Type to search

احتجاج انسانی حقوق بین الاقوامی جرم خبریں

ایرانی شہر تالیش میں باپ نے غیرت کے نام پر 13 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

ایران کے صوبہ گیلان کے شہر تالیش میں باپ نے 13 سالہ بیٹی رومینہ اشرفی کو غیرت کے نام پر قتل کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گذشتہ دنوں تالیش شہر کی رہائشی رومینہ اشرفی اپنے 35 سالہ دوست کے ساتھ گھر سے فرار ہوگئی تھی اور دونوں شادی کرنا چاہتے تھے، تاہم ان کے خاندان والے شادی کے مخالف تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے فرار ہونے والے جوڑے کو تلاش کر کے لڑکی رومینہ کو اس کے گھر واپس بھیج دیا تھا حالانکہ رومینہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر وہ گھر واپس گئی تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔

21 مئی کو رومینہ کے باپ نے سوتے میں اسے قتل کیا اور تیز دھار آلے کی مدد سے اس کا سر دھڑ سے جدا کر دیا، بعد ازاں قاتل باپ نے سب کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا۔

پولیس نے 13 سالہ رومینہ کے قتل کے الزام میں والد کو گرفتار کرلیا اور واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

ایران کی نائب صدر برائے امور خواتین و خاندان معصومہ ابتکار نے بھی واقعے کی تحقیقات کیلئے خصوصی حکم جاری کیا ہے۔

دوسری جانب غیرت کے نام پر ہونے والے اس قتل کے خلاف ایران میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور کئی ایرانی شہریوں نے سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں قانون کے تحت غیرت کے نام پر قتل کرنے یا تشدد کے مجرم باپ یا گھر کے فرد کو کم سے کم سزا دی جاتی ہے، باپ کو بیٹی کے قتل کے الزام میں 3 سے 10 سال تک قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *