Type to search

Coronavirus خبریں سیاست قومی

کرونا وائرس جانے نہیں لگا، جب تک ویکسین نہیں بنتی ہمیں اس کے ساتھ ہی رہنا ہو گا، وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس طرح کا لاک ڈاؤن ہوا میں اس طرح کا لاک ڈاؤن نہیں کرنا چاہ رہا تھا اور پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وائرس پھیلے گا اور اموات بڑھیں گی۔

قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہمیں جیسے ہی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا پتہ چلا اور ابھی ملک میں 26 کیسز ہی آئے تھے کہ ہم نے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلایا اور پاکستان میں لاک ڈاؤن لگایا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے لاک ڈاؤن کیا تو اندازہ تھا کہ ہمارے ڈھائی کروڑ لوگ روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے ہیں جو کماتے ہیں تو ان کے گھر کا چولہا جلتا ہے اور ان کے خاندان والوں کا ان ہی پر انحصار تھا لہٰذا اس طرح یہ تعداد 12 سے 15 کروڑ کے قریب بنتی ہے جو متاثر ہو رہے تھے۔ میرے ذہن میں پہلے سے تھا کہ جس طرح کا لاک ڈاؤن ووہان میں ہوا، اگر میں اس طرح کا لاک ڈاؤن نافذ کروں گا تو ان لوگوں کا کیا بنے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں جس طرح کا لاک ڈاؤن ہوا میں اس طرح کا لاک ڈاؤن نہیں چاہتا تھا، ہم اجتماعات، تقریبات، کھیلوں، سکولوں، جامعات سمیت ہر چیز پر پابندی لگا دی تھی لیکن میں کاروبار اور تعمیرات کی صنعت کبھی بند نہیں کرتا لیکن 18ویں ترمیم کی وجہ سے صوبوں کے پاس اختیارات تھے، صورتحال کی وجہ سے صوبوں پر دباؤ تھا لیکن جس طرح کا لاک ڈاؤن ہوا اس نے ہمارے نچلے طبقے کو بہت تکلیف پہنچائی۔

انہوں نے واضح کیا کہ کرونا وائرس جانے نہیں لگا بلکہ جب تک ویکسین نہیں بنتی، ہمیں اس کے ساتھ ہی رہنا ہو گا، ساری دنیا اس نتیجے پر پہنچی ہے اور امریکہ جیسا دنیا کا امیر ترین ملک جہاں ایک لاکھ لوگ مر چکے ہیں، انہوں نے بھی لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وائرس نے پھیلنا ہے، وائرس پھیلے گی، یہ جو اموات بڑھ رہی ہیں یہ پہلے دن کہہ دیا تھا اور پہلے ہی بتا دیا تھا کہ وائرس سے اموات بڑھیں گی، لیکن اگر ہم نے اس وائرس کے ساتھ کامیابی سے گزارا کرنا ہے تو یہ ذمے داری عوام کی ہے اور جتنا عوام احتیاط کریں گے، ہم اتنا ہی بہتر طریقے سے اس سے گزارا کر سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر لوگوں نے سمجھا کہ لاک ڈاؤن کھلا ہے اور عام زندگی گزارنی شروع کردی جو لاک ڈاؤن سے پہلے تھی تو ہم اپنا نقصان کریں گے، مثلاً اگر جن علاقوں میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہوں گا ہمیں وہ مخصوص علاقے بند کرنے پڑے تو وہاں کاروبار ختم ہوجائے گا اور لوگوں کو نقصان ہو گا۔

عمران خان نے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ حکومت کی جانب سے بتائی جانے والی احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک فہرست بنائی ہے جس میں ان شعبوں کا ذکر ہے جن کو ہمیں بند کرنا ہے اور باقی ہم نے کھول دیے ہیں البتہ جہاں خطرہ زیادہ ہے وہ ابھی بھی ہم نے بند رکھے ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم نے سیاحت کا شعبہ کھولنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے خیال میں سیاحت کھولنا اس لیے ضروری ہے کہ وہ علاقے صرف تین چار مہینے گرمیوں کے ہوتے ہیں اور ان کا روزگار ہی سیاحت کی وجہ سے ہوتا ہے اور اگر یہ دو تین چار مہینے چلے گئے تو ان علاقوں میں مزید غربت بڑھ جائے گی۔

انہوں نے قوم سے ذمے داری لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک ذمے دار قوم بننا پڑے گا اگر ہمیں لوگوں کو غربت سے بچانا ہے اور ساتھ ساتھ وبا کے پھیلاؤ کو بھی کم کرنا ہے کیونکہ اگر یہ وبا آہستہ آہستہ پھیلے گی تو ہمارے ہسپتالوں پر دباؤ نہیں پڑے گا اور اس عروج گزرجائے گا اور ہمارا معاشرہ بھی برے اثرات سے بچ جائے گا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *