Type to search

بین الاقوامی خبریں ریاستی دہشت گردی

جب بھارت نے سفارتکاروں کے روپ میں خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹس کو پاکستان میں تعینات کر دیا

گذشتہ سال 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے کشمیر کو اپنا حصہ قرار دینے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کی ایک نئی کشیدگی سامنے آئی ہے۔ اور اب اسے سفارتی سطح پر بھی محسوس کیا جارہا ہے۔ تازہ ترین پیش رفت کے دوران تو بھارت نے پاکستان کے دو سفارتی عملے کے اراکین کو کو جاسوسی کے الزام میں زیر حراست رکھنے کے بعد انہیں فوری طور پر ملک چھوڑ جانے کا حکم دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق دونوں سفارتی اراکین کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں ملک سے نکل جانے کا حکم دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کی سرگرمیاں سفارتی آداب کے خلاف تھیں۔

اس معاملے پر پاکستان کی جانب سے بھی سخت احتجاج سامنے آیا ہے اوروزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بھارت کے اس اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سفارتی عملے کے دو اراکین کو جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر 31 مئی کو حراست میں لیا گیا تھا اور نئی دلی میں پاکستانی سفارتخانے کی مداخلت کے بعد انھیں رہا کیا گیا۔

لیکن  یہ سب اس سے قبل بھی ہو چکا ہے۔  یہ بات 2016 کی ہے جب  نئی دہلی میں بھارتی حکام نے پاکستانی سفارتخانے کے ملازمین پر پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد پاکستان نے اپنے 6 اہلکاروں اور عملے کے ارکان کو واپس بلایا تھا۔

اس کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں واقع بھارتی سفارت خانے کے آٹھ اہلکاروں کے نام ظاہر کرتے ہوئے ان پر انڈین خفیہ ادارے را اور انٹیلجنس بیورو کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد بھارت کو ان افراد کو وطن واپس بلانا پڑا تھا۔

پاکستانی حکام نے جن 6 بھارتی اہلکاروں پر مبینہ طور پر را کے لیے کام کرنے کے الزامات عائد کیے تھے ان میں کمرشل قونصلر راجیش کمار اگنی ہوتری، فرسٹ سیکرٹری کمرشل انورگ سنگھ، ویزہ اتاشی امردیپ سنگھ بھٹی کے علاوہ عملے کے ارکان دھرمیندرا سوڈھی، وجے کمار ورما اور مادھون نندا کمار شامل تھے۔

بیان میں راجیش کمار اگنی ہوتری کو پاکستان میں بھارتی خفیہ ادارے کا سٹیشن چیف قرار دیا گیا تھا۔ان کے علاوہ مبینہ طور پر انڈین انٹیلیجنس بیورو کے لیے کام کرنے والے دو اہلکاروں میں فرسٹ سیکریٹری پریس اینڈ انفارمیشن بلبیر سنگھ اور پرسنل ویلفیئر آفسر جیا بالن سینتیل کے نام شامل تھے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *