخین بھی شامل تھے۔ اس کی پہلی جلد میں جو 1071 سے 1453 کے زمانے سے متعلق ہے، ارطغرل کا نام صرف ایک جگہ، صفحہ 118 پر، مذکور ہے۔ مصنف کے نزدیک ارطغرل کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے اور اس کی موجودگی کا پتہ اس کے بیٹے عثمان کے ایک سکے سے چلتا ہے۔ مصنف کےالفاظ ہیں:

We know nothing about the life of Ertugrul, and his existence is independently attested only by a coin of his son Osman.

‏اردو میں اس سلسلے میں سب سے زیادہ معروف اور پڑھی جانے والی کتاب ڈاکٹر محمد عزیر کی دو جلدوں پر مشتمل ’دولتِ عثمانیہ‘ ہے۔ مشہور علمی ادارے دارالمصنفین، اعظم گڑھ، کی شائع کردہ اس تاریخ کا دیباچہ سید سلیمان ندوی نے لکھا اور اس  کتاب کا مقصد مسلمانانِ ہند کو ترکوں کے کارناموں سے روشناس کرانا تھا۔


یہ بھی پڑھیے: ارطغرل بمقابلہ اتاترک: آپ کا ہیرو کون؟


‏ڈاکٹر عزیر لکھتے ہیں کہ سلیمان شاہ اور ارطغرل غیر مسلم تھے اور قبیلے کا پہلا شخص جس نے اسلام قبول کیا ارطغرل کا بیٹا عثمان تھا۔ اس بات کی طرف توجہ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ سے وابستہ پروفیسر فراز انجم نے دلائی ہے جنہوں نے اپنی ایک حالیہ پوسٹ میں ڈاکٹر عزیر کی اسی کتاب کا حوالہ دیا ہے جس سے ہم اپنی ایک پچھلی ویڈیو ارطغرل بمقابلہ کمال اتاترک میں بھی حوالہ دے چکے ہیں۔

ڈاکٹر عزیر ایک مغربی مؤرخ Herbert Adams Gibbons کی شہادت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسٹر ہربرٹ گبنس نے اپنی مستند تالیف ’اساس سلطنت عثمانیہ‘ کو شائع کر کے یہ تازہ تحقیق پیش کی کہ سغوت میں بودوباش اختیار کرنے کے وقت عثمان اور اس کے قبیلہ کے لوگ بت پرست تھے۔ وہ براہِ راست ترجمہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’تیرہویں صدی عیسوی کی ابتدا میں خراسان اور ماورا النہر کے دوسرے علاقوں کی جو قومیں ایشیائے کوچک کی سرحدوں پر نمودار ہوئیں، ‏ان کے اسلام لانے کا کوئی صریحی ذکر کسی تاریخ میں نہیں ملتا۔ خود عثمانیوں کے مؤرخ نشری کے بیان سے بھی صاف اشارہ ملتا ہے کہ عثمان کا مورثِ اعلیٰ سلیمان شاہ اور اس کے ساتھی، جو اپنے وطن سے نکل کھڑے ہوئے، غیرمسلم تھے۔ بارہویں صدی عیسوی اور اس کے بعد کے سیاحوں کی بکثرت شہادتوں سے بھی ‏یہ معلوم ہوتا ہےکہ یہ قومیں بت پرست تھیں، ان مختلف ترکی قبیلوں نے جو اس زمانے میں ایشیائے کوچک میں داخل ہوئے اپنے آپ کو ایک اسلامی ماحول میں پایا۔ عثمان اوراس کے قبیلے کے اسلام لانے سےعثمانی قوم پیدا ہوئی۔ اس تبدیلیِ مذہب ہی کا نتیجہ تھا کہ 1290 کے بعد عثمان کی فاتحانہ سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔ ‏ارطغرل اور عثمان ایک دیہاتی سردار کی حیثیت سے سغوت میں سیدھی سادھی زندگی بسرکرتے تھے، ان کی اس زمانہ کی کسی جنگ یا فتح کا ذکر تاریخ میں موجود نہیں۔ ارطغرل کے تعلقات اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بالکل صلح و دوستی کے تھے۔ نشری کا بیان ہے کہ اس ملک کے کافر و مسلم دونوں ارطغرل اوراس کے لڑکے کی عزت کرتے تھے۔ ‏کافر و مسلم کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔ پھر دفعتاً ہم عثمان کو اپنے پڑوسیوں پرحملہ آور ہوتے اور ان کے قلعوں کو فتح کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ان لوگوں میں ایک ایسا تبلیغی جوش ہے جو صرف ان ہی لوگوں میں پایا جاتا ہے جنہوں نےحال ہی میں مذہب تبدیل کیا ہو‘‘۔

یاد رہے کہ ارطغرل کے باپ کا نام سلیمان شاہ ہونے کے حوالے سے بھی شکوک پائے جاتے ہیں کیونکہ اس کے ایک حقیقی کردار ہونے کی واحد شہادت عثمان کے نام کا ایک سکہ ہے جس میں اس کا نام ’عثمان بن ارطغرل بن قندوز الپ‘ لکھا گیا ہے۔ سلیمان شاہ کو پہلی مرتبہ ارطغرل کا باپ 1465 میں لکھے گئے انوری کے ’دستورنامے‘ میں کہا گیا ہے۔

ان دو مستند کتابوں کی شہادت ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ ڈرامے کے ‏ارطغرل کا تاریخ کے ارطغرل سے کوئی تعلق نہیں۔ تاریخ کا ارطغرل تو شاید مسلمان بھی نہیں تھا اور اگر مسلمان تھا بھی تو صلیبیوں اور منگولوں کے خلاف جہاد کی وہ ساری تفصیلات جو ڈرامے میں دکھائی گئی ہیں وہ اقبال کے الفاظ میں

ذرا سی بات تھی اندیشۂ عجم نے اسے
بڑھا دیا ہے فقط زیب داستاں کے لیے

ڈرامہ آپ کو پسند ہے تو اسے افسانہ سمجھ کر ضرور دیکھیے، ‏لیکن خدارا اسے اسلام کا ڈرامہ نہ بنائیے۔ گئے زمانوں میں عظیم انسانوں سے متعلق جھوٹی سچی کہانیاں کہہ کر انہیں خدا اور بھگوان کا درجہ دے دیا تھا۔ آج ہم خدا تو نہیں کہتے لیکن جھوٹے سچے ہیرو ہم نے خوب گھڑ رکھے ہیں۔ وطنِ عزیز میں ایسے جھوٹے ناخداؤں کی پہلے ہی بہتات ہے۔ براہِ مہربانی باہر سے اور درآمد کر کے ماحول کو مزید پراگندہ نہ کریں۔

Tags:

You Might also Like

93 Comments

  1. Khalid Mahmood مئی 26, 2020

    These two witnesses are not enough to prove that Ertugral was non muslim or only a fiction. The writer seems to ne biased and focused on proving that this is a fiction drama only. He mist do further research.

    جواب دیں
  2. Umer Niaz Khan مئی 27, 2020

    پروفیسر ڈاکٹر فراز انجم سے درخواست ہے کہ اس طرح کی تاریخی مقالہ قاٸداعظم کی زندگی، مذہب اور مسلک کے بارے تحریر فرماٸے۔ اسی طرح قاٸد اعظم کے مرزاٸیوں اور قادیانیوں بارے خیالات جامع تحریر کرے۔ علاوہ ازیں ان کی وفات بارے جو شکوک شبہات پاٸے جاتے ہیں اس کے بارے جامع نوٹ تحریر فرماٸے۔ مطالعہ پاکستان میں ہم نے جو پڑھا ہے یا آج کل جو پڑھایا جاتا ہے ان میں بہت زیادہ تضاد پایا جاتا ہے۔

    جواب دیں
  3. اگر مذکورہ حوالوں کو سچ مان لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ارطغرل نے سلجوق شہزادی سے شادی کی تھی یا نہیں۔ اگر کی تھی تو کیا سلجوق بھی غیر مسلم تھے؟
    اگر وہ مسلم تھے اور ارطغرل بمطابق ان حوالوں کے تھا بھی گمنام شخص تو ایک مسلم شہزادی نے ایک کافر اور عام قبائلی سے شادی کیونکر رچا لی؟

    جواب دیں
  4. کسی بھی تاریخی بات یا شخص کے بارے میں افسانہ یا داستان ایک حد تک تو جھوٹ ہو تو سکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ سراسر اس کا کردار ہی ختم یا تبدیل ہو جائے۔ ایسا ممکن نہیں۔
    حتی کہ ہمارے خلفاء راشدین کے بارے میں بھی کئی حقائق اب سامنے آچکے ہیں۔ جو کہ ہمارے رائج مذہبی اور عقیدتی پیمانوں سے متصادم ہیں اور اکثریت ان کے بارے خاموش بھی ہے مگر اس سب کے باوجود وہ عقل کی کسوٹی پر پورے اترتے ہیں اور دل ان کو تسلیم کرنے کی راہ میں حائل نہیں ہوتا۔ اگرچہ ہمیں ترکی تاریخ کا چنداں علم نہیں اور شائد زیادہ ضرورت بھی نہیں ہے مگر پورا عیسائی یورپ اور ترکوں کی مخالف مسلم طاقتیں اس بارے خاموش کیوں ہیں۔ یہ دو نامکمل حوالے عثمانی اور ترک قوم کی تاریخ کو جھٹلانے کیلئے قطعی طور پر ناکافی ہیں۔اور
    جس قدر یہ ڈرامہ دنیا بھر میں مقبول ہوا ہے اس اعتبار سے اس پر تاریخی اور علمی تنقید نہ ہونے کے برابر ہے۔ عربی شہزادے سلمان نے اس کے توڑ کے لیے ڈرامہ بنانے کا تو کہا لیکن ارطغرل نامی اس تاریخی شخصیت کے کردار کا انکار بہرحال نہیں کیا

    جواب دیں
  5. Zubsir مئی 27, 2020

    Chalo Jo b tha wo lekn us ne or us ki aal ne Islam or Islamic law nafiz krwaya Dunia Mai… Jahan ghlt hoty daikha us ko roka aj k musalman kalima parhny k bawajood kamzor ho.. Or wase b Jo daikhya ja raha us sy musalmano Mai thori gairat a jy to hum b jihad k liye nikal pare… Nijat ka zarya jihad hy h ab to….

    جواب دیں
  6. G مئی 27, 2020

    Failed attempt to prove Ertugul b
    y’s religion. It is clearly written that there is no prove of conversation to Islam. Let these tribal warroirs rest in peace. Pakistani lunday ky copy paste librals need to chill. This is good drama. It was already hit in the west on Netflix and audience watched it for . the sake of entertainment as normal people doi

    جواب دیں
  7. عرفان مئی 27, 2020

    من گڑھت کہانیاں جمع کرکے مسلمانوں کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا۔ پہلے نام تو دیکھوسلیمان شاہ ۔ کیا یہ مسلمان کا نام نہیں ہے۔ آپ کیسے کہ سکتے ہیں کہ وہ مسلمان نہیں تھا ۔

    جواب دیں
  8. fizza iqbal مئی 27, 2020

    Bnday ki jealousy ki b koi hadd hoti hai…. India ki panipat ko abbu bna k dekha tm logon ne or asal dushmni islam se h asl mn msla tm lgon k apne imaan ka h or kuch nh h

    جواب دیں
    1. علی وارثی مئی 27, 2020

      ہم نے پانی پت کو بھی نہیں بخشا تھا محترمہ: https://urdu.nayadaur.tv/27879/

      یہ پڑھیے

      جواب دیں
  9. Muhammad zahid zamir مئی 27, 2020

    صد ھزار لعنت تمہاری تحقیق پہ……

    جواب دیں
  10. Muhammad zahid zamir مئی 27, 2020

    صد ھزار لعنت تمہاری تحقیق پہ…… بندے کا ہاضمہ خراب ھوتا ھو تو تاریخ دان بننے کی کوشش نہ کرے…

    جواب دیں
  11. B Bilal مئی 27, 2020

    یہ ڈرامہ دریں اثنا اس بے حیائ اور فحاشی کے دور میں ایک نعمت سے کم نہیں۔ مسلمان بچوں کو جس طرح اسلامی تعلیمات اور عقائد سے روشناس کرایا جا رھا ھے وہ کس قدر قابل ستائش ھے۔۔غیر مسلم تو اس ڈرامے کے اس قدر زیر اثر ھیں کہ اس طرح کا پراپیگنڈہ کر کے اسلام کے اثر کو کم کر رھے ھیں۔ کئ لوگ تو ڈرامہ دیکھ کے مسلمان ھو چکے۔
    اس قدر عالیشان کاوش کو آپ لوگ کیوں داغدار کرنے میں کوشاں ھیں اور حیرت کی بات ھے کہ اپنے اسلاف کے کارناموں پر فخر کے بجائے اعتراض چہ معنی دارد۔۔۔اپ لوگوں کو یہ سب کر کے کون سا ثواب کمانا ھے۔کیوں آپ لوگ اپنی نسلوں کو تاریخی الجھنوں میں ڈال رہے ھو۔ بہت افسوس ناک ہے آپ کی یہ سوچ اور خطر ناک بھی

    جواب دیں
  12. التمش مئی 27, 2020

    سب باقی لوگ پاگل ہیں. بس پاکستانی ہی ہیں جو سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی چھاپ دیتے ہیں.

    جواب دیں
  13. Mrs Atif مئی 27, 2020

    This is the problem of our nation that we keep a superficial approach towards the things. Bringing up incorrect and /or insufficient evidences just to prove anything wrong is our favourite hobby. This drama series was aired in 2014 in Turkey and mind it, it is not Pakistan where everything gets on-aired without any authentication. Are the makers of the serial that much silly that they have invested the budget to highlight an anonymous (Non-Muslim) character(Astaghfirullah). It means that they have challenged ALLAH. The dialogues, the verses, the references, are they all supporting a lie. Please rethink the things 100 times before claiming on sensitive issues. For your information, if you can make a little more research, just probe out the details and articles written 5 years back about the serial, it will reveal the truth. There are many things needed to be focused, so if you are that much loyal, why not probe out and point out the fallacies present in our country’s history. There are many ambiguities waiting to be clarified, leave the Turks and their history, they can do this job far better than you.
    اھدنا الصراط المستقیم

    جواب دیں
  14. Khurram murad مئی 27, 2020

    Oh bahi samaj nahee ati aap logo ko takleef Kiya hai darama say Jo bi hai is main hamari Azeem history
    dikayi ja rahi hai jihad ka sabaq Diya ja raha hai humari youth ko or is ki takleef hai in sab so cald brod mindid logo ko agar tum logo nay nahee daikna na daiko par apna mun bi band rako

    جواب دیں
  15. Barkat ali Khan مئی 27, 2020

    Ajeeb bath hy Pakistani qoom kesi be chez main noqs nakaltie rahte hy, halankie khod ese character ke dramas nahee bana saktie, ma sewa divorced ya kesi ke bewi ke sath ishq larana…

    جواب دیں
  16. ذیشان مئی 27, 2020

    ہمارے اندر ابھی بھی کافی سعدالدین کوپیک،امیر بہاؤ الدین ،میر جعفر اور میر صادق ہیں جو اسلام اور اسلام کی تاریخ کو مسخ کرنے میں مصروف ہیں۔

    جواب دیں
  17. پاکستان مئی 27, 2020

    ارطغرل پر تنقید کرنے والوں نے کبھی ہندوستانی اور انگریزی مواد پر کبھی تنقید نہیں کی جو ستر 70 سالوں سے ہمارے معاشرے اور گھروں کو غیر اسلامی افکار و نظریات کی نشر و اشاعت کر رہے ہیں

    جواب دیں
  18. Muhammad Usman مئی 27, 2020

    Is ka malib ibn al arbi halima sultan saljoq shezadi jo muslman thy hlb k ameer aziz sb jhot hain khuda ka khuf kro yr

    جواب دیں
  19. Feroze Zubairi مئی 27, 2020

    ارےبھائ تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے۔ ذرا شرم کرو۔ کہاں کہاں سے قبریں کھود کھود کر ارتغرول اور اسکے باپ سلیمان شاہ کو کافر قرار دینے کی کوشش کرکے کیا کہنا چاہتے ہو۔ کیا تم لوگ ہر قسط کے شروع میں جو تعارف ہوتا ہے وہ نہہی سنتے جسمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک فکشن ڈرامہ ہے جو ترکوں کی تا ریج سے ملہوس ہے۔ تو بھائی اور بہنوں خدا کا نام لو۔ گڑے مردے قبروں سے نکال نکال کر جو ٹیمپو بنا ہے اس ڈرامے کو دیکھنے کا، اسکا خون تو نہ کرو۔

    جواب دیں
  20. Adnan Sabir Chaudhry مئی 27, 2020

    Just stop it and don’t spread this type of rubbish and fake news. Check his faith on Allah and humanity. U type of people always spread negativity even when nation is going towards rightous path.

    جواب دیں
  21. Wahab مئی 27, 2020

    Aj kal tu ek trend shro.hwe.ha islamic heroes.ko badnam krni ki or yahe fifth generation war ha koi raja dahir ko.hero muhamad bin qasim ko ghasib ko pretvi chohan.k or ranjet singh ko apny heros manty ha. Janab ye itne porani tarekh nhe k masakh hony ka dar ho wo log muslim.ty unka zikar muslamano or os waqt k.salebyu k tarekh ma majod ha or y kes tarha hosakta ha.k.usman ka baap.kafir ho or wo musalman hojaye or ek.nomuslim islami reayast qaim kry. Kya ibn arabi b jhoot ha or os.dor k sary aleem.afsani kerdar ha. Jes ny b y leka.ha.os ka.maqsad islamic tarekh ko negative krna.h

    جواب دیں
  22. Mubashar Hussain مئی 27, 2020

    یہ آرٹیکل بلکل بکواس ہے کیونکہ اس میں جس کتاب یعنی دولت عثمانیہ باے محمد عزیز کا حوالہ ہے وہ کتاب میرے پاس پڑی ہے اور نیٹ سے آسانی سے مل جائے گی اس میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ ارطغرل بت پرست تھا یا غیر مسلم تھا یہ صرف عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ایک پروپیگنڈہ ہے ہمارے چند لنڈے کے لبریز کا

    جواب دیں
  23. وہ پوچھنا یہ تھا کہ سلمان شاہ کسی کافر کا نام ہو سکتا ہے

    جواب دیں
  24. ناصر محمود مئی 27, 2020

    آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ ترک اپنی تاریخ غلط بتا رہے ہیں انھیں اپنی تاریخ صحیح طرح سےمعلوم نہیں اور آپ کے اکیسویں صدی کےپاکستانی مصنف بہتر جانتے ہیں.

    جواب دیں
  25. Kashanshami مئی 27, 2020

    یقیننا یہ شخص کوئی قادیانی ھے یا اس کا باپ ہندو ھو گا جس نے نیا نیا اسلام قبول کیا ھے

    جواب دیں
  26. Mere Abu مئی 27, 2020

    میرے خیال سے آپ لوگوں کو شرم تو بلکل بھی نہیں آتی ہوگی تحریف شدہ اور کافر مشرق کی کتابوں سے دلیل دے کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی اس کوشش کرنے والوں پر لعنت۔ آرٹیکل لکھنے کا اتنا ہی شوک ہے تو انڈین فلموں پر لکھو جو آج بھی تاریخ کو خراب کر رہے ہیں (پانی پت اور پدماوت) جیسی تھرڈ کلاس موویز بنا نبا کر وہاں زبان کو تالے لگ جائیں گے موت واقع ہو جاتی ہے ان پر لکھتے ہوئے⁦🖐️⁩⁦🖐️⁩

    جواب دیں
  27. محمد یاسر مئی 27, 2020

    چلو ایک افسانہ ہی صحیح. اب دیکھنا یہ ہے کہ اس افسانے کا مقصود کیا ہے. اسلام کی تبلیغ اور نوجوانان مسلم کو مایوسی سے نکال کر ان میں ایک عزم و حوصلے کی روح پھونکنا. کیا شیخ سعدی کی حکایت فولقط کہانیاں ہی نہیں. مگر کیا آج تک کسی نے ان پر اس لیے اعتراض کیا. نہیں. بلکہ اس کے مقصد اور اصلاحی پہلو کو دیکھ کر اس باقاعدہ تعلیم کا حصہ بنایا گیا.
    اب آجائیے مذہب کی طرف. کیا عباسیوں کی سلطنت کی فوج ترکوں سے بھری ہوئی نہیں تھی. کیا صلاح الدین ایوبی کی فوج کے جرنل کثرت سے ترک نہیں تھے. 1000 سن سے ہی کیا اکثریت کے ساتھ ترک اسلام میں نہ داخل ہو چکے تھے. آپ تاریخ کی کوئی بھی کتاب اٹھالیں اور بتائیں آپ خود بتائیں کہ کیا ان صدیوں میں ترکوں کو مسلمان ٹصور کیا جاتا تھا یا غیر مسلم.
    مگر کیونکہ اس افسانے سے پورپ اور یورپ زدہ غلاموں کے مقصود پر ضرب پڑھتی ہے اور تاریخ کا وہ رخ سامنے آتا ہے جو وہ مسلمان جوان نسل کو نہیں دکھانا چاہتے. اس لیے سلمان شاہ اور الطغرل غیر مسلم تھے حالانکہ اس وقت 90 فیصد ترک قبائل نا صرف اسلام قبول کر چکے تھے بلکہ اسلامی فوج کے اعلیٰ عہدوں پر تعینات تھے.

    جواب دیں
  28. ajmal khan مئی 27, 2020

    Unfortunatelely in pakistan in different profession there are agents who feel afraid of Islam and create doubts in the minds of true Muslims who love the services of Turks for Islam otherwis this so called historian and profossor would have to be a Hindu Oghuz the father of Turks was a Muslim Only a person falling in
    the category of those like propagating”mery jism mery marzy.r

    جواب دیں
  29. Ahsan Daud مئی 27, 2020

    Wesy to Jo ye history apni tarf sy likhi gai he ye Jhooth he. Ager ye Sach maan bi lia jaye to phir b hum ye drama dekhen gay kun k ye aisa drama he Jo family k sath dekha ja sakta he or Islamic he. I love ertugrul. Tum jesy 2 number jaali daanishvar is k views kam ni kr skty

    جواب دیں
  30. Ahsan Daud مئی 27, 2020

    Tum jesy 2 number danishwaron sy yehi umeed he. Aisi jaali posts kr k tum jesy is drama k views kamm ni kr skty. Ye family k sath banda dekh to sakta he

    جواب دیں
  31. adeel مئی 27, 2020

    Bakwas ha ya sab jo b ki ha. just behaf sa funding la k ya bakwas ki ha sab. shame on you

    جواب دیں
  32. touseef مئی 27, 2020

    کیا ارطغرل مسلمان تھا؟
    عاطف الیاس

    آج کل ترک ڈرامہ ” ارطغرل” کا خوب چرچا ہے جس کی کہانی سلطنتِ عثمانیہ کے بانی سلطان عثمان کے والد ارطغرل کی زندگی اور جدوجہد کے گرد گھومتی ہے۔اس کی مقبولیت دیکھ کر ایک خاص طبقہ کافی بے چین ہے جس کا اظہار مختلف صورتوں میں ہورہا ہے۔جب سے اس ڈرامہ نے عوامی مقبولیت حاصل کی ہے، یہ طبقہ سرتوڑ کوشش کررہا ہے کہ کسی طرح اس ڈرامہ کی تاثیر کو کم کیا جاسکے ۔ اس سلسلے میں کبھی وہ عثمانیوں کی تاریخ کو مسخ کررہا ہے، کبھی ڈرامہ کے کرداروں کی ذاتی زندگی کو لے کر سُر تان لگا رہا ہے اور کبھی یہ شگوفہ پورے یقین کے ساتھ چھوڑ رہا ہے کہ اس ڈرامہ میں جس ارطغرل غازی کو ایک مجاہد کے روپ میں پیش کیا گیا ہے، وہ دراصل مسلمان ہی نہیں تھا۔اُن کی اس بےچینی کی اصل وجہ کیا ہے، یہ تو آخر میں بتاؤں گا ، فی الحال ہم اس معمہ کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا واقعی ارطغرل مسلمان نہیں تھا؟

    ہمیں ارطغرل کے بارے میں جو جملہ معلومات دستیاب ہیں ان کا لب لباب یہ ہے کہ قائی قبیلہ بہت سے دوسرے ترک قبیلوں کی طرح موجودہ ترکستان سےہجرت کرکے اناطولیہ کی طرف آیا۔ یہاں ایک جگہ سے گزرتے ہوئے اطغرل نے اپنے سو جانبازوں کے ساتھ سلجوقی دستہ کی مدد کی جو صلیبی فوج سے جنگ لڑر ہا تھا۔ سلجوقی سلطان نے خوش ہوکر اس قبیلے کو سوغوت میں جاگیر عطا کی اور ارطغرل کو علاقے کا بڑا سردار بھی بنا دیا۔ ارطغرل اپنی وفات تک یہی رہا اور منگولوں اور صلیبیوں کے ساتھ نبرد آزما رہا۔ وہ مرتے دم تک سلجوقی ریاست کا وفادار اور حلیف رہا۔اس کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا عثمان سردار بنا جس نے بعد میں سلجوقی سلطنت کے انتشار کی وجہ سے اپنی ریاست کا اعلان کردیا جو بعد میں دنیا کی طاقتور ترین سلطنت بن کر ابھری اور اس نےخلافت کا تاج بھی اپنے سر پر سجالیا۔

    اب ارتغرل کے بارے میں ہمیں جو کچھ پتا ہے وہ کسی مستند تاریخ میں موجود نہیں کیوں کہ اس زمانے تک ترکمان خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے تھے اور ان میں اس طرح لکھنے پڑھنے کا رواج نہیں تھا۔عثمانیوں کے بارے میں ہمیں جو کچھ بھی مستند ذراائع سےپتا چلتا ہے و ہ ارتغرل کی وفات کے بعد یعنی 1300ء کے بعد کے زمانے کے حالات ہیں جب ایک باقاعدہ ریاست قائم ہوچکی تھی۔ اس لیے ارتغرل کے بارے میں میں ہمارا جملہ علم سنی سنائی باتوں، مفروضات اور قیاسات پرمشتمل ہے۔

    انھی مفروضات میں سے ایک مفروضہ کا حوالہ ڈاکٹر محمد عزیز نے اپنی تصنیف "دولتِ عثمانیہ” میں دیا ہے۔ ان کے بقول بیس بائیس سال پہلے تک یہ امر مسلم تھا کہ ارطغرل اور اور اس کے ساتھی ایشیائے کوچک میں داخل ہونے سے پہلے ہی مسلمان تھے لیکن 1916ء میں ایک امریکی صحافی ہربرٹ ایڈم گبنز نے اپنی تصنیف "The Foundation of the Ottoman Empire” کے ذریعے بتایا کہ عثمان اور اس کے قبیلے کے لوگ سوغوت میں بود وباش اختیار کرتے وقت بت پرست تھے۔

    اسی طرح ایک رائے وہ ہے ڈاکٹر علی محمد صلابی نے اپنی تصنیف "سلطنتِ عثمانیہ ” میں دی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب ارتغرل اناطولیہ کے شمال مغرب کی طرف بڑھ رہا تھا تو اس نے راستے میں سلجوقی اور صلیبی لشکر نبرد آزما دیکھے۔ صلیبی اسلامی لشکر کو پیچھے دکھیل رہے تھے ۔ ارطغر ل کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ پوری شجاعت اور بہادری کے ساتھ آگے بڑھے اور ہم مذہب اور ہم عقیدہ بھائیوں کو اس مشکل سے نکالے۔ اسلامی لشکر یہ جنگ جیت گیا اور اس کا امیر ارطغرل کا گرویدہ ہوگیا اور یوں سلجوقیوں کی طرف سے انھیں اناطولیہ کے مغرب میں جاگیر(سوغوت) عطا ہوئی۔پھر آگے چل کر وہ مزید لکھتے ہیں سلجوقیوں کو ارطغرل اور اس کے قبیلے کی صورت میں ایک طاقت ور حلیف مل گیا تھا جو صلیبیوں کے خلاف ایک زبردست قوت کا حامل تھا۔

    اسی طرح ایک اور رائے کلفیورڈ ای بوسورتھ کی ہے جس نے اپنی کتاب "اسلامی سلطنتیں” میں عثمانیوں کے بارے میں لکھا ہے کہ جب اناطولیہ کے دیگر علاقوں میں ترک حکومتیں قائم کی جارہی تھیں تو عثمانی بازنطینیوں سے مصروفِ پیکار تھے۔ مشرق سے آنے والے نئے ترکمانوں کی وجہ سے ان کی تقویت ملتی رہی کیوں کہ وہ مہاجرین عیسائیوں کے خلاف غازی بننے کے مشتاق تھے(یعنی ان میں اسلامی جہاد کی روح موجود تھی)۔

    ان تین آرا میں صرف پہلی رائے ایسی ہے جس میں ہربرٹ ایڈم گبنز کے حوالے ارطغرل اور اس کے قبیلے کا غیر مسلم ہونا لکھا گیا ہے۔ باقی دونوں آرا ارطغرل اور اس کے قبیلے کو مسلمان بتاتی ہیں۔ اب چوں کہ کوئی مستند تاریخ اور رائے تو موجود نہیں ، تو پھر جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔ جس کا جو جی چاہے وہ مفروضہ گھڑ لے یا کسی بھی مفروضے پر ایمان لے آئے۔ ایک بات تو طے ہے کہ وہ جس مفروضہ پر ایمان لائے ہیں، اس کے دلائل بہت ہی کمزور ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ کون سے تاریخی شواہد ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ارطغر ل اور اس کے قبیلے کے مسلمان ہونے والی رائے ہی زیادہ مضبوط ہے۔

    1۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ عمومی طور پر تمام ترک قبائل حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ادوار اور اس کے کچھ عرصے بعد ہی مسلمان ہوگئے تھے۔ مسلمانوں کو ترکوں سے پہلا تعلق 652ء میں بنا جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلامی سپاہ نے عبدالرحمن بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ترک علاقوں کی طرف پیش قدمی کی تو ترک سردار شہربراز نے مسلمانوں سے صلح کرلی اور ان کے لشکر کے ساتھ مل گیا۔ اسی لشکر نے بعد میں شمالی فارس کے کچھ علاقے بھی فتح کیے۔ بعد میں مسلمانوں کے حسن اخلاق اور اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر ترک مسلمان ہوگئے ۔پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلامی لشکر نے مارالنہر کے علاقے میں پڑاؤ کیا ۔ ایک وقت آیا جب ترکوں کے قدیم علاقے کے تمام ترک قبائل نے اسلام قبول کرلیا اور وہ اسلامی لشکر میں شامل ہوکر جہادی سرگرمیوں میں مشغول ہوگئے۔وہ ترک جو عرب علاقوں میں آکر آباد ہوگئے تھے، انھوں نے آگے چل کر عظیم سلجوقی سلطنت کی بنیاد رکھی جو عباسی خلافت کے تابع تھی۔ انھی ترکوں کے بھائی بند وقتا فوقتا ماروالنہر ترکستان سے گاہے بہ گاہے اناطولیہ کی طرف ہجر ت کرتے رہے اور گمان غالب ہے کہ یہ سب مسلمان تھے۔
    2۔ارطغرل کا عیسائی لشکر کی بجائے اسلامی لشکر کا ساتھ دینا بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عقیدے اورمذہب کا تعلق تھا۔
    3۔ ارطغرل کا اپنے بیٹے کا نام عثمان رکھنا جو عربی نام ہے اور رسول اللہ ﷺ کے صحابی ، خلیفہ راشد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے نسبت پر ہے۔
    4۔ارطغرل کے قریبی ساتھی کا نام عبدالرحمن تھا جو ایک اسلامی نام ہے۔
    5۔ارطغرل کی شادی سلجوقی سلطان کی بھتیجی حلیمہ سلطان سے ہوئی جو مسلمان تھی۔
    6۔عثمان کی شادی ایک مسلم صوفی کی صاحبزادی مال خاتون سے ہوئی ۔
    7۔ارطغرل جس طرح صلیبیوں اور منگولوں کے خلاف جہاد کرتا رہا ، وہ کسی قبائلی عصبیت سے زیادہ دینی حمیت کا اشارہ دیتا ہے۔
    8۔ عثمان نے اپنے باپ کی وفات کے دس سال بعد اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جو اس کے قبیلے کے اسلامی جذبے کی طرف اشارہ ہے۔
    9۔اگر ارطغرل بت پرست تھا تو اس کی قبر کیوں ہے،اسے تو جلایا جانا چاہیے تھا لیکن سوغوت میں آج بھی ارطغرل کی قبر موجود ہے۔
    10۔ ارطغرل کے نام کے ساتھ لکھا جانے والا غازی بذات خود جہاد اور اسلامی تعلیمات کی نشان دہی کرتا ہے۔

    یہ وہ تاریخی شواہد ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ارطغرل اور اس کا قبیلہ پہلے ہی سے مسلمان تھا اور وہ صلیبیوں اور منگولوں کے خلاف اپنے جذبہ ایمانی کی وجہ سے جہاد کرتا رہا جس کا نتیجہ آگے چل کر ایک اسلامی ریاست کی صورت میں سامنے آیا جو مستقبل کی عظیم عثمانی خلافت کے طور پر ابھری۔یہاں یہ بات بھی سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ انگریزی مستشرقین اور مورخین نے جس طرح ہندوستان کی تاریخ مسخ کرکے ہندوستان کے اسلامی دور کو آلودہ کرنے کی کوشش کی ، اسی طرح خلافت کے کمزور پڑنے کے بعد انھوں نے خلافت عثمانیہ کو بھی اپنے نشانے پر رکھا اور اس کی تاریخ مسخ کرنے کی کوشش کرتے رہے ۔ یہی کام آج لبرل طبقہ کسی نہ کسی صورت میں سرانجام دے رہا ہے۔

    اب یہاں پھر وہی سوال سامنے آتا ہے کہ آخر لبرل طبقہ اور قوم پرستوں کو اس طرح کے تاریخی ڈرامہ سے کیا پرخاش ہے؟ تو اس کا جواب جاننے کے لیے ذرا ایک نظر ڈرامہ "ارطغرل” پر ڈالتے ہیں۔

    ڈرامہ "ارتغرل غازی” میں جو کلچر دکھایا گیا ہے ، وہ ترک اسلامی کلچر ہے جس میں مذہب اور مقامی روایات کا حسین امتزاج نظر آتاہے ۔ اس ڈرامہ کی بنیاد ی اوصاف میں پاکیزگی، جوشِ ایمان اور اسلام کی سربلندی جیسے تصورات موجود ہیں۔اسی طرح اس کی روح بنیادی طور پر جہادی ہے۔ ڈرامہ کا آغاز ہی تلوار کے لیے لوہا کوٹتے ہوئے اللہ اکبر کے نعروں سے ہوتا ہے جو جوش اور جذبہ جہاد کی قوت لیے ہوئے ہیں۔”ایمان کی طاقت کے آگے فولاد کا نرم پڑنا” اور "مظلوموں کا مددگار بننا” جیسے مکالمے اس جہادی فضا کا پیش نامہ بن جاتے ہیں۔

    تو دراصل یہ وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے لبرل طبقہ اس ڈرامہ سے ناراض ہی نہیں بلکہ خوف زدہ ہے۔ ان کے خیال میں مسلم دنیا میں اس طرح کے جوشِ ایمانی ، اسلام کے لیے مرمٹنے اور جہادی تصورات لیے ہوئے ڈراموں کو نہیں دکھانا چاہیے۔ ان کے خیال میں مسلمانوں کو "گیم آف تھرون ” جیسے ڈرامہ ہی دیکھنے چاہییں تاکہ ان کے اندر آزاد خیالی اور بے حیائی جیسے وائرس بھی اپنی جگہ بناسکیں. تودراصل ان کا مسئلہ ملکی یا غیر ملکی کلچر کا نہیں بلکہ اسلامی اور غیر اسلامی کلچر کا ہے اور وہ کس خیمہ میں پناہ لے رہے ہیں ،یہ بھی صاف نظر آرہا ہے۔

    جواب دیں
  33. Bilal مئی 27, 2020

    Fuck off, liar
    They were Muslims

    جواب دیں
  34. Nouman مئی 27, 2020

    Saudi Govt is Drama k Bohut Khilaf hai … Shayad unko Khush kernay k lye Aisay points nikal ker Musalmano K Zehan kharab kernay ki koshish ki gayee hai….
    Ye Oldest trend hai k Ksi ko ksi khilaf kerna ho to .. usey Mutazad let do … Means k Logo me Shak dal do….
    Meethay or Educated tareeqay se shak paida kernay ka ye axha tareeeqa hai.

    History se sahi conclusion nikalna ho to detailed history read kerni parti hai …

    جواب دیں
  35. Ahmad مئی 27, 2020

    کیا آپ کو پتا ہے ہے کہ سعودی عرب ب یو اے ای اور اور مصر میں میں اس ڈرامے پر پابندی لگائی گئی ہے ہے اور اس کے خلاف فتویٰ بھی جاری کیا گیا ہے ہے بھلا کیوں؟
    کیوں کہ موجودہ عرب حکمرانوں کے جد امجد اور عبدالوہاب نجدی نے انگریزوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے ان علاقوں میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی اور نتیجے میں ان علاقوں کی حکومت پائی ۔ تو جو آل سعود کے ٹکڑوں پہ پلتے ہیں ان سے ایسی ہی تحقیق کی توقع ہے ۔

    جواب دیں
  36. Basit مئی 27, 2020

    Dunia m kabhe bhe musalman kamyab nhn hoskte or uski wajah or kuch nhn ye h k jub bhe koe ache or musbat baat hote h to es he qoum or Deen k loag keechar uchalna shuru kr deite hain aise Kise or ko aisa Kam krne ki zarorat he nhn parte alhamdulilah hum munafiq loag hain humara bhe apne Nabi or ehl bait or asahab s koe Leina deina nhn h khud ko
    Haji kehne wale ye criticism krne wale khud munafiq hain

    جواب دیں
  37. Nouman مئی 27, 2020

    Correction please…
    Turkey k chahnay walo k zehan kharab kernay ki koshish ki gayee hai…
    Just me nay comment me likha thaSaudi Govt is Drama k Bohut Khilaf hai … Shayad unko Khush **kernay k lye Aisay points nikal ker **Musalmano K Zehan kharab kernay ki koshish ki gayee hai……

    جواب دیں
  38. Basit مئی 27, 2020

    Etrugrul apka behnoi tha bloody bustard… Aise he loag the jinhon ne Allah k ambiya ko bhe jhutlaya tha or kaha tha k Quran to bs purane qoumon ki kahani btata h sharam karein kuch bhe aisa likhne s pehle Ap es Deen ki koe khidmat kr rahe or Allah es baat s bakhobi agah h

    جواب دیں
  39. سبا مئی 27, 2020

    یہ غلط ہے اگر یہ سچ ہوتا تو ارطغل کو دفنایا کیوں ہے اگر وہ بت پرست تھا تو جلا دیتے

    جواب دیں
  40. Rifaqat Hussain مئی 27, 2020

    السلام علیکم، اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ الیکٹرانک میڈیا نے ہمارے معاشرے کو بدل دیا ہے۔ اسی اور نوے کی دہائیوں میں جو ڈرامے ہمارا قومی ٹیلیویژن ہمیں دکھا رہا تھا وہ ہمارے ملک کے رائیٹرز لکھ رہہے تھے اور ہمارے ہی ڈائریکٹر اور پروڈیوسر انہیں پیش کر رھے تھے۔ ان میں بڑی حد تک ھماری اقدار، تہذیب اور تاریخ نظر آتی تھی۔ پھر اکیسویں صدی کے آغاز ہوا اور ہمارے ملک میں انڈین ڈراموں اور فلموں کی یلغار آ گئی ۔ ان کی کہانیاں گھریلو سازشوں اور رقابتوں پر مبنی تھیں اور صرف ایک دھائی کے بعد یہی سب آج کل ھمارے گھروں اور پورے معاشرے میں عملی طور ھو رھا ھے ۔ ھماری روایات پس پشت جا چکی ہیں۔ اس سب کے پیچھے ھماری معاشرتی تربیت کے ساتھ انہی انڈین ڈراموں کا بہت بڑا ہاتھ ھے۔ ہمارے موجودہ دور کے رائیٹر بھی شاید اپنی تاریخ اور روایات بھول گئے ھیں ۔ یہاں تک کہ ڈراموں میں الفاظ بھی ھندی زبان کے استعمال کرتے ھیں ۔
    ارتغرل کی کہانی میں رشتوں کے حوالے سے بالخصوص والدین کا احترام اور محبت، دینی شعائر کا احترام اور پاسداری، اسلام کی محبت ایک جہد مسلسل کے ساتھ بلند عزم کے علاوہ نیت کا اخلاص دیکھنے کو ملتا ھے۔
    اگر مذکورہ بالا پوسٹ میں بتانے گئے تاریخی شواھد کو درست بھی مان لیا جائے تو پھر بھی ارتغرل غازی کی کہانی ھمارے معاشرے پر اثر تو ضرور ڈالے گی۔ اور یقینا وہ اس سے بہتر ھو گا جو اثر انڈین ڈراموں اور فلموں نے ھمارے معاشرے پر ڈالا ھے۔
    اس ڈرامے ارتغرل غازی کوملنے والی پذیرائی نے یہ تو بتا دیا کہ پاکستانی عوام کیا پسند کرتی ھے۔ لھذا ضرورت اس امر کی ھے کہ ھم اپنے ڈراموں کا معیار بہتر کریں تاکہ ھماری عوام اپنا ڈرامہ اور فلم دیکھے ۔

    جواب دیں
  41. Haamid مئی 27, 2020

    Q aitny puramy bath ko cheer ry hin yaha to quaide azam k mazhab k bary may kisi ko lata ny. Bath krty hai artughral ki…

    جواب دیں
  42. Nasir khan مئی 27, 2020

    Most of liberal are felt miserable now whenever they were
    hard turk drama series Ertugrul Gazi In Pakistan people have been keenly watching then some liberal come out their caves to define God forbid about Ertugrul Gazi religious matter to discuss recklessly shame on them

    جواب دیں
  43. Shoaib siddiqui مئی 27, 2020

    Agar ertugal musalman nahi tha to bete ka naam usman kese rakha, what a bullshit article

    جواب دیں
  44. Fezan Ali مئی 27, 2020

    Bro hisTory me kuch log kehty k jab wo saljhoki saltanat k areas me aaye to wo Muslims nh thy or kuch kehty Muslims Thy… but in reality wo Muslims thy or yeh jo baaten han k wo Muslims nh thy yeh sirf west ka propaganda tha Muslims k against dukh hota han Muslims me chand paiso k liye boht dafa apni taarikh ko badla… Allah hidayat de sabko…
    Ameen!

    جواب دیں
  45. Hassam مئی 27, 2020

    Just came across this shit article which is a total malign against the muslims and there history. These bastards can not digest the glorious history of our muslim ancestry

    جواب دیں
  46. مظہر راٹھور مئی 27, 2020

    مغربی تاریخ دان ہمیشہ سے مسلمانوں کے خلاف لکھتے رہے ہیں اور اور خصوصا ترکوں کے خلاف کیوں کہ کہ ترکوں نے یورپ کے کے کئی ممالک پر حکومت کی۔ پاکستان کے نالائق تاریخ دان انگریزوں کی نقل اتار کر اپئی دکان مت چمکائیں ۔ ان انگریز کے چمچموں کو اسلامی تاریخ سے تکلیف ہوتی ے۔

    جواب دیں
  47. Arbab Malik مئی 27, 2020

    Aur Is Blog Ka Writer Sab Sy Bara Chutiya Tha, Shawahid Samny A Gaye

    جواب دیں
  48. Muhammad Talha مئی 27, 2020

    پھر ارطغرل کا دربار کیوں موجود ہے یا اس سے بھی مسئلہ ہے؟
    اگر وہ مسلمان نہ ہوتا تو اپنے بیٹے کا نام عثمان نہ رکھتا اور نہ ہی اپنے بیٹے کو اسلامی سلطنت بنانے کا ویثزن دیتا.

    جواب دیں
  49. Changez Khan مئی 27, 2020

    History Turkey Ki Hain, Jealousy Pakistan Main In Logo Ko Ho Rahe Hain,Khud To Kabhi Islamic History Padhi Nahi, Yaha Angrezoo Ki Books Ka Hawalay Day Rahai Ho, Afsos, Sad Afsos.

    جواب دیں
  50. Sania مئی 27, 2020

    Shame on you that you are here to support the enemies. You are spreading the agenda of haters of Islam. How can you deny what thousand of Turk historian wrote and tell people what 2 or 3 people wrote.When turks left Central Asia they were Shamans. But they accepted Islam when It came before 1400 years ago. Turks were nomad and they used to change their location. They spend many years in Iran and they accepted Islam. Seljuks were also Turk and they were Muslims. Alp Arslan who was the second sultan of Seljuks fought the battle of Malazgirt opened door of Anatolia for Turks in 1071. The tomb of Suleman Shah is near Aleppo now. How Idol worshippers can make a tomb. Have not you seen the tomb of Ertugrul Ghazi and respect of his tomb in heart of Turkish people. Go and ask from a Turks what is Ertugrul Ghazi for them. You know Ertugrul from a month or two. But Turkish people spent their life listening about him. Do not hurt the feeling of those Turks who adore you like brother and sisters. And remember there are only 25% followers of Kemal Atatürk in Turkey, who have problem with Muslims and Muslim heros. Rest of 75% can still die for the love of Islam. d

    جواب دیں
  51. Tabassum Rasool مئی 27, 2020

    Yeh paka wahabi kanjar ha… Wahabi aur unka baap angraiz he is trha ki history likh rha hain Turkish k khilaf… Turk log hazrat Umar RA k dor mn he Muslim ho gaye tha. Yeh blogger koi mutmain be gherat ha. Aur jis kitab ka yeh hwala da ra ha wo bakwas ha niri, jhoti aur ajeeb c kitab ha mena sari
    turk taarekh prrhni ha tu Muhammad Ali Alsalabi ki kitab saltanat e usmania parrho , pta chal jaega sab… parrhi ha, sab bakwas likha ha us mn. Agr

    جواب دیں
  52. ممریز علی للہ مئی 27, 2020

    ساری بات ٹھیک ہوسکتی ہے ڈرامے میں وہ چیزیں نہیں ہوں گی جو تاریخ میں ہوں گی مگر آپ کے مورخ اسے غیر مسلم بھی نہیں کہہ سکتے، سوچنے والی بات یہ ہے کہ تاریخ کے پنے اب کیوں کنگھالے جا رہے ہیں جب لوگ ارطغرل سے اپنی محبت ظاہر کرنے لگے، جیسے آپ کے دو مورخ سلیمان شاہ اور ارطغرل کو بت پرست کہہ رہے ہیں ایسے آپ اور بھی تاریخ کنگھالیں، کیا پتہ ارطغرل ڈرامے سے بھی بڑھ کر بہت بڑا مجاہد گزرا ہو

    جواب دیں
  53. Ayesha مئی 27, 2020

    Boht hi bhondi koshish thi is dramy main islam ko badnam tu nhi kiya gya aik acha pehlu dekhaya hy muslmano ki gerat ko ujagar krny ki koshish ki gai hy tu pata nhi kyun tum logon ny fatway jari krna shuru kr diye magrib ko ju aag lagi hy wo kam hy ky apny bhi shru hu gy hamry nujwan nasl ju hollywood or or bollywood ki behudgyan dekh kr kharab hu gai apny deen sy door hu gai usy bhi apna app pehchannay ka moqa mila hy mujhy is post ka maqsad samajh nhi aya jab bollywood or hollywood ki ki behayaai yahan chalti hy tu tab tab tum log kyun nhi bolty

    جواب دیں
  54. Mrs mazhar مئی 27, 2020

    جھوٹ ہے تاریخ کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش ہے ارتغرل کی بیوی علاوالدین کی بھتیجی تھی تو کیا اس مسلم عورت کی شادی ایک بت پرست سے کر دی گئی تھی 🤔حد ہے کوئی مسلم۔دشمنی میں اس حد تک گر سکتا ہے کبھی کسی بت پرست کا نام سلمان شاہ سنا ہے اسکی بیوی کا نام حائمہ خاتون تھا یہ بھی مسلم نام ہے بس کر دو اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرنا

    جواب دیں
  55. Saeed مئی 27, 2020

    Dunia mei gumrah karnay waaley itney milengey k bss..aur specially Pakistan mei..

    جواب دیں
  56. Ayesha مئی 27, 2020

    Bari hi bohndi koshish thi dramy main islam ko badnam tu nhi kiya gya blky islam ky achy pehlu ujagar kiye gy hain ju hamri nujwan nasl ko apna ap apna deen samjhny mai madad kr rha hy pehly magrib ko kam aag lagi hui thi ky ab apny bhi shru hu gy bollywood or hollywood ny hamryi nasl ko kharab kr diya deen sy door kr diya is dramy sy un main jahad ka jazba ubhra hy deen ki muhabat jagi tu ye tu achi baat hui naa jab hollywood or bollywood ki behudgyan yahan chalai jati hy tu tab tum log nhi bolty ab sab ko zubaan lag gai mujhy post ki samjh nhi is ka maqsad kya tha bhai chor 🙏do is ka pecha agar kuch acha hu rha hy tu huny du🙏

    جواب دیں
  57. Alı Raza مئی 28, 2020

    Dramay baaz ha koi jis ne bhi itni mehnat se kamzoor post bana ker share ki maghribi logon k hawaly choor do ub to ya agar itny hi maghribi logon ki sadaqat per yaqeen ha to unhi k bary me likha Karo musalmano ko Target na banao .. copy paste director

    جواب دیں
  58. sabir مئی 28, 2020

    laaanat beshummmar lihny waaaly py

    جواب دیں
  59. خرم مرزا مئی 28, 2020

    لگتا ہے تحریر کرنے والے نے ٹھانی ہے کہ اس نے ارطغرل کو جھوٹا ثابت کر کے چھوڑنا ہے۔ پتا نہیں دنیا میں اس ڈرامے کے خلاف اتنا بخار کیوں ہے ۔ اگر کہیں بھی کوئی بھی چھوٹی سی کوشش اسلامی انقلاب اور جہاد فی سبیل اللّٰہ پہ بات ہوتی ہے تو مغرب اور مغرب زدہ چیلوں کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھتے ہیں۔ان کی راتوں کی نیندیں کیوں اوڑ جاتی ہیں۔۔۔۔یہ بات تحقیق طلب ہے ۔ باقی دو مجھول خوالوں کی بابت اصل تاریخ سے منہ پھیرا جا سکتا۔۔۔۔

    جواب دیں
  60. Arif Rehman مئی 28, 2020

    اگر یہ تاریخ جھوٹی ہے تو کیا اس میں دیکھا گیا کردار ابن عربی بھی جھو ٹ ہے۔ اور اگر ابن عربی نے سچ میں ارطغرل کی مدد کی تھی تو یہ بات بھی پکی ہو جاتی ہے کہ ارطغرل مسلمان تھے۔۔۔

    جواب دیں
  61. Muhammad Asif مئی 28, 2020

    آدھی بات کرنا منافقت ہے۔ ڈاکٹر عزیر کی کتاب کا جو صفحۂ آپ نے لگایا ہے اس سے پہلے والا صفحہ بھی لگا دیتے تو بات ایک دم کلئیر ہو جاتی۔ اس سے پہلے والے صفحے پر انہوں نے مختلف مورخین کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایشیا ئے کوچک میں داخلے سے پہلے یہ قبیلہ مسلمان ہو چکا تھا۔

    جواب دیں
  62. Adnan مئی 28, 2020

    ایک طرف کہتے ہو کہ ارتغرل کے بارے تاریخ میں نہیں ملتا پھر کہتے ہو کی وہ بت پرست تھے۔ تاریخی حوالے بھی تم لوگوں نے انگریزوں کے ماننے ہیں جن کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہہ اسلام دشمنی نکال رہے ہوں۔
    موصوف فرماتے ہیں ڈراما آپ کو پسند ہے تو افسانہ سمجھ کے دیکھیے اسلام کا ڈراما نہ بنائیے۔ اگر کوئی اسلام کا ڈراما بنا کر دیکھتا ہے تو آپ کو کیا تکلیف ہوتی ہے۔ چاہے جھوٹی کہانی ہے پھر بھی کوئی ارتغرل کو خدا نہیں بنا رہا۔

    جواب دیں
  63. Azmat مئی 28, 2020

    Admn to bara gadha hy.dr mohammad aziz ny ye nahe kaha k artughral budparast tha balkeh bad angreez moreekhen ka hawal dya hy k on k mutabeq wo but barst tha.
    Agar wo budbarst hota to alauddin ki mangool k khelaaf madad na karta.wesy he chorta hy.
    Dr aziz ki ketab muny yad hy.97 saal ki sge me wo mara.osmsn ostsk muslman tha lekin baap kasfir.laant ho tere soch pe.fetny pardazi

    جواب دیں
  64. Muhammad Adil younas مئی 28, 2020

    سب بکواس کر رہے ہو تم لوگ یہ سب قادیانی کتوں کا ایجنڈا ہے کتے لعنتی ہو دنیا کے سب سے بڑے تم لوگ قادیانیو

    جواب دیں
  65. Niaz saddiqi مئی 28, 2020

    Sulman sha kisi hindou ka nam ho ni sakta or na koi hindoo itna bahadur or insaf pasand ni ho sakta tm waisy he jalty rahi

    جواب دیں
  66. Ahmed Hammadi مئی 28, 2020

    رجب طیب اردوان نے صیح کہا ہے کہ جب تک شیر اپنی تاریخ خود نہیں لکھے گا تو گیڈد شیر بنے پھرتے رہں گے.، لعنت ہے تیری تحقیق پہ،

    جواب دیں
  67. Usman مئی 28, 2020

    Bhai drama maqbool ho gaya hai ab koi faida nahi

    جواب دیں
  68. muhammad asif مئی 28, 2020

    یہ کفار کی لکھے ہوئے تاریخی شواہد اور بھی بڑا کچھ کہتے ہیں۔ اصل میں یہ کافر میڈیا جاتا نہیں ہے کہ مسلمانوں اپنے ہیرو کو دیکھیں

    جواب دیں
  69. Rana Dawood Rehman مئی 28, 2020

    منہ پے مارتا ہوں میں ان شواہد کو تاریخ دانوں کے منہ پر تھو ہے تم لفافہ میڈیا پر اور تاریخ دان تحقیق دانوں پر ۔۔۔۔
    لگتا ہے اس بار لفافہ آندر سے نہیں بلکے باہر سے مغرب سے ہے اور لفافہ بھی بہت بڑا ہے۔۔۔
    کیوں کہ یہ ڈرامہ مغرب ارو ان سے لفافہ لینے والوں کے لئے ڈروائنا خواب ہے ۔۔۔
    کیا سلیمان شاہ اس وقت کافروں کے نام ہوتے تھے کچھ تو سوچ لیتے تحقیق کرتے وقت کہ کہیں سے یہ جھوٹے الفاظ پر مبنی نہ ہو ۔۔۔ عوام کو پاگل سمجھتے ہو اک نیا فساد ریٹنگ کے لئے ۔۔۔۔۔۔

    جواب دیں
  70. Adeel Khalid مئی 28, 2020

    ہمارے گھٹیا ہونے کی یہی نشانی ہے کہ ہمارے پاس اپنی تاریخ میں تو کچھ ہے نہیں بیان کرنے کو۔ لیکن اگر کوئی دوسرا اپنی تاریخ بیان کرے تو ہم اسے من گھڑت ثابت کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ اس سب کے پیچھے یقینن ہماری ننگی ڈرامہ اور فلم انڈسٹری کے وہی لوگ ہیں جنہیں اس ڈرامے سے تکلیف ہے۔ اگر ہماری انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں موجود اداکاروں کا شجرہ نسب نکالا جائے تو 80% کا تعلق مراسیوں یا توائفوں کے خاندان سے نکلنا ہے۔

    جواب دیں
  71. ظفر حسین مئی 28, 2020

    صدیوں سے لوگ یزید کو نعوذ بااللہ صحابی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔تو کیا اس قاتلِ اہلِ بیت کو صحابی مان لیا جائے؟اسی طرح یہ چند ذہنی خلفشار کے لوگ ایک بڑی مسلم خلافت کے ابا ء واجداد کو مغرب کی آشیر واد پر غیر مسلم بنانے پر تلے ہوئے ہیں تو کیا مان لیں؟اپنے دل سے فیصلہ کریں کسی کی بغض میں لکھی گئی تحریر سے نہیں۔یہی میرا پیغام ہے جہاں تک پہنچے؟

    جواب دیں
  72. Awais Abbasi مئی 28, 2020

    اس طرح کی کہانیاں گھڑ کر عوام کو گمراہ نہیں گیا جا سکتا ۔ اگر ارتغرل ایک غیر مسلم دیہاتی سردار تھا تو ایک سلجوق شہزادی سے کیسے شادی کر لی؟

    جواب دیں
  73. Farah مئی 28, 2020

    ہمارے پاس مسلم ہیروز کی معلومات پہلے ہی کم ہیں۔۔ اگر کوئی اچھا کام کر رہا ہے اس پر بھی ردو کد کیا جاتا ہے۔ ہی لوگ تو قاءد اعظم کو بھی پارسی کہیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ اپنے دین کی خدمت کے لیے کسی کو چن لیتا ہی تو عالم اسباب سے مواقع پیدا کر دیتا ہے ۔
    ارطرل کی قبریں موجود ہیں ،اسلامی تعلیمات کے مطابق دفن ہیں۔۔ مسلم سلجوقیوں میں شادی ہوئی۔ یہ فروغ دینے کا زمانہ تھا۔

    جواب دیں
  74. Muhammad Anees Hayat مئی 28, 2020

    ڈاکٹر عزیز نے جس ریفرنس سے بات کی ہے اس کتاب کا مصنف عیسیٰایئ ہے ۔
    شرم آنی چھا ڈاکٹر عزیز۔ کو مسّلم فاتحہ کا salebeon کی کتاب سے ریفرنس لینے اور اس پر aitimad کرنے پر۔

    جواب دیں
  75. Wasiuddin مئی 28, 2020

    Only 1 suggestfor you plz delete this news as soon as possible.

    جواب دیں
  76. Ali مئی 28, 2020

    Jhot or baqwas he ye sab.. Heros ko badnam krny k lye.

    جواب دیں
  77. Saqib مئی 28, 2020

    Dr.Aziz ko sharam ane chaye chutia insan ek non Muslim k reference ksi gair Muslim bolna kaha ki aqalmandi hai?

    جواب دیں
  78. Muzzamil Hussain مئی 28, 2020

    tum log kafiro ki kitab ka diya huwa hawal hame bata rahy ho yeh shaya krne se pehle soch lete k Ba Roz e Qayamat Allah ko kya jwab doge Haramio bad zaat kirdaro..
    Lanat hoo ese logon per jo chand peson k lye Muslamn k dushman bn jaty hen

    جواب دیں
  79. Hamza kazmi مئی 28, 2020

    ارے نام نہاد مورخو
    ایک بات یاد رکھو
    اس ڈرامے کو دیکھ کر مسلمانوں میں جذبہ ایمانی پیدا ھوا ھے
    جو تمھیں برداشت نہیں ھورہا
    پھر
    جس کی نسل میں مسلسل 37 بادشاہ گزرے ھوں اور زمانہ حال تک آئے ھوں
    ان کی خاندانی روایات کو کیسے جھٹلاؤ گے
    باپ بیٹے سے اور وہ اپنے بیٹے سے کیوں تعلیم نہیں پستے رھے
    ایک طرف کہتے ھو کہ
    ان کے متعلق کچھ علم۔ہی نہیں
    پھر انہیں غیر مسلم کس علم۔سے لکھتے ھو
    ان کی نام۔کی مسجد سلیمان
    ان کی قبریں
    ان کی نام۔کی جامعہ مسجد ارطغرل پھر ان پر بیٹھے نسل در نسل کائی قبیلے والے
    تم کس کس شہادت کو جھٹلاؤ گے؟
    اگر تاریخ کی کتب نہیں مرتب کی گئیں تو کیا
    وہاں تاریخی واقعات نہیں ھوئے
    کیسے ممکن ھے؟
    لکھا نہ جانا اپنی جگہ
    مگر
    نسل در نسل خاندانی روایات کا انکار کیسے ممکن؟
    اپ کو درد کسی اور بات کی ھے

    جواب دیں
  80. Mubashar مئی 28, 2020

    Pathetic article which has no worth, just waste of time in reading

    جواب دیں
  81. Junaid Faiz مئی 28, 2020

    Don’t speard fake information of ur Oxford thug. British are enemies of Osmalis. Ertugrul Ghazi was a very very pious Muslim Mujahid & muslims should only read islamic history from Islamic sources. I ask you how come a non muslim write good about muslims when their forefathers were comprehensively beaten by Osmalis but with cunningness they rooted out khilafat & now they are baking false informations from the hands of Razies another sworn enemies of muslims & children of ibn saba & shah ismael rafzi beaten by Khalifa Sultan Salim Osmani Rehmatullahalay Alhamdulillah.

    جواب دیں
  82. Jawad مئی 28, 2020

    Ap apni Cambridge ki ulti tareekh apne pas rakhe jo ismali tareek key bilkul khilaf hn kabi din-e-ilahi ijad karne wale akbar ko hero baathe ho kabhi alauddin khilji jese behtreen or deendar badshah ko zalim
    Meri jaan tareekh me ye bhi ata hen key irtugrul bey ik shiekh-e-tareekath se beth hua tha to koi ger muslim apne beth hothe hue dehka hn kya

    جواب دیں
  83. لگتا ھے.. موصوف نے سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے اپنی کہانی بنای ھے.

    جواب دیں
  84. Rashed مئی 28, 2020

    لعنت ھو اپکی تحقیق پر اگر یہ سچ ھوتاتو ارتغرل اور ان سب کی مزار ایک اسلامی ملک میں اس قدر قابل احترام نہ ھوتے جو تاریخ انکا وھاں پڑا ہیں اپکو یا تو پتہ نہیں یا انتہائی گھٹیا حرکت کی ھے

    جواب دیں
  85. Imad مئی 28, 2020

    This is just a rubbish post!!! ….. Nonsense rumours

    جواب دیں
  86. Saeed مئی 28, 2020

    The book which is wriiten have their accuracy .the drama is produced under the supervision of Great islamic Leader Tayyab Ardogan,now due to this dram the shop of alot peoples are closing they are trying to ti antimarketing in order to divert the people from this historical drams towards thier C grades films or drams

    جواب دیں
  87. Niaz مئی 28, 2020

    اچھا بت پرست تھا اسلامی ریاست کی بنیاد رکھ گیا. عثمان نام کا ایک مسلم بیٹا بھی چھوڑ گیا جس نے خلافت عثمانیہ بھی قائم کرلیں جادو سے.

    جواب دیں
  88. Adeel مئی 28, 2020

    Sub sy pehly tu main yeh kehna chahun ga k yeh post likhny aur share krny wala koi common sense nie rakhta Hai q k agr aisa na hota tu aj ertugrul ka mizar turkey na banata. 2nd turkey waly apni history hum sy behyar janty Hain.3rd yeh k kisi qoum ka arooj aur zawal koi ek dum sy nie hota, iss main centuries Lagti Hain. Agr usman pehla bnda tha jo Muslim Hua tu ek dum sy us ny ek milk ki bunyad rakh di aur ek dum sy us ko bndy mil Gaye jo islam ka paigham lay kr puri Dunya par cha Gaye. Koi ghair Muslim apni qabar nie banata wo jalaty Hain phir qabar q mojood Hai ertugrul ki. Ertugrul ny mehnat ki jo usman nay phir milk ki bunyad rakhi. Agr wo Muslim nie tha phir turkey is ko protocol q deta hai.
    Actually baat sirf yeh Hai k ab islam dushman forces ko smj nie ah rei k Islam k jazby ko kis roka r ahy haijae ab negative propogandas par ut

    جواب دیں
  89. Murtaza مئی 28, 2020

    The writer of this nonsense write up has just 1 sense, that is nonsense. This drama is a problem for only those stupid who r either non Muslims (as India has banned it) or those who have a fear of turkis resurrection (like Saudia n Iran), rest no 1 has any problem with it

    جواب دیں
  90. Zafar Hasan Reza مئی 28, 2020

    This article presented in the name of research appears to be biased and lack many information to support it. This also appears to be based on arab-turk rivalary. It has not been informed as to who twisted this history and gave the name Suleman Shah to father of Osman . This biased story is one sided only and no evidence has nlbeen given in favor of the other side opinion. What are the basis of cambridge history writer.
    This articles has flavor of arabs point of view about turks and that would never be positive.

    جواب دیں
  91. Uzair Hashmi مئی 29, 2020

    Us Zamane main bhi sazishe thi aj bhi sazishe hi hain

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *