Type to search

حادثہ خبریں قومی

پی آئی اے طیارہ حادثہ: کب، کہاں اور کس کس نے غلطی کی؟ چشم کشا انکشافات

ایوی ایشن کے حوالے سے تحقیق کا رحجان رکھنے والے شجیع اور معین عباسی نے پی آئی اے طیارہ حادثے پر سینئر صحافی رضا رومی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اہم انکشافات کیے ہیں۔

طیارہ حادثے میں پائلٹ کی ممکنہ غلطی

معین عباسی نے طیارہ حادثے میں پائلٹ کی ممکنہ غلطی کے حوالے سے کہا کہ جہاں تک پائلٹ کا سوال ہے تو قدرتی طور پر ہی ان کا خاندان ان کے دفاع میں آگے آئے گا اور کوشش کرے گا کہ یہاں ان کا کوئی قصور نہ ثابت ہو۔ یہ بالکل قدرتی ہے اور ایسی صورتحال میں پہلی انگلی ہمیشہ پائلٹ پر ہی اٹھتی ہے، کیونکہ وہ ہر چیز کا انچارج ہوتا ہے، جہاز کا رہبر وہی ہوتا ہے۔ کیا غلط ہوا، کس طرح ہوا، ان سب سوالات کے جوابات اسی کے پاس ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے وہ اپنا دفاع کرنے کے لئے ہم میں موجود نہیں، لہٰذا ہم صرف یہی کر سکتے ہیں کہ جب تک سرکاری رپورٹ نہیں آ جاتی، ہم اپنے تجزیات کی بنیاد، امکانات اور قیاس کو ہی بنا سکتے ہیں۔

طیارہ حادثے میں ایئر ٹریفک کنٹرولر کا کردار

طیارہ حادثے میں ایئر ٹریفک کنٹرولر کے کردار کے حوالے سے رضا رومی کے سوال پر ایوی ایشن معاملات پر گہری نظر رکھنے والے شجیع نے بتایا کہ ایئر ٹریفک کنٹرول کا نظام بہت منظم انداز میں ترتیب دیا گیا ہوتا ہے، ایک گراؤنڈ کنٹرولر ہوتا ہے جو گراؤنڈ پر ہونے والے تمام عمل کا ذمہ دار ہوتا ہے، ایک ٹاور کنٹرولر ہوتا ہے جو ایک ایئر پورٹ پر آنے اور جانے والی تمام ایئر ٹریفک کا ذمہ دار ہوتا ہے اور پھر ایک اپروچ کنٹرولر ہوتا ہے جو ایئر پورٹ کے ارد گرد ایئر ٹریفک کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ جو ایئر پورٹ پہنچنے تک جہاز کو رہنمائی فراہم کرتا ہے، اور پھر ایک مرکزی کنٹرولر ہوتا ہے۔

شجیع نے بتایا کہ کہانی ہماری شروع ہوتی ہے، جب پائلٹ نے رن وے سے 5 میل پہلے رپورٹ کیا کہ وہ 3500 فٹ کی بلندی پر ہیں، جو کہ کراچی کی طرف بڑھتے ہوئے تھوڑی زیادہ ہے، اگر آپ چارٹس کی ایک ویب سائٹ ہے jeppesen.com جو ایک ایئر پورٹ پر آنے اور جانے کے تمام عمل کے حوالے سے تمام طریقہ کار لکھتی ہے، تو اس چارٹ کے مطابق جب آپ پانچ میل دور ہیں تو آپ کو 1680 فٹ کی بلندی پر ہونا چاہیے، لیکن یہ جہاز 3500 فٹ کی بلندی پر تھا۔ ایئر ٹریفک کنٹرولر نے انہیں رہنمائی فراہم کرنے کی کوشش کی، کہ وہ اپنی اضافی بلندی کو کم کریں تاکہ مجوزہ بلندی پر واپس آ جائیں۔ لیکن جہاز میں موجود کریو بضد تھا کہ وہ ILS پر موجود ہیں، ILS لینڈنگ کا خودکار نظام ہے۔ جہاز میں موجود پائلٹس کے اصرار پر اس نے انہیں رن وے 25 Left پر لینڈ کرنے کی اجازت دے دی۔ لہٰذا جہاز اندر آیا اور دو تین منٹ بعد یہ ’Go around‘ پر چلا گیا۔ Go Around کا معنی یہ ہے کہ جہاز نے اپنی آمد ملتوی کر کے مکمل طاقت استعمال کرتے ہوئے دوبارہ پرواز بھر لی ہے۔

شجیع نے بتایا کہ پائلٹس کی جانب سے جہاز میں کسی قسم کی خرابی کا ذکر یہاں نہیں کیا گیا، لینڈنگ گیئر کے حوالے سے یا کسی بھی قسم کی خرابی کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ اگلی گفتگو جو ہمیں سنائی دیتی ہے، وہ دوسری لینڈنگ کے دوران ان کے مڑنے کے وقت ہے، وہ 3000 فٹ کی بلندی پر تھے اور جنوب مشرق کی طرف مڑ رہے تھے اور پھر انہیں دوبارہ لینڈنگ کے لئے نیچے آنا تھا اور اس وقفے کے دوران کچھ ہوا، جو رن وے سے صرف 1.3 کلومیٹر پہلے جہاز کے گرنے کی وجہ بنا۔

رن وے پر طیارے کی انجن کے نشانات

معین عباسی نے اس حوالے سے بتایا کہ رن وے پر موجود نشانات سے یہ بالکل واضح ہے، یہ پہیوں کے نشانات نہیں ہیں، یہ جلے کے نشان ہیں، ہائڈرولک آئل کے نشانات ہیں۔ پہیوں کے نشانات بالکل نہیں ہیں کیونکہ ان کا درمیانی فاصلہ کافی زیادہ ہے، اور انجن کا جو یہ حصہ ہوتا ہے، یعنی اس کا نچلا حصہ، یہ وہ جگہ ہوتی ہے۔ جہاں بہت باریک وائرنگ، اور نالیاں بچھی ہوتی ہیں اور اس میں ٹرانسمیشن گیئر بکس ہوتا ہے۔ لہٰذا جب انجنز رن وے سے ٹکرائے، تقریباً دو سے تین بار، پہلے بائیں جانب سے، پھر دائیں جانب سے، پھر دونوں اکٹھے، کیونکہ جہاز ایک seesaw کی صورت میں رن وے سے لگ رہا تھا۔ یہ جو ٹکراؤ تھا، یہ گو بہت شدید نہیں تھا، لیکن انجن کا نچلا حصہ انتہائی باریک دھاتی پیندا ہوتا ہے، جس کو ظاہر ہے کہ 200 knots کی رفتار پر کنکریٹ کے فرش پر گھسیٹے جانے کے لئے نہیں بنایا گیا تھا۔ وہ حصہ جل گیا اور اس دباؤ کے تحت یہ لائنیں بری طرح متاثر ہوئیں۔ ہائڈرالک لائنز لیک کرنے لگیں اور ممکن ہے کہ انجنز کو ایندھن کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہو، کیونکہ یہ انجنز کا نچلا حصہ انتہائی حساس اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

معین عباسی نے مزید کہا کہ رن وے پر پڑنے والے نشانات بہت واضح ہیں اور جب ایک بار پائلٹ نے جہاز کو اٹھایا، انجنز کا بتدریج فیل ہوتے چلے جانا ایک ناگزیر عمل تھا۔ کیونکہ دیکھیں اگر انجنز کو ایندھن مل رہا ہو، تو وہ یکایک کام کرنا بند نہیں کرتے، ان کے کام کرنا چھوڑنے کی کوئی نہ کوئی وجہ لازمی ہوتی ہے اور میرے خیال میں اس کی رن وے کے ساتھ ٹکراؤ کے علاوہ اور کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔

پی آئی اے کے جہازوں کی صورتحال

پی آئی اے کے جہازوں کی صورتحال کے حوالے سے رضا رومی کے سوال پر معین عباسی نے کہا کہ جو صورتحال ہے، آپ کہہ سکتے ہیں کہ انجینیئرنگ کا محکمہ اپنی پوری محنت کر رہا ہے اور میں بہت سے ایسے دوستوں کو جانتا ہوں جو پی آئی اے میں کام کرتے ہیں اور A 320 پر بھی کام کرتے ہیں، وہ ایک ہی بات بولتے ہیں اور یہ بہت صحیح بات ہے، جو آپ کو منطقی نتیجے پر پہنچنے میں مدد دیتی ہے، کہ اگر ہمیں پرزے ملیں تو ہم جہاز کو اڑنے کے قابل رکھ سکتے ہیں، اگر ہمیں پرزے ہی نہیں ملیں گے تو ہم کیا کریں؟ یہ کام جگاڑ سے نہیں چلتا۔

ایئر ٹریفک کنٹرولر اور پائلٹ کی گفتگو

شجیع نے ایئر ٹریفک کنٹرولر اور حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے پائلٹ کے درمیان ہونے والی گفتگو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 1980 کی دہائی سے یہ بھی متعین طریقہ کار ہے پاکستانی ایئر کنٹرولرز نے پائلٹس کو یہ یاد دہانی کروانا شروع کر دی کہ گیئرز نیچے اور لاک ہونے چاہئیں، یہ بھی اس گفتگو میں سنائی نہیں دے رہا اور جہاز کو کراچی ٹاور کے حوالے بھی نہیں کیا گیا، یہ وہ ٹاور ہوتا ہے جو کراچی میں تمام جہازوں کی آمد و رفت کے لئے ذمہ دار ہوتا ہے۔ ان دونوں کنٹرولرز میں فرق یہ ہے کہ ایئر کنٹرول ٹریفک ایک کمرے میں ہے۔ اس کے سامنے ایک سکرین ہے اور اس پر نقطے بنے آ رہے ہیں اور اسے انہی نقطوں کو دیکھتے ہوئے جہاز کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے۔ جبکہ ٹاور دراصل ایئر پورٹ پر ہوتا ہے اور ان کے پاس ایئر فیلڈ کا ایک مکمل نظارہ ہوتا ہے، وہ حقیقتاً جہاز کو آتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ اگر گیئر نیچے نہیں، تو ٹاور کنٹرولر کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس پر نظر رکھے۔ برطانیہ میں ان کے پاس باقاعدہ دوربینیں ہوتی ہیں اور انہیں ہر پرواز کو مانیٹر کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اور پوری دنیا میں یہی طریقہ کار ہے، لہٰذا اگر ٹاور کو بتایا جاتا تو وہ یہ دیکھ سکتے تھے کہ لینڈنگ گیئر نیچے نہیں ہے اور وہ جہاز کو واپس ہوا میں بھیج دیتے، لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ جہاز اپروچ کنٹرولر ہی کنٹرول کر رہا تھا جو صرف سکرین پر ایک نقطہ دیکھ رہا ہے۔ ٹاور کنٹرولر حقیقتاً جہاز کو اندر آتے ہوئے دیکھ سکتا تھا، لہٰذا جب اس نے کہا کہ وہ دوبارہ پرواز بھرنے لگا ہے، اور اس نے بھر لی، تو اس وقت جہاز کی رفتار کم ہونے لگی اور یہ تیزی سے نیچے آنے لگا۔ یا تو اس وقت انجنز جواب دینے لگ گئے تھے۔

دو انتہائی اہم نکات

شجیع نے کہا کہ یہاں دو نکات انتہائی اہم ہیں، پہلا یہ کہ انجنز کے نیچے بہت سیاہ جلنے کے نشانات تھے اور انجن بالکل برے حالوں میں تھا، یہ پہلا اشارہ تھا کہ کچھ غلط ہو رہا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ جہاز کے نیچے ایک ram air turbine ہوتی ہے، یہ ٹربائن اس وقت استعمال میں آتی ہے جب جہاز کو بجلی کی ترسیل بند ہو جائے اور جہاز کو بجلی جہاز کے انجنز فراہم کر رہے ہوتے ہیں، تو اسی موقع پر کچھ ہوا ہوگا جس کے باعث ram air turbine استعمال میں آئی۔ یہ ایک چھوٹا سا پنکھا ہوتا ہے جو ہوا سے ٹکراتا ہے تو گھومنے لگتا ہے اور جہاز کو بجلی پہنچاتا ہے۔ تو لہٰذا جہاز کی رفتار کم ہونے لگی اور یہ تیزی سے نیچے آنے لگا۔

جب جہاز ڈوبنے لگا

معین عباسی کا کہنا تھا کہ جب جہاز نے رن وے سے دوبارہ اڑان بھری تو یہی وہ موقع تھا جب جہاز ڈوبنے لگا۔ اسے 360 ڈگری گھوم کر آنا تھا اور جو کچھ ہم نے چارٹس پر دیکھا ہے، اس کے مطابق وہ شروعات میں کافی ٹھیک انداز میں نیچے آیا لیکن آخری موقع پر گراف کو دیکھیں تو تھوڑا سا اوپر کی طرف اٹھا ہے، جس کا شاید مطلب یہ ہے کہ پائلٹ نے جہاز کا اگلا حصہ اوپر کی طرف کھینچا، اس نے بالکل آخری لمحات میں ایسا کیا جس سے جہاز اور تیزی سے نیچے آنے لگا کیونکہ جہاز کا پیندا بالکل سیدھا ہو گیا اور یہ ڈوبنے لگا اور زمین پر تیزی سے آیا۔ شاید وہ جہاز جس رفتار سے نیچے آ رہا تھا، اس کی ناک اوپر نہ کی جاتی اور ایسے ہی آتا رہتا تو کیا پتہ وہ ان مکانوں سے آگے نکل جاتا، اور یہ 1.3 کلومیٹر کا رستہ بھی پار کر کے رن وے تک پہنچ جاتا۔

معین عباسی نے مزید کہا کہ جب تک کہ ہم اصل transcript کو نہیں سن لیتے تب تک ہمیں نہیں پتہ کہ اس کاک پٹ کے اندر کیا ہوا ہے، ہمیں نہیں پتہ، ہمیں اسے سننا ہوگا، لیکن یہی کہا جا سکتا ہے کہ جو کچھ غلط ہو سکتا تھا، وہ غلط ہوا۔ جو کچھ ہم نے دیکھا، سنا اور پڑھا ہے، ایئر ٹریفک کو خود بھی کچھ وضاحتیں دینا ہوں گی۔ کپتان اپروچ کنٹرول سے بات کر رہا تھا، ٹاور کہاں تھا؟

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *