Type to search

بلاگ تجزیہ

ڈیرن سمی کا معاملہ اور کرکٹ کی دنیا میں نسلی تعصب کا احوال

امریکہ میں ایک نہتے سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد امریکا سمیت دنیا بھر کے ممالک  میں مظاہرے جاری ہیں۔ جبکہ اس ہلاکت کے بعد سیاہ فام افراد کو آج کی ترقی یافتہ دنیا میں بھی ہونے والے تعصب اور برے سلوک پر ہر طرف بحث چھڑ چکی ہے۔ اور ہر شعبہ ہائے زندگی میں  رنگ کی بنیاد پر ہونے والے تعصبات اور نفرت انگیز رویوں پر تنقید کی جا رہی ہے۔

ایسے میں سیاہ رنگت کے حامل ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ڈیرن سیمی نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے ’سن رائزرس حیدر آباد‘ کے ساتھی کھلاڑیوں کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ وہاں ان کے لیے ایک لفظ استعمال کیا جاتا تھا جس کا انھیں اب معلوم ہوا ہے کہ مطلب اچھا نھیں تھا۔ چونکہ ڈیرین سمی خود اپنے لیے بھی یہ نام استعمال کرچکے ہیں اس لئے نیا دور ریکارڈ کے لئے اس لفظ کا ذکر ایک بار کررہا ہے۔ ڈیرین سمی کا کہنا تھا کہ انہیں کالو کے نام سے پکارا جاتا اور ایسا نام لیتے وقت وہاں موجود سب افراد ہنس رہے ہوتے۔

انھوں نے انڈیا میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے کچھ جواب مانگے ہیں۔ سیمی کا کہنا ہے کہ جب انہیں ‘اس لفظ’ کا مطلب پتا چلا جو ان کے لیے استعمال کیا جاتا تھا تو انھیں شدید غصہ آیا۔سیمی نے کہا کہ آئی پی ایل میں کھیلتے ہوئے کئی بار ان کے لیے ’اس‘ لفظ کا استعمال کیا گیا۔

انہوں نے ایک ویڈیو جاری کر کے بتایا کہ ان کے اور سری لنکا کے کرکٹر تھیسارا پریرا کے لیے کئی بار ‘اس’ لفظ کا استعمال کیا گیا۔ انھوں اس میسج میں نھیں بتایا کہ وہ لفظ کیا تھا۔

اس حوالے سے بالی ووڈ اور لالی ووڈ میں سفید رنگ کی مانگ اور سفید رنگ کو مکمل کامیابی گرداننے پر بھی کافی تنقید ہو رہی ہے۔ ڈیرن سیمی کے ریمارکس کے بارے میں ملک کے معروف سپورٹس رپورٹر فیضان لاکھانی اور بھارتی صحافی چندریش نارائن نے اپنے سیشن میں بات کی ہے۔ اور بنیادی سوال یہ تھا کہ سیاہ رنگ کے لئے نا پسندیدگی کرکٹ کی دنیا میں کس شکل میں موجود ہے اور برصغیر میں اس کی بیخ کنی کیوں نہیں ہوتی ؟  دونوں صحافیوں کا کہنا تھا کہ کرکٹ قوانین کو دیکھا جائے تو نسل اور رنگ کی بنیاد پر تعصب کے خلاف قوانین موجود ہیں لیکن اس حوالے سے زیادہ امید نہیں کہ کچھ ہوگا۔  اس بارے میں بھارتی صحافی کا کہنا تھا کہ اس کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ لیکن مجھے امید نہیں ہے۔ تاہم اس حوالے سے کم از کم ایک مضبوط پیغام جانا چاہئے۔ تحقیقات ہوں اور ہمیشہ کے لئے بتا دیا جائے کہ رنگ کی بنیاد پر آپ کسی کو کچھ نہیں کہیں گے۔ بھارت کو اس حوالے سے مثال قائم کرنی چاہئے۔

فیضان لاکھانی کا کہنا تھا کہ رنگ کی بنیاد پر مذاق بنانا ہماری زندگی میں اتنے لطیف انداز میں شامل ہوچکا ہے کہ ہمیں کئی بار سمجھ ہی نہیں آتی اور ہم غلطی کر جاتے ہیں جسے نہیں ہونا چاہئے۔

اس گفتگو میں ایک اہم نکتہ یہ اٹھایا گیا کہ  اگلے دس سالوں میں انگلینڈ، ساؤتھ افریقا اور آسٹریلیا کی ٹیمیں پاکستانی اور بھارتی نژاد کھلاڑیوں پر مشتمل ہوں گی اور نسل اور رنگ کی بنیاد پر تعصب ان کو بھی سہنا پڑے گا اس لئے ضروری ہے کہ ہم آج خود اس پر مثال قائم کریں کہ یہ مسئلہ ادھر ہی ختم ہو۔  کرکٹ ہمیشہ سے ہی تاہم اب مکمل طورپر کثیر القومی کھیل بن چکا ہے خاص طور پر پرائیویٹ لیگز کے آنے کے بعد سے اب ہمیں اپنے کھلاڑیوں کو سمجھانا ہوگا اور انہیں تعلیم دینا ہوگی کہ اپنی ثقافت سے نکل کر دوسروں کی ثقافت کو کیسے ان کے سیاق و سباق میں سمجھنا ہے۔

سیاہ رنگ سے نفرت  یہ معاشرتی مسئلہ ہے اسے معاشرے کی سطح پر بھی ختم کرنے کے حوالے سے اقدامات اٹھانے چاہیئے۔ تاہم یہ بات بھی حقیقیت ہے کہ یہ ہمارے روزمرہ کے رہن سہن میں رچ بس چکا ہے اور اسے نکال باہر کرتے کرتے صدیاں بیت جائیں گی۔ اس لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر قوانین کے اطلاق کے ذریعئے اس تعصب اور انسانیت سوزرویئے کا خاتمہ ہو اور برانڈنگ کی دنیا میں رنگ کی بنیاد پر برتری کی حوصلہ شکنی کی جائے اور چونکہ کرکٹرز اب خود برانڈزایمبیسڈرز ہیں انہیں اسکی تلقین لازمی کرنا ہوگی

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *