Type to search

خبریں سیاست قومی

’میرا ابو اور ماموں بک سکتا ہے حسان نیازی نہیں بک سکتا‘

اداکارہ عظمیٰ خان پر ملک ریاض کی بیٹیوں کی جانب سے کیے گئے تشدد کے معاملے پر ان کا کیس لڑنے والے وکیل حسان نیازی نے ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا ابو اور ماموں بک سکتا ہے، حسان نیازی نہیں بک سکتا۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کے بھانجے، معروف تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی کے بیٹے اور اداکارہ عظمیٰ خان کے وکیل حسان نیازی نے ایک ویب چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب سے ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف عظمیٰ خان کا کیس لڑنے کا آغاز کیا ہے، مجھے فون پر اطلاع دی جاتی ہے کہ ہمارے لوگ بکتے جا رہے ہیں۔

عظمیٰ خان کے معاملے پر حسان نیازی نے مخالفین پر واضح کیا کہ وہ بکنے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میرا ابو (حفیظ اللہ نیازی) اور ماموں (عمران خان) بک سکتا ہے، حسان نیازی نہیں بک سکتا۔

انٹرویو میں مزید بات کرتے ہوئے حسان نیازی نے انکشاف کیا کہ ان کے لوگ 2 سے 4 کروڑ میں بک رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد عام آدمی نے اپنی قیمت لگا لی ہے۔ مجھے بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ تم بھی پیسے لو اور سائیڈ پر ہو جاؤ۔

حسان نیازی کا کہنا تھا کہ میں ایک کرائے کے گھر میں رہتا ہوں، میں چاہوں تو مجھے پلاٹ اور گھر کی آفر کی گئی ہے، لیکن میں انصاف کے لئے کھڑا ہوں، مجھے کچھ نہیں چاہیے۔

اس کے علاوہ حکومت اور پنجاب پولیس پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت ملک ریاض کے گھٹنوں میں بیٹھ گئی ہے، ہماری پولیس ملک ریاض کے پاؤں کی میل بن گئی ہے۔

پولیس کے بارے میں مزید بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے اطلاع دی گئی کہ پولیس کے دو افسران ملک ریاض کے گھر کی طرف جا رہے تھے لیکن آدھے راستے میں ہی شاید انہیں کچھ نظر آگیا یا انہیں بھی خرید لیا گیا، وہ بھی واپس آ گئے۔

خیال رہے کہ چاند رات اداکارہ عظمیٰ خان کے گھر پر ملک ریاض کی بیٹیوں نے مسلح افراد کے ہمراہ حملہ کیا تھا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد جان سے مارنے کی دھمکیاں دی تھیں۔

Tags:

You Might also Like

1 Comment

  1. Mohammad Baig مئی 30, 2020

    To drag the family for just having the numbers and increasing the ranking looks bad and not good for the family affairs.It will not help him increasing his professional rates because there speaks the working not the huler guler like they did in the hospital..

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *