Type to search

بلاگ تجزیہ صحت کورونا وائرس

کرونا کے خلاف جنگ: اتحاد و تعاون انسداد وبا کے لئے عالمی برادری کے پاس سب سے طاقتور ہتھیار ہے، چین

نوول کرونا وائرس کے خلاف جاری عالمی جنگ میں چین کا کردار اس لحاظ سے نمایاں ہے کہ چین وہ پہلا ملک تھا جو وسیع پیمانے پر وائرس سے متاثر ہوا لیکن چینی قیادت کے سخت گیر، بروقت اور دانشمندانہ فیصلوں کے باعث آج چین نہ صرف نوول کرونا وائرس کو شکست دے چکا ہے بلکہ اس وقت ملک میں اقتصادی سماجی سرگرمیوں کی تیز رفتار بحالی جاری ہے۔

چین کی جانب سے نوول کرونا وائرس کے خلاف جنگ کے حوالے سے حقائق پر مبنی ایک وائٹ پیپر جاری کیا گیا ہے، جس میں ابتدائی مرحلے میں چین کی طاقتور حکمت عملی، وبا کی روک تھام و کنٹرول کے حوالے سے مربوط پالیسی سازی، وائرس کو شکست دینے کے لیے مضبوط وسائل کا اجتماع اور صحت عامہ کے تحفظ کے حوالے سے ایک عالمگیر سماج کی تشکیل نمایاں عناصر ہیں۔ اس دستاویز کے جاری کرنے کا ایک مقصد انسداد وبا میں دنیا کے ساتھ چین کے کامیاب تجربات کا تبادلہ اور درست اور شفاف حقائق تک دنیا کی رسائی بھی ہے۔

“فائٹنگ کووڈ 19: چائنا ان ایکشن” کے موضوع سے جاری کیے جانے والے وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ چین کا پختہ یقین ہے کہ عالمگیر وبا سے صرف اسی صورت میں چھٹکارہ ممکن ہے جب دنیا کے تمام ممالک اتحاد اور تعاون کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے انسداد وبا کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنائیں۔ چین نے اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ دنیا انسانیت کو درپیش اس تاریک لمحے سے نجات حاصل کرے گی اور ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کی جائے گی۔

وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی اور چینی حکومت نے اچانک پھوٹنے والی وبا سے نمٹنے کو نمایاں اہمیت دی اور فوری مؤثر اقدامات کیے گئے۔ صدر شی جن پنگ نے وبا کی روک تھام و کنٹرول، صحت عامہ کے تحفظ اور انسانی زندگیوں کو اولین ترجیح دی۔ انسداد وبا اور مریضوں کے علاج معالجے کے حوالے سے وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ چین نے وبا کی روک تھام اور کنٹرول کے لئے مضبوط اقدامات اپنائے اور تمام مریضوں کو علاج کی فراہمی یقینی بنانے کی کوشش کی گئی۔ وبا سے نمٹنے میں چین کی جانب سے “عوام اور زندگی” سرفہرست ترجیح رہی۔ ہر قیمت پر انسانی جانوں اور صحت عامہ کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ۔ چینی عوام کی تعاون کی بدولت انسداد وبا کی مشترکہ جدوجہد عوام کی ایک “عظیم قوت” کا مظہر ہے۔

وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ موجودہ وبا صحت عامہ کے اعتبار سے ایک بڑا بحران ہے جس کے پھیلاؤ کی رفتار اور پیمانہ انتہائی وسیع ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد امراض کی روک تھام و کنٹرول کے حوالے سے یہ سب سے بڑا بحران ہے۔ یہ وبا چین میں جشن بہار کے عین آغاز میں اُس وقت سامنے آئی جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی نقل و حرکت جاری تھی، جس کے باعث وبا کی روک تھام اور کنٹرول کی صورتحال انتہائی سنگین اور پیچیدہ ہو چکی تھی۔ اسی باعث، پورے ملک میں وسیع پیمانے پر غیر معمولی لاک ڈاؤن کے اقدامات اپنائے گئے۔ اس دوران معیشت کو بحران کا سامنا رہا، یہاں تک کہ اقتصادی سرگرمیاں منجمد ہوگئیں۔

چینی کمیونسٹ پارٹی کی سربراہی میں، پیچیدہ صورتحال اور شدید چیلنج سے نمٹتے ہوئے، چینی عوام نے اس وبا کے خلاف دلیرانہ جدوجہد کی، عظیم قربانیاں اور بڑی قیمت ادا کرنا پڑی۔ ووہان اور ہوبے میں انسدادی جنگ میں فیصلہ کن نتائج حاصل کیے گئے ہیں۔ اس طرح وبا کی روک تھام اور کنٹرول میں اہم اسٹریٹجک کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ چین کی انسداد وبا کی انتہائی کٹھن جدوجہد تاریخ کے باب میں رقم کرنے کے قابل ہے۔ چین نے وبائی صورتحال پر قابو پانے کے لئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ تین ماہ میں ووہان شہر اور صوبہ ہوبے میں انسداد وبا سے متعلق نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں۔

وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ چین نے ہر قیمت پر مریضوں کو علاج کی فراہمی، انسانی جانیں بچانے اور مؤثر کمانڈ سسٹم کے قیام کو ترجیح دی ہے۔ انسداد وبا اور علاج کی فراہمی کے دو محازوں میں ہم آہنگی کو فوقیت دی گئی۔ کسی ایک بھی متاثرہ فرد کو نظر انداز نہ کرنے اور انہیں ہسپتال میں علاج معالجے کی فراہمی کے اصول پر عمل پیرا رہتے ہوئے بہترین ڈاکٹرز، جدید ترین آلات اور علاج کے لئے انتہائی ضروری وسائل فراہم کیے گئے تاکہ ہسپتالوں میں مریضوں کے داخلے اور علاج کی شرح کو بلند کیا جا سکے۔ 31 مئی 2020 تک، چین میں نوول کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی مجموعی شرح 94.3 فیصد رہی ہے۔ چین کی وبا کے خلاف جنگ سے ملک میں طرز حکمرانی کی بہترین صلاحیت اور مجموعی طور پر قومی طاقت کی بھرپور عکاسی ہوئی ہے۔

وائٹ پیپر کے مطابق وبا کے بعد ملک بھر میں ہنگامی اقدامات اپنائے گئے۔ صوبہ ہوبے اور ووہان شہر کو وبا سے نمٹنے کے لئے مدد فراہم کی گئی، چین کے مختلف علاقوں اور فوج نے ہوبے کی حمایت کے لئے 346 قومی طبی ٹیمیں، 42,600 طبی عملہ اور 960 سے زائد پبلک ہیلتھ اہلکاروں کو بھیجا۔ طبی سامان کی مزید فراہمی کے لئے کاروباری اداروں نے اپنی پیداواری صلاحیت کو مکمل طور پر بڑھایا جبکہ دیگر صنعتوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے بھی اپنی پیداواری سرگرمیاں تیزی سے بحال کیں تاکہ صوبہ ہوبے اور ووہان میں تمام تر وسائل کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔

وائٹ پیپر کے مطابق چین ہمیشہ سے بنی نوع انسان کے ہم نصیب سماج کے تصور کی روشنی میں ایک بڑے ملک کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔ چین نے بروقت عالمی برادری کو وبا کے حوالے سے معلومات فراہم کیں۔ چین وبا سے متاثرہ ممالک کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے اور اپنی استعداد کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی جاری رکھتے ہوئے عالمی سطح پر انسداد وبا کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ 1.4 ارب چینی عوام وبا سے لڑنے والے عظیم جنگجو ہیں۔ وبا کے خلاف جنگ میں پوری چینی قوم عملاً شریک رہی ہے۔ طبی عملہ، پولیس، کسٹم اہلکار، مقامی حکومتوں کے کارکنوں سمیت تمام حلقوں سے وابستہ افراد نے شبانہ روز محنت کی۔ چینی عوام نے اپنی ذمہ داریوں سے احسن طور پر عہدہ برا ہوتے ہوئے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا، جو چینی قوم کے ثقافتی پس منظر میں مشترکہ جدوجہد، ایک دوسرے کی امداد کے ساتھ ساتھ چینی عوام کی اپنے وطن اور دیگر دنیا سے گہری جذباتی وابستگی کا مظہر ہے۔

وائٹ پیپر میں مزید کہا گیا کہ “اتحاد و تعاون” انسداد وبا کے لئے عالمی برادری کے پاس سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ مختلف ممالک کو انسانیت کی ترقی اور نئی نسلوں کے لئے بنی نوع انسان کے ہم نصیب سماج کے تصور پر عمل پیرا رہتے ہوئے مشترکہ اقدامات کرنے چاہیے۔ وبا کے خلاف حتمی فتح کے حصول کے لیے ایک دوسرے کی امداد کرنی چاہیے تاکہ صحت عامہ کے شعبے میں انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل کا حامل ایک معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *