Type to search

خبریں سیاست قومی

نو سال پہلے ریپ کا اب کیسے پتہ چلا؟ کیا اب حاملہ ہو گئی ہیں؟ خلیل الرحمان قمر کا سنتھیا رچی سے سوال

پاکستانی ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کی سنتھیا رچی پر تنقید، پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت پر لگائے گئے الزامات پر امریکی خاتون کو آڑے ہاتھوں لیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ سنتھیا رچی می ٹو کا تماشہ بند کرو۔ اگر آپ 9 سال قبل ریپ کا شکار ہوئیں تو اس کا اظہار اب کیوں کیا جا رہا ہے؟ کیا اب آپ حاملہ ہو گئی ہیں؟

ایک اور ٹویٹ میں خلیل الرحمان نے کہا کہ مجھے خوشی ہو گی اگر پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم سنتھیا رچی کی حمایت نہ کرے۔ ایسے غیر ملکی عناصر کی فوری طور پر حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں مقیم امریکی خاتون نے اپنی ایک ویڈیو میں پیپلز پارٹی کی قیادت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی جبکہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے ان کے ساتھ دست درازی کی۔ الزام کے مطابق انہوں نے یہ سب اس خاتون کے ساتھ تب کیا جب وہ ملک کے اہم ترین عہدوں پر فائز تھے۔

پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے خلاف سنگین الزامات کی بوچھاڑ کرنے والی اس امریکی خاتون سنتھیا رچی نے اپنی توپوں کو رخ ن لیگ کی جانب کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ رچی نے کہا ہے کہ فکر نہ کریں، ن لیگ کو بھی نہیں چھوڑوں گی، اگلی باری ان کی ہے۔

سنتھیا رچی کون ہیں کہاں سے آئی ہیں کرتی کیا ہیں یہ شاید بیشتر پاکستانی نہیں جانتے تاہم حیران کن امر یہ ہے کہ اس پراسرار کردار نے پاکستانی سیاسی افق پر ایسی تھرتھلی بپا کی ہے کہ پوری قوم کی توجہ انکی جانب مبذول کرا دی گئی ہے۔

Tags:

You Might also Like

7 Comments

  1. Arifa Mustafa جون 7, 2020

    اسلام علیکم۔ خبروں کے حوالے سے آپکی کاوش قابل قدر ہے۔اگر منفی تاثر مملکت کی خبروں کے بجائے ایسی خبروں کو زیادہ سے زیادہ سرخیوں میں لایا جائے جس سے دینی،قومی ،آئینی مفادات کا زیادہ اعادہ ہو تو اس سے ایک تو قوم و ریاست کی اچھی ساکھ قائم۔ہوگی،دوسرا اچھے محب وطن لوگوں کو مذید اچھائی پھیلانے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

    جواب دیں
  2. Akhter جون 8, 2020

    اس ملک مین اس کے علاوہ ہے کیا. کرپشن کے عظیم کارنامے یا بدکرداروں کے کردار کی اعلی مثالین. لوگون کو اسی مین مصروف رکھ کے اپنا کام کیے جا رہے ہیں. دیکھتے ہین کب تک.کوئی فرق نہیں آیا نا ہی انے کی کوئی امید ہے.عوام کی محدود سوچ کو بھی اندازہ کر چکے ہین اس لئے کمال حاصل ہے ان کو ان باتون مین مصروف رکھنے کا. جبھی تو زبان مذہب فرقون میں بانٹا گیا تاکہ سوچ بھی اسی مطابق محدود رہے اور کرنے والے اپنا کام کرتے جائیں.

    جواب دیں
  3. Aslam جون 8, 2020

    How we the Pakistanis people are so foolish
    basically I don’t like ppp but as a Pakistani I hate the people who even discuss such a dirty issue blaming others just for personal publicity .it’s amazing for each and every one that why not the government ask this dirty women creating panic discussing such unnecessary issues after a long period. either she got pregnant after nine years ? what was the hardle with her at that time to disclose this tyrannic issue and after nine years she is proving herself innocent. so we have reached at this result that behind the screen some thing wrong at the bottom showing other purposes and n shah Allah she and her colleagues will not be succeeded in their evil purposes

    جواب دیں
  4. Shaukat Ali جون 8, 2020

    جی اجازت ابھی ملی ہے… سیکرٹ اکاونٹ والوں کی نوکری بھی تو کرنی ہے

    جواب دیں
  5. جاوید میمن جون 8, 2020

    کیونکہ پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت پر بدترین لوگوں پر مشتمل ہے ہے اس لئے میری خواہش ہوگی کہ اس پرسرار خاتون کو اپنا کیس ثابت کرنے کا موقع دیا جائے

    جواب دیں
  6. J H Tari جون 8, 2020

    Our politicians are much more corrupt financially and morally both, but it looks a fabricated story

    جواب دیں
  7. Qamar Ahmed جون 8, 2020

    جب یہ خاتون عدالت میں پیش ہونے پر رضا مند ہیں تو اس کیس کو عدالت میں چلنے دیا جائے۔ اگر کسی کے پاس اس خاتون کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو عدالت میں پیش کریں عدالت کو اختیار ہے کہ وہ فیصلہ کرے گی۔ سوشل میڈیا پر بیانات غیر قانونی ہے میں سمجھتا ہوں عدالت کی توہین ہے۔ عدالت ہی سپریم پاور ہے۔ پاکستان کا قانون اجازت دیتا ہے کوئی جب چاہے عدالت میں پیش ہوکر کے بیان دے سکتا ہے اور کیس لڑ سکتا ہے ۔ وقت کی کوئی قید نہیں ہے۔

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *