Type to search

بڑی خبر خبریں

دنیا میں خوبصورت تصویر سے پھیلنے والے نئے وائرس کی گونج: ‘اپنا موبائل فون بچایئے’

دنیا کو اس وقت کرونا کی وبا نے اپنے مہلک شکنجے میں لے رکھا ہے اور اب تک 70 لاکھ کے قریب افراد  دنیا بھر میں  اس سے متاثر ہیں جب کہ 4 لاکھ کے قریب اب تک اس وبا کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ دنیا بھر میں اس وبا کو لے کر منصوبہ بندی ہو رہی ہے اور ذرائع ابلاغ میں اسی کا چرچا ہے جبکہ سیاسی و سماجی بحثوں کا مرکز بھی یہی وبا بنی ہوئی ہے۔

لیکن اس سب کے درمیان ایک اور مبینہ وائرس کے پھیلنے کے بارے میں متنبہ کیا جا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ یہ وائرس دنیا میں ساڑھے تین ارب افراد کو متاثر کرسکتا ہے۔ لیکن یہ وائرس کوئی انسانی جسم میں تباہی پھیلانے والا جرثومہ نہیں بلکہ اینڈرائڈ فونز کو ناکارہ کرنے والا ٹیکنالوجی کا مبینہ وائرس ہے جس نے ہر طرف کھلبلی مچا رکھی ہے۔

دنیا میں محتاط اندازے کے مطابق اس وقت 3.45 ارب لوگ  سمارٹ فونز استعمال کر رہے ہیں۔ جن میں تقریباً 1.5 ارب لوگ اینڈرائڈ فون استعمال کرتے ہیں اور یہ  مبینہ وائرس اینڈرائڈ فونز کو ہی متاثر کر رہا ہے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اگر اسکا ابھی سے ہی تدارک نہ کیا گیا تو یہ بہت بڑی تعداد میں اینڈرائڈ سمارٹ فون صارفین کو اپنی لپیٹ میں لے کر اربوں روپے کی مالیت کے ان فونز کو ناکارہ بنا سکتا ہے اور صارفین کا بیش قیمت حساس نوعیت کا ڈیٹا غیر قانونی استعمال کے لئے غلط ہاتھوں میں پہنچ سکتا ہے۔ تاہم کچھ ماہرین اسے بجائے ایک وائرس کے اینڈرائڈ فونز کی جانب سے مخصوص رنگوں کے امتراج کو برداشت نہ کر پانا قرار دے رہے ہیں۔ جو کہ سافٹ وئیر کی صلاحیتی کمی ہے۔ 

یہ معاملہ یہاں سے شروع ہوا جب گذشتہ دنوں سے اینڈروئڈ فونز کے بیشتر صارفین سوشل میڈیا پر یہ شکایت کرتے نظر آ ئے کہ جب انھوں نے مخصوص تصویر کو اپنے فون کے وال پیپر کے طور پر استعمال کیا تو ان کے فون ناکارہ ہو گئے۔

اس پراسرار اور خطرناک تصویر میں سبز ساحلی پٹی پر ایک جھیل کے اوپر گہرے بادلوں سے ڈھکے آسمان کے ساتھ سورج کے غروب ہونے کا خوبصورت منظر ںظر آرہا ہے۔

بی بی سی کے مطابق اس تصویر کے ذریعے بھیجے جانے والے مبینہ وائرس سے متاثرہ موبائل فون کی سکرین مسلسل کھلنے اور بند ہونے لگتی ہے۔ چند موبائل فونز میں فیکٹری ری سیٹ کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔

سی این این ٹیک کے مطابق سام سنگ اور گوگل پکسل سمیت دیگر کئی برانڈز کے موبائل فون اس تصویر سے سب سے زیادہ  متاثر ہوئے ہیں۔

صارفین نے اپنی شکایات میں بتایا ہے کہ اس تصویر کو فون کا وال پیپر بناتے ہی فون کریش کر گیا۔ فون نے ری بوٹ کی کوشش کی لیکن سکرین مسلسل روشن ہونا اور سیاہ ہونا شروع ہوگئی۔  جس سے سکیورٹی سکرین سے آگے بڑھنا ناممکن ہو گیا۔

بی بی سی ٹیکنالوجی کے مطابق اس وائرس نے اینڈروئڈ کے تازہ ایڈیشن اینڈروئڈ 10 ماڈل کے کچھ فون بھی متاثر کیے ہیں لیکن زیادہ تر یہ ماڈل محفوظ رہے۔اینڈروئڈ 11 کو مارکیٹ میں رواں ہفتے متعارف کروایا جانا تھا لیکن فی الحال اس ماڈل کی لانچ ملتوی کر دی گئی ہے۔

سام سنگ کی جانب سے اپنے موبائل فونز کے لیے اس سے متعلق نئی اپ ڈیٹ 11 جون کو جاری کی جائے گی۔  لیکن ابھی تک گوگل کی جانب سے بھی اس معاملے پر کوئی ردعمل موصول نہیں ہوا ہے۔

جبکہ بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں اینڈرائڈ ماہرین کا تجزیہ بھی شامل کیا ہے جو اسے وائرس کی بجائے موبائل فونز میں اس صلاحیت کی کمی قرار دیتے ہیں جس کے تحت موبائل فون مخصوص رنگوں سے تخلیق کردہ تصاویر کو دکھا سکیں۔

ان کے مطابق ’جہاں ڈیجیٹل تصویروں کا معیار بہتر ہوا ہے وہیں فون میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ تصویر کے رنگوں کو جانچ سکے کہ انھیں کیسے دکھانا ہے۔ اس طرح ایک فون یہ معلوم کرتا ہے کہ مثلاً سبز رنگ کی صحیح قسم کو کیسے دکھانا ہے۔

رنگوں کے نظام کی کئی طریقوں سے یہ وضاحت کی جا سکتی ہے۔ کچھ تو گرافک ڈیزائن کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ تو بعض مرتبہ آپ ایسی تصاویر دیکھتے ہیں جو عام طور پر دستیاب  فارمیٹ میں نہیں ہوتیں۔ اس لیے ایسا ممکن ہے کہ ایسی تصویر بنائی جائے جس میں اس کے رنگوں کے بارے میں اتنی زیادہ معلومات ہوں کہ کچھ مخصوص فون انھیں برداشت ہی نہ کر پائیں۔

ان ماہرین کے مطابق فون اس لیے کریش ہوئے کہ ان میں ایسی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں تھی اور انھیں بنانے والوں کے ذہن میں شاید یہ نہیں تھا کہ ایسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *