Type to search

تجزیہ جمہوریت حکومت

عمران خان کی مقبولیت کم، ملک پر گرفت کمزور ہو رہی ہے اور فوج کی مضبوط: بلوم برگ

یہ مضمون Bloomberg پر 10 مئی کو شائع ہوا جسے نیا دور کے قارئین اور سامعین کے لئے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

اس وقت ایک درجن سے زائد ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسران کلیدی حکومتی عہدوں پر تعینات ہیں۔ ان عہدوں پر رہتے ہوئے وہ ملک کی قومی فضائی سروس، واپڈا، اور قومی ادارہ برائے صحت سمیت کئی ادارے چلا رہے ہیں۔ قومی ادارہ برائے صحت وہ ادارہ ہے جو ملک کی کرونا کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہا ہے۔ ان تعیناتیوں میں سے تین گذشتہ دو ماہ کے دوران ہوئی ہیں۔

فوج کی مداخلت میں اضافہ ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آ رہا ہے جب وزیر اعظم عمران خان کا نہ صرف اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے بلکہ ان کی مقبولیت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کی وجوہات میں معیشت کی زبوں حالی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور وزیر اعظم کے قریبی ساتھیوں کے خلاف کرپشن الزامات کی تحقیقات ہیں۔ مبصرین کا ہمیشہ سے ماننا ہے کہ عمران خان کی سیاسی جماعت کے لئے فوج کی حمایت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تحریک انصاف کے پاس پارلیمنٹ میں 46 فیصد نشستیں ہیں اور حکومت کو برقرار رکھنے کے لئے اس کو بہت سی چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔

دیکھا جائے تو یہ کچھ ایسا نیا بھی نہیں ہے۔ فوج پاکستان کا طاقتور ترین ادارہ ہے اور اس نے گذشتہ سات دہائیوں میں بہت لمبا عرصہ براہِ راست ملک پر حکومت کی ہے۔ لیکن یہ صورتحال قطعاً اس ’نئے پاکستان‘ کے خواب سے میل نہیں کھاتی جس کا وعدہ عمران خان نے 2018 میں انتخابی کامیابی سے قبل کیا تھا۔

اٹلانٹک کونسل سے تعلق رکھنے والے ایک محقق عزیر یونس کے مطابق کلیدی حکومتی عہدوں پر ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسران کو تعینات کر کے حکومت پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کی جو تھوڑی سی گنجائش سویلین اداروں کے پاس ہوتی ہے، اسے بھی ختم کر رہی ہے۔ دوسری جانب گورننس میں فوج کا مخفی اور براہِ راست کردار بڑھتا جا رہا ہے۔

اہم ترین ذمہ داریاں

بہت سے مبصرین ٹی وی سکرینوں پر فوجی افسران کو کرونا وائرس سے متعلق صورتحال سے نمٹنے کے لئے ریاستی اداروں کی رہنمائی کرتا دیکھ رہے ہیں۔ ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ اب عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ہیں جن کی ذمہ داریوں میں چین کی 60 ارب ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری سے بننے والا سی پیک بھی ہے جس کی اتھارٹی کے وہ سربراہ ہیں۔

کابینہ میں کم از کم 12 ایسا اراکین ہیں جو سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی انتظامیہ میں بھی فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ ان میں وزیرِ داخلہ برگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ اور مشیرِ خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ بھی شامل ہیں۔

کچھ سرکاری مشیران فوج کے اس کردار کی کھلم کھلا حمایت بھی کرتے ہیں۔ عمران خان کی نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام ٹاسک فورس کے رکن ضیغم رضوی بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فوج کو ذمہ داری دینا سسٹم کے لئے اچھا ہے کیونکہ وہ کام کو تکمیل تک پہنچانا جانتے ہیں۔ ضیغم رضوی اس سے قبل دس سال تک ورلڈ بینک کے ساتھ رہائش کے معاملات پر بطور ماہر بھی کام کر چکے ہیں۔

اس سلسلے میں فوج سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ وزیر اعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افضل چن بھی فوری طور پر دستیاب نہیں تھے جب کہ وزیر اطلاعات سید شبلی فراز نے تبصرے کے لئے گذارش کا جواب نہیں دیا۔

پاکستان کی معاشی ابتری

عمران خان نے ہمیشہ سے فوج کے بہت قریب ہونے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ 2017 میں انتخابات سے قبل انہوں نے فوج کے کٹھ پتلی ہونے کے الزامات کو ایک ’گھٹیا سازش‘ قرار دیا تھا۔ گذشتہ برس انہوں نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’فوج میرے ساتھ کھڑی ہے‘‘۔

تاہم، اس عالمی وبا کے دوران معاشی ابتری ایک بار پھر مسائل پیدا کر رہی ہے۔ پاکستان ایشیا میں بھارت کے بعد کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں اب تک 1 لاکھ 17 ہزار سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ اموات کی تعداد 2300 سے تجاوز کر چکی ہے۔

68 سال میں پہلی مرتبہ معیشت گذشتہ برس کے مقابلے میں سکڑنے جا رہی ہے۔ مرکزی بینک کے تخمینے کے مطابق معیشت گذشتہ ایک برس میں 1.5 فیصد سکڑ چکی ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے 1.4 ارب ڈالر کی امداد بھی ملی ہے اور یہ قرضوں کی ادائیگیوں میں چھوٹ کی مانگ بھی کر رہا ہے۔

فوج کے ملک میں بڑھتے ہوئے کردار پر سوالات اس وقت اٹھنا شروع ہوئے جب مارچ کے مہینے میں وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آنا شروع ہوئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے تو قوم سے خطاب کر کے عوام کو پرسکون رہنے کی تلقین کی لیکن فوج کے ترجمان نے اگلے ہی دن ٹی وی پر آ کر لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔ ملک میں کرونا وائرس کے خلاف جنگ کی قیادت کرنے والے ادارے کی سربراہی منصوبہ بندی کے وزیر اسد عمر کے پاس ہے لیکن اس کے ہر اجلاس کا اعلامیہ آئی ایس پی آر سے جاری ہوتا ہے۔

24 مارچ کو وزیر اعظم عمران خان خاصے جزبز ہوتے دکھائی دیے جب ان سے رپورٹرز نے سوال کیا کہ ملک کو چلا کون رہا ہے۔

مئی کے آخر میں ایوی ایشن کے وزیر غلام سرور خان نے ایک مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے بعد بھی پی آئی اے کا سربراہ ایک فوجی افسر کو لگانے کی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعیناتی کوئی جرم نہیں ہے۔

عمران خان کی کم ہوتی ہوئی طاقت

نیویارک میں موجود جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں کام کرنے والی فنانس کمپنی وزیر کنسلٹنگ کے صدر عارف رفیق کا کہنا ہے کہ عمران خان کی طاقت آنے والے دنوں میں مزید کم ہوتی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت کی بگڑتی صورتحال عمران خان پر دباؤ کو مزید بڑھائے گی۔

’’فوج نے عمران خان حکومت کے کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے انداز کو زیادہ پسند نہیں کیا ہے۔ ایسے اشارے بھی مل رہے ہیں کہ چین پاکستان معاشی راہداری کو چلانے کے معاملے پر بھی فوج حکومت سے ناخوش ہے، اور ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں گورننس پر بھی فوج کے خیال میں حکومتی کارکردگی تسلی بخش نہیں۔ ہم نے گذشتہ چند ماہ میں فوج کے ترجمان کی جانب سے سخت لاک ڈاؤن کی حمایت میں بیانات سنے ہیں جب کہ ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کو بیک وقت سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین اور وزیر اعظم کا معاونِ خصوصی برائے اطلاعات بنا دیا گیا ہے‘‘، عارف رفیق نے کہا۔

فوج نے گذشتہ برس ہی پالیسی سازی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا، اور اس میں صرف خارجہ اور دفاعی پالیسیاں شامل نہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے معیشت کو سدھارنے کے لئے ملک کے اعلیٰ ترین کاروباری لیڈرز سے ذاتی طور پر ملاقات کی تھی۔ جنوری میں ملک کی پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا جس کے تحت جنرل باجوہ کو نومبر 2019 سے شروع ہونے والی ایک تین سالہ توسیع بھی مل گئی اور وہ حکومت کی بنائی گئی معاشی کمیٹی کے ایک رکن بھی ہیں۔

جنوبی ایشیا ماہر مائیکل کگلمین کے مطابق دنیا میں کئی جمہوریتیں ریٹائرڈ فوجی افسران کو اہم حکومتی عہدوں پر تعینات کرتی ہیں لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب فیصلہ سازی سویلینز کے ہاتھوں سے نکل کر فوج کے پاس چلی جائے۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *