Type to search

عوام کی آواز کرپشن

پی آئی اے طیارہ حادثہ اور انتظامیہ کی غیر ذمہ داری

  • 5
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
    5
    Shares

پی آئی اے طیارہ حادثے پر میں اتنے دنوں سے خاموش تھی کیونکہ مجھے اس تحقیقاتی رپورٹ کا فیصلہ دیکھنا تھا، جس کو بنیاد بنا کر پی آئی اے انتظامیہ ایک دفعہ پھر بری الزماں ہونا تھا۔ اور ایسا ہی ہوا رپورٹ کے مطابق غلطی پائلٹ کی تھی۔

میں یہ نہیں کہوں گی کہ پائلٹ کبھی غلط نہیں ہو سکتا کیونکہ پائلٹ بھی انسان ہوتا ہے اور ہر انسان غلط فیصلہ کر سکتا ہے مگر کیا غلطی صرف پائلٹ کی تھی؟ کیا پائلٹ کو ذمہ دار ٹھہرا کر انتظامیہ مکمل طور پر آذاد ہو گئی؟ کیا ان 100 خاندانوں کے دکھ کا ازالہ ہو گیا؟ ان سارے سوالات کا کوئی جواب نہیں، کیونکہ نہ ہی تو ان 100خاندانوں کے دکھ کا ازالہ ہوا اور نہ ہی انتظامیہ بری ہوئی۔

جہاز میں خرابی پہلے آئی اور پائلٹ نے فیصلہ بعد میں لیا۔ اگر دیکھا جائے تو پی آئی اے اندرون اور بیرون ملک سفر کرنے والے طیاروں پر مشتمل ایک ادارہ ہے مگر اس ادارے کے بیرون ممالک میں سفر کرنے والے جہازوں کو نہ تو کوئی حادثہ پیش آتا ہے اور نہ کوئی ناخوشگوار واقع پیش آتا ہے، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان دونوں شیڈولز پر چلنے والے طیاروں میں واضح فرق ہے۔ جن لوگوں نے بیرون ملک سفر کرنے والے طیاروں میں سفر کر رکھا ہے وہ لوگ اس فرق کو پہچانتے ہیں۔ ان طیاروں میں مکمل طور پر ہر چیز کا خیال رکھا جاتا ہے مگر اندرون ملک میں سفر کرنے والے طیاروں میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ ان طیاروں کو نہ تو کسی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈ کرنا ہوتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی ریئپوٹیشن کا سوال ہوتا ہے، تو وہ کسی بھی حالت میں سفر کر سکتے ہیں اور جب کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اس کی وجہ پائلٹ ہوتا ہے، کیونکہ وہ موقع پر اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے موجود نہیں ہوتا۔

پی آئی اے انتظامیہ اپنی غلطی ماننے کے لئے تیار نہیں ہے اور سمجھتے ہیں کہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے لاعلم بننے سے خطرہ ٹل گیا ہے اور اگلی دفعہ جب کوئی حادثہ پیش آئے گا تو وقت کی مناسبت کو دیکھ کر الزام کسی پر بھی لگا کر تحقیقاتی رپورٹ پیش کر کے ثابت کر دیا جائے گا۔ پاکستان میں اگر پی آئی اے کا طیارہ گرے تو اس کی وجہ پائلٹ اور ائیربلو کا طیارہ گرے تو اس کی وجہ پہاڑ ہوتا ہے۔ اگر ان سب الزامات سے ہٹ کر طیاروں کی حالت زار کو بہتر بنایا جائے تو ایسے واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔

اگر حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کو لاک ڈاؤن کے دوران ہفتے میں ایک دفعہ بھی فلائنگ کا موقع دیا گیا ہوتا تو تین مہینے مکمل بند رہنے کے بعد اڑنے پر یہ حادثہ پیش نہ آتا۔ اگر طیارے کا انجن وقت پر مئنٹین کیا جاتا تو طیارے سے ہاتھ نہ دھونا پڑتے؟ اگر پائلٹوں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی ٹریننگ دی گئی ہوتی تو پائلٹ پر الزام نہ لگانا پڑتا۔ اگر میسر حکمت عملی اپنائی گئی ہوتی تو جھوٹ پر جھوٹ نہ بولنا پڑتا۔ اگر خاموشی سے طیاروں پر کام کر لیا جاتا تو پوری دنیا میں ہنگامہ نہ مچا ہوتا۔ اگر حکومت اس حادثے سے سبق سیکھے تو مستقبل میں زید پولانی اور شہریار افضل جیسے دوسرے لوگوں کو اپنے خاندان سمیت نہ جل کر نہ مر نا پڑے۔ مگر اگر حکومت سبق سیکھے تو۔۔۔

Tags:

1 Comment

  1. Mm جون 5, 2020

    Ooo.self proclaimed aircraft accident investigator…kuch pata bhi ju Bak rahee ho…abhi koee confirmation hoee hi nahee, but qainchi ki tarah zuban chalnay lagee….jis cheez ka pata nahee uss per bolo matee

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *