Type to search

انٹرٹینمنٹ خبریں شو بز قومی

اے آر وائی کے نئے ڈرامے ’جلن‘ کا ٹیزر اور ٹویٹر پر #واہیات_ڈرامے کا ٹرینڈ، وجہ کیا ہے؟

اے آر وائی کے ڈرامے’جلن‘ کا ٹیزر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ڈرامے کی کہانی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس وقت سوشل میڈیا پر #واہیات_ڈرامے کا ٹرینڈ بھی ٹاپ کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین ڈرامے کی کہانی کو پاکستانی سماجی روایات کے خلاف قرار دے رہے ہیں، جلن ڈرامے کے چار ٹیزر سامنے آچکے ہیں، جن سے ڈرامے کی مکمل کہانی کو سمجھنا مشکل ہے، تاہم ٹیزرز سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈرامے کی کہانی اچھوتی ہے۔

جاری کیے گئے ٹیزر میں مرکزی اداکارہ منال خان، اریبہ حبیب اور عماد عرفانی سمیت دیگر اداکاروں کو دکھایا گیا ہے۔ ٹیزرز سے پتا چلتا ہے کہ ڈرامے میں اریبہ اور منال خان نے بہنوں کے کردار ادا کیے ہیں جب کہ عماد عرفانی نے اریبہ حبیب کے شوہر کا اور منال خان کے بہنوئی کا کردار ادا کیا ہے۔

ساتھ ہی ٹیزر سے پتا چلتا ہے کہ منال خان اپنے بہنوئی کے عشق میں گرفتار ہوجاتی ہیں اور انہیں اپنی بڑی بہن کی شادی خراب کرنے اور بہنوئی سے شادی کی ضد کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

ٹیزرز میں بہنوئی کے عشق میں گرفتار ہونے والی منال خان سے دوسرے شخص کی محبت کو بھی دکھایا گیا ہے تاہم اداکارہ اس کی محبت کو ٹھکرا کر اپنی بہن کے شوہر کے ساتھ شادی کے لیے بضد دکھایا گیا ہے۔

ڈرامے کے ٹیزر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے ڈرامے کی کہانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے پاکستانی سماج کے خلاف قرار دیا جب کہ ٹوئٹر پر واہیات ڈرامے کا ٹرینڈ بھی ٹاپ پر رہا۔

ٹوئٹر پر عامر خان نے نامی صارف نے لکھا کہ انہیں پاکستانی ڈراموں کی کہانیوں سے سخت نفرت ہے، کیوں کہ ان میں واہیات کہانیاں ہوتی ہیں، انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ جلن میں سالی بہنوئی پر فدا ہیں، عشقیہ میں بہنوئی سالی پر فدا ہیں، دیوانگی میں باس اپنے دفتر میں کام کرنے والے کی بیوی پر فدا ہیں، پیار کے صدقے میں سسر بہو پر فدا ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے تنقیدی جملہ لکھا کہ واقعی ارطغرل پاکستان کے کلچر کو نہ صرف خراب کر رہا ہے بلکہ تباہ و برباد بھی کر رہا ہے۔

خیال رہے کہ ’جلن‘ کو رواں ماہ 17 جون سے اے آر وائے ڈیجیٹل پر پرائم ٹائم میں نشر کیا جائے گا، ڈرامے کی ہدایات عابس رضا نے دی ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *