Type to search

انسانی حقوق انصاف خبریں قومی

کمسن مجرموں کی سزائے موت ختم کروانے کے لئے صدر پاکستان سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں: لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کمسن مجرموں کے معاملے میں جہاں عمر کے تعین کا جھگڑا نہ ہو، سزا میں تخفیف یا تبدیلی کے لئے صدر مملکت سے رجوع کرنے کی بھی ضرورت نہیں۔

چیف جسٹس مسٹر جسٹس محمد قاسم خان اور جسٹس اسجد جاوید غوری پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے ایک دو رکنی بنچ نے منڈی بہاؤالدین کے محمد اقبال کی سزائے موت ختم کروانے کے لئے دائر آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ اول تو عالمی قانون اور دوئم ہمارے ملکی قانون میں ایسے مجرموں کو موت کی سزا سنانے پر واضح پابندی ہے، جن کی عمر 18 سال سے کم ہو، لہٰذا درخواست گزار مجرم کو اس رعایت کا فائدہ دینے سے انکار کیا ہی نہیں جاسکتا تھا، جو قانون کی رو سے ویسے ہی اس کے لئے دستیاب تھا۔

عدالت نے محمد اقبال کی سزائے موت کو عمر قید کی سزا میں تبدیل کردیا، وقوعہ کے وقت جس کی عمر 17 سال تھی۔ فاضل دو رکنی بنچ نے کمسن مجرموں کو موت یا پھانسی کی سزا سے تحفظ دینے سے متعلق اقوام متحدہ کے قوانین، عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں اور اس بابت جاری ایک صدارتی نوٹیفکیشن کو اپنے فیصلے کی بنیاد بنایا ہے، یہ آئینی درخواست بچوں کے اور دیگر انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی بیرسٹر سارہ بلال کے ‘جسٹس پراجیکٹ پاکستان’ کی طرف سے دائر کی گئی تھی۔ عدالت میں جس کی پیروی احمد حسن خان ایڈووکیٹ نے کی۔

ان کا کہنا تھا کہ مجرم کو ہائی کورٹ کے فیصلے سے وہ انصاف مل پایا ہے جس کا وہ 21 سال پہلے ہی حقدار تھا، اگر اسے پھانسی لگا دیا جاتا تو یہ انصاف کا بہیمانہ قتل ہوتا۔ ہائیکورٹ نے اسے سچ میں ایک نئی زندگی دی ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ مجرم اپنی عمر قید کی سزا پہلے ہی کاٹ چکا ہے، لہٰذا توقع ہے اسے جلد رہائی مل جائے گی۔

ملزم کو 22 برس قبل، 1998 میں پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین میں فائرنگ کر کے کسی کو قتل کر دینے پر گرفتار کیا گیا تھا، اگلے ہی برس گوجرانوالہ کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے اسے مجرم قرار دے کر موت کا سزاوار ٹھہرا دیا تھا۔ 2004 میں مقتول کے خاندان نے اسے معاف کرتے ہوئے مقدمہ واپس لے لیا مگر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فریقین کا صلح نامہ اس بنا پر رد کر دیا کہ دہشتگردی کے زمرے میں آنے والے جرائم میں فریقین کے مابین صلح صفائی، راضی نامہ یا کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ریاست کے لئے قابل قبول نہیں۔

2006 میں لاہور ہائی کورٹ نے اس کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سزا کی توثیق کردی اور 2007 میں سپریم کورٹ نے بھی اس کی آخری اپیل خارج کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھی، حتیٰ کہ صدر نے بھی اس کی رحم کی اپیل خارج کر دی تھی۔ ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کمسن مجرموں کی سزائے موت کی بابت صدارتی نوٹیفکیشن کی روشنی میں اس کی سزا میں تبدیلی کا اختیار استعمال کرنے کی بجائے اس کی طرف سے صدر کو رحم کی اپیل بھیج دی جو مارچ 2016 میں رد کر دی گئی اور پھر ٹرائل کورٹ نے اس کا ڈیتھ وارنٹ نکالتے ہوئے اسے 30 مارچ 2016 کو پھانسی پر لٹکا دینے کا حکم جاری کردیا، جس کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر ہوجانے پر اس کی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد رک پایا تھا۔

اس سال 30 مارچ کو اقوام متحدہ کے ایک خصوصی ایلچی نے حکومت پاکستان کو اقبال کی سزائے موت روکنے کے لئے چٹھی لکھی تھی جس میں بچوں کے حقوق، شہری و سیاسی حقوق بارے بین الاقوامی قوانین اور ‘غیر انسانی’ و ‘متشدد’ سلوک اور ‘بے رحمانہ’ سزاؤں کے خلاف عالمی قوانین کا حوالہ دیا تھا۔

Tags:

You Might also Like

1 Comment

  1. Mohammad Baig جون 9, 2020

    .Lifetimes sentence for the kids.
    How smart is our judicial system that keeps you on waiting for the 12 to 18 years or for the life times and then mercifully release you on humanitarian grounds.
    And how smart is our home department that did not trouble to look into the presidential orders to facilitate the boy who have almost suffered more than the death sentence with reference to his suffering with psychological viewpoint that he has been actually damaged as the noble person and cannot restore his abilities to become the normal citizen forever and will always pose as well face serious issues for his family and the society since remained in the jail for the last 22 years with facing horrible notices of being hanged now or then or after two days or the month.
    It is the most ridiculous and in human and unjust practicing of the judicial system that keeps the individuals die and live moment to moment.
    If seen with its consequences for the society it is the worst kind of treating the fellow and never qualify the basics of the human rights values, one will die in the morning and now saved for the next month with ifs and buts.
    But if he/she was the elites family perhaps the results were quite different like the young boy of Karachi who killed a son of a DSP in the day light and was freed ,later on he challenged the chief justice while his visit to jails.
    Unluckily, we have more than ten systems to exercise for the people despite the constitution demands each to be treated equally.
    Most of the cases found by the higher courts mistakenly handled are found with misleading or mistreating at the trail courts where the judicial system need more than 100% fair, free and transparent proceeding with having challenged the basics of the FIR almost written with much more clues to free or not, have the benefit of doubt to the accused or not and have the bail facilities or not.
    In my opinion such cases dealing with the kids or the young boys need some sort of review by the law makers( trail courts) with having the facilities of bail or the open arrest or bindings of having compulsory education rather counting his /her days to be hanged the next day or the next month because if somebody is sentenced for any sort of punishment his/her basic rights are not suspended nor denied.

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *