Type to search

تاریخ سیاست فیچر

جب بھارتی خفیہ ایجنسی نے پاکستان کے آرمی چیف پرویز مشرف کی ایک ‘لاپروا’ کال ریکارڈ کرکے کارگل کا پانسہ پلٹ دیا

جنرل عزیز: ’یہ پاکستان ہے، کمرہ نمبر 83315 سے ہمارا رابطہ کرائیں۔‘

جنرل مشرف: ’ہیلو، عزیز‘

جنرل عزیز: ’گراؤنڈ سیچوئیشن اوکے ہے۔ کوئی تبدیلی نہیں۔ ان کے ایک ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔ کیا آپ نے کل کی خبر سنی کہ میاں صاحب نے اپنے بھارتی ہم منصب سے بات کی ہے۔‘

’انھوں نے ان سے کہا ہے کہ معاملے کو آپ لوگ طول دے رہے ہیں۔ فضائیہ کو استعمال کرنے سے پہلے آپ کو ذرا انتظار کرنا چاہیے تھا۔‘

’ہم کشیدگی کو کم کرنے کے لیے وزیر خارجہ سرتاج عزیز کو دلی بھیج سکتے ہیں۔‘

جنرل مشرف: ’او کے۔ کیا یہ ایم آئی 17 ہمارے علاقے میں گرا ہے؟‘

جنرل عزیز: ’نہیں سر۔ یہ ان کے علاقے میں گرا ہے۔ ہم نے اسے گرانے کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔ ہم نے مجاہدین سے اسے گرانے کا دعویٰ کروایا ہے۔‘

مشرف: ’اچھا کیا۔‘

جنرل عزیز: ’لیکن یہ منظر قابل دید تھا۔ ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے ان کا ہیلی کاپٹر گرا۔‘

جنرل مشرف: ’ویل ڈَن۔ کیا اس کے بعد انھیں ہماری سرحد کے پاس پرواز کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے؟ وہ خوفزدہ ہیں یا نہیں؟ اس پر بھی نظر رکھو۔ کیا وہ اب ہماری سرحد سے دور رہ کر پرواز کر رہے ہیں؟‘

جنرل عزیز: ’ہاں، اب ان پر بہت دباؤ ہے۔ اس کے بعد ان کی پروازوں میں کمی ہوئی ہے۔‘

جنرل مشرف: ’بہت اچھے۔ فرسٹ کلاس۔‘

یہ گفتگو پاکستان کے اس وقت کے آرمی چیف اور ڈی جی ایم او کے درمیان  اس کال ریکارڈ میں سنی گئی جو کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے ریکارڈ کی تھی۔ یہ کارگل سے کچھ دیر قبل اسلام آباد میں موجود جنرل شاہد عزیز اور چین میں موجود جنرل مشرف کے درمیان کی گئی تھی۔ یہ وہ کال ریکارڈ تھا جس نے پاکستانی حکومت اور وزارت خارجہ کو بھارت کے ساتھ مذاکرات میں بیک فٹ پر ڈال دیا تھا۔

 بی بی سی اردو کی جانب سے شائع ہونے والے آرٹیکل میں  اس موقع کی تصویر کشی کی گئی ہے جب را کے سیکریٹری نے غلطی سے بھارتی فوج کے آرمی چیف کو یہ معلومات دے دیں جسے اس وقت تک انٹیلیجنس گیدرنگ کے عمل سے گزرنا تھا۔ بی بی سی کی جانب سے لکھا گیا ہے کہ    26 مئی سنہ 1999 کی شب ساڑھے نو بجے انڈیا کے آرمی چیف جنرل وید پرکاش ملک کی ’سکیور انٹرنل ایکسچینج‘ فون کی گھنٹی بجی۔ فون کے دوسرے سرے پر ہندوستانی انٹیلیجنس ایجنسی را کے سیکرٹری اروند دَوے تھے۔ انھوں نے جنرل ملک کو بتایا کہ ان کے اہلکاروں نے پاکستان کے دو بڑے جرنیلوں کے درمیان بات چیت کو ریکارڈ کیا ہے۔

ان میں سے ایک جنرل بیجنگ سے گفتگو کر رہے تھے۔ پھر انھوں نے ریکارڈ شدہ گفتگو کے حصوں کو جنرل ملک کو پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اس میں پوشیدہ معلومات ہمارے لیے اہم ہوسکتی ہے۔

سابق آرمی چیف جنرل ملک نے اس فون کال کے متعلق بی بی سی کو بتایا کہ دراصل دَوے وہ فون فوجی انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل کو کرنا چاہتے تھے، لیکن اس کے سیکرٹری نے غلطی سے مجھے فون پر رابطہ کرا دیا۔ جب انھیں پتہ چلا کہ ڈی جی ایم آئی کے بجائے فون پر میں ہوں، تو وہ بہت شرمندہ ہوئے۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ مجھے اس فون کی بات چیت کو ٹیکسٹ کی شکل میں فوری طور پر بھیج دیں۔

تین دن بعد را نے دونوں جرنیلوں کے درمیان ایک اور کال ریکارڈ کی۔ لیکن اس بار فوجی قیادت کی بجائے  انھوں نے یہ معلومات براہ راست نیشنل سکیورٹی کے مشیر برجش مشرا اور وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو بھیج دیں۔

چار جون کو انڈیا نے ان ٹیپس کو ان کی ٹرانسکرپٹ کے ساتھ وزیر اعظم نواز شریف کو سنانے کا فیصلہ کیا۔  نواز شریف تک  انکے ہی آرمی چیف  کی ٹیپس کا پہنچانا کوئی معمولی کام نہیں تھا۔

 مشہور بھارتی صحافی آر کے مشرا کو اس کے لیے منتخب کیا گیا تھا جو اس وقت آسٹریلیا میں تھے۔ انھیں انڈیا بلا کر یہ ذمہ داری سونپی گئی۔اس خوف سے کہ کہیں اسلام آباد کے ہوائی اڈے پر ان کی تلاشی نہ لی جائے اس لیے انھیں ’سفارتکار‘ کی حیثیت دی گئی ہے تاکہ انھیں سفارتی استثنیٰ حاصل ہو جائے۔

ان کے ساتھ ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری  بھی گئے۔ مشرا نے صبح 8:30 بجے ناشتے کے وقت نواز شریف سے ملاقات کی اور انھیں وہ ٹیپ سنوائی اور ٹرانسکرپٹ ان کے حوالے کی۔

اس کام کو مکمل کرنے کے بعد مشرا اسی شام دہلی واپس آ گئے۔ اس سفر کو اتنا خفیہ رکھا گیا کہ اس وقت کم از کم اس کا ذکر کہیں نہیں آیا۔ اور اس سٹوری کو اگلے دن بھارتی  اخبار کے ذریعے بریک کیا گیا۔ صرف کولکتہ سے شائع ہونے والے اخبار ’ٹیلی گراف‘ نے چار جولائی سنہ 1999 کے اخبار میں پرنے شرما کی ایک رپورٹ شائع کی جس کا عنوان ’دہلی ہٹس شریف ود آرمی ٹیپ ٹاک‘ تھا۔

وزیر اعظم نواز شریف کے ان ٹیپوں کو سننے کے ایک ہفتے بعد 11 جون سنہ 1999 کو پاکستانی وزیر خارجہ سرتاج عزیز کے دورے سے قبل ایک پریس کانفرنس میں ان ٹیپس کو بھارت نے ظاہر کر دیا اور بطور ریاست اس حوالے سے مدعی بن گیا۔ ان ٹیپس کی سینکڑوں کاپیاں بنائی گئيں اور دہلی میں تمام غیر ملکی سفارت خانوں کو بھیجی گئیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پرویز مشرف نے اپنی سوانح عمری ’ان دی لائن آف فائر‘ میں اس واقعے کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔ تاہم بعد میں پاکستان کے صدر کے طور پر ہندوستانی صحافی ایم جے اکبر کو دیے ایک انٹرویو میں انھوں نے ان ٹیپس کی صداقت کو قبول کیا۔

 

مبصرین کے مطابق اس ٹیپ نے پاکستان کی بھارت کے خلاف ان معلومات نے امریکہ کو اس نتیجے تک پہنچنے میں مدد دی کہ پاکستان نے کشمیر میں کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی ہے اور اسے ہر قیمت پر انڈیا کی سر زمین سے ہٹانا چاہیے۔ ان ٹیپس کی وجہ سے پاکستانیوں کے درمیان پاکستانی فوج اور مشرف کے قابل یقین ہونے پر شک و شبہات پیدا ہوئے۔ آج بھی پاکستان میں بہت سے لوگ ہیں جو کارگل کے متعلق مشرف کی مبینہ کہانی کو مسترد کرتے ہیں۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان ٹیپس کی وجہ سے پاکستان پر عالمی قوتوں  کا دباؤ بڑھا اور اسے کارگل سے اپنے فوجیوں کو ہٹانا پڑا۔

 

 

 

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *