Type to search

ادب ثقافت فیچر

اج آکھاں وارث شاہ نوں، کتھوں قبراں وچوں بول: برصغیر کی عظیم شاعرہ، مصنفہ اور سماجی رہنما امرتا پریتم کے ساتھ ایک نشست

امرتا پریتم پنجابی ادب کی دنیا کی سب سے بڑی لکھاری ہیں۔ وہ 1935 میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔   انہوں نے لاہور میں تعلیم حاصل کی۔ اانہوں نے 75 سے زیادہ کتابیں لکھیں جن میں 30 ناول،18 شاعری اور بہت سارے افسانوّں کے مجموعہ شامل ہیں۔ وہ صرف پنجابی اور ہندی میں لکھتی ہیں مگر ان کی تحریروں کے 40 سے زیادہ زبانوں میں ترجمے ہو چکے ہیں۔  وہ 1947 میں لاہور سے ہجرت کرکے دہلی  گئیں اور ساری زندگی وہیں رہیِں۔ انہوں نے  پانچ روپیہ روزانہ پر آل انڈیا ریڈیو پر د س سال کام کیا۔

امرتا پریتم انڈیا کی  پہلی خاتون لکھاری تھیں جنہیں ساہتہ اکیڈمی ایوارڈ ملا۔ ان کی ادب میں خدمات کے صلہ میں  انڈیا کے صدر نے انہیں پد ما شری کا خطاب دیا۔

امرتا نے ہمیشہ پسماندہ طبقات کی لئے کام کیا۔ انہیں لکھاریوں کی لئے مخصوص سیٹ پر راجیہ سبھا کا ممبر نامزد کیا گیا۔

ان کی زندگی میں ان کے گھر 25 حوض خاص دہلی میں ایک  بات چیت کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔

سوال: آپ نے بے اے کرنے سے پہلے ہی کالج چھوڑ دیا؟ اپنی تعلیم مکمل نہیں کی؟

جواب: میں بی اے میں پڑھتی تھی۔ جب میں پہلا پرچہ دے رہی تھی تو ایک دن مجھے خیال آیا کہ امتحان تو آپ کی یاداشت کا ٹسٹ ہے۔ تو میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ میں یہ نظمیں کیوں یاد کروں؟ میں نے محسوس کیا کہ میں یہ نظمیں خود بھی لکھ سکتی ہوں۔ میرا موڈ خراب ہوا اور میں نے پڑھنا چھوڑ دیا۔

-سوال: آپ نے  شاعری کب شروع کی ؟

 

جواب : بہت چھوٹی عمر میں، چھٹی یا ساتویں کلاس میں۔ آپ کو پتہ ہے کہ بچے چاند سے ایک تعلق جوڑ لیتے ہیں۔ میں نے چاند میں ایک نقطہ دیکھا،مجھے لگا کہ یہ کوئی لفظ ہے۔ میں نے چاند پر راج لکھا ہوا دیکھا۔ میری ماں جس کا کچھ دیر پہلے ہی انتقال ہوا تھا ان کو ہم راج کہتے تھے۔ پھر میں نے چاند میں ایک اور لفظ دیکھا اور یہ راجن بن گیا۔ پھر میں نے راجن پر ایک نظم لکھی-

 

ایک دن جب میں سکول جانے لگی تو میرے والد نے جب میری جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس میں ایک پرچہ تھا۔ جس پر ایک نظم لکھی ہوئی تھی۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ نظم تم نے لکھی ہے ؟میں نے کہا کہ نہیں-میں نے زندگی میں پہلی بار جھوٹ بولا، میں نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ انہوں نے میرے منہ پر تھپڑ مارااور کہا کہ تم نے جھوٹ کیوں بولا۔

پھر انہوں نے پوچھا کہ یہ راجن کون ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک تصور ہے اس دفعہ میں نے سچ بولا۔

میرے والد سردار کرتار سنگھ خود پنجابی اور برج بھاشا کے بڑے شاعر تھے۔ میں نے شاعری کے سارے میٹر ان سے سیکھے ،کافیا، ردیف اور شاعری کی گرامر،انہوں نے مجھے اپنے ثقافتی ورثہ کے بارے میں بہت کچھ سکھایا۔

سوال:آپ کی  نظم ‘اج آکھاں وارث شا ہ نوں’ ہندوستان اور پاکستان میں بہت پسند کی گئی۔ اس کے بعد آپ کی کوئی نظم پاکستان میں نہیں چھپی اس کی کیا وجہ ہے۔ کیا آپ نے کم لکھا؟

جواب: تقسیم سے پہلے میری شاعری کی کتاب ‘چھ رتن’ لاہور میں چھپی تھی اس کے بعد میری پاکستان میں کوئی شاعری کی کتاب نہیں چھپی۔ پر میں نے شاعری کرنی نہیں چھوڑی، در حقیقت اس کے  بعد میں نے  زیادہ پختہ نظمیں لکھیں۔ یہاں میری انگریزی میں منتخب تحریروں کی کتاب چھپی ہے۔ میری ایک کتاب فرانسیسی میں ترجمہ ہو رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس سال چھپ جائیے گی-

سوال: آپ کا سارا نثر میں کام پاکستان میں اردو میں چھپ گیا ہے۔ جس میں آپ کی سوانح عمری ‘رسیدی ٹکٹ’ بھی شامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی نثر پاکستان میں آپ کی شاعری سے زیادہ جانی جاتی ہے؟

جواب: لیکن ترجمے بہت ہی برے ہیں۔ میری آپ بیتی کی مثال لیں اس میں میری نظموں کے غلط ترجمے ہوئے۔ میں نے بار بار پبلشر کو کہا کہ میں ہندوستان سے ترجمہ بھیج دیتی ہوں مگر اس نے جواب دینا پسند نہیں کیا- اس نے تو مجھے کتاب بھی نہیں بھیجی۔

 

سوال: آپ نے آپ بیتی میں بہت سارے نام لئے ہیں ؟

جواب: لیکن پاکستان میں چھپا اردو ترجمہ پورا نہیں ہے۔ مثال کے طور پر میں نے  اپنے دوست سجاد حیدر کا  ذ کر کیا تھا- انہوں نے وہ حصہ نہیں چھاپا- اس کا ذ کر بار بار کتاب میں  آتا ہے انہوں نے وہ حصہ کاٹ دیا- کتاب کا ستیا ناس کر دیا۔ میں نے اس کا ذ کر بہت پیار سے کیا تھا-آپ وکیل ہیں آپ جاکر اس مسئلہ کو اٹھائیں۔

سوال: آپ نے اپنی سوانح عمری میں ساحر کا باربار ذکر کیا ہے ؟

جواب:  میں  نے اپنی آپ بیتی میں  ذ کر کیا ہے۔ میری کتاب

My Life and Timeابھی شائع ہوئی ہے۔ میں نے کچھ حصے اس میں شامل کئے ہیں. میں نے ساحر کے بارے میں اس کی موت کے بعد بہت کچھ اپنی آپ بیتی میں شامل  کیا ہے-میں نے اندرا  گاندھی کے بارے میں بھی لکھا ہے- دونوں کا مرنا میرے لئے بہت بڑا صدمہ تھا- میں نے ان کے بارے میں بہت جذباتی نظمیں لکھی ہیں-

سوال: کہا جاتا ہے کہ آپ کے ساحر کی ساتھ بہت گہری دوستی تھی ؟

جواب: ہاں وہ میرا د وست تھا- – جیسے اردو میں  کہتے ہیں۔ میں اپنے خیالوں کے صدقہ

سوال: کیا  ساحر میں بھی آپ کے بارے میں ویسے ہی جذبات تھے؟

جواب:   ہاں کچھ طرح سے مگر وہ کوئی دلیرانہ  قدم نہیں اٹھا سکا- اس میں ہمت اور  حوصلہ نہ تھا-مگر جذبات تھے-

سوال: کیا ساحر نے آپ کے بارے میں نظمیں لکھی ہیں ؟

جواب: بہت! ایک دفعہ ساحر دہلی میں تھا میں اور امروز میرا جیون ساتھی اسے ملنے اس کے ہوٹل میں گئے۔ اس نے تین گلاسوں میں  وسکی ڈالی ہم کوئی  گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ وہاں بیٹھے، پھر ہم گھرآگئے-  اس کا رات کو فون آیا اس نے مجھے بتایا کہ میں تین گلاس شراب  کے بھرے ہیں اور یہ  نظم لکھ رہا ہوں -‘میرے ساتھی خالی جام/تم ہو آباد گھروں کے باسی/ہم آوارا اور بدنام/

اس نے یہ نظم مجھے  فون پر سنائی-بعد میں  یہ فلم میں بھی  گائی گئی-

سوال: کیا آپ نے بھی ساحر کے بارے میں کوئی نظم لکھی ہے ؟

جوب: ہاں بہت، جس طرح ‘لگی لو تے پہلا پہر لگا’-

سوال: آپ کا آج کے پاکستانی لکھاریوں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟

جواب: فیض دوست بن گیا تھا۔ جب وہ دہلی آیا تو میں نے اسے  ٹیلی وژن کے لئے انڑویو کیا۔ اپنی زندگی میں پہلی دفعہ فیض نے پبلیکلی پنجابی بولی۔ انڑویو اسی کمرے میں ہوا کیوں کہ اس دن سٹوڈیو خالی نہیں تھا- آپ یہ شیڈ لیمپ دیکھ رہِے ہیں جس پر امروز نے  پینٹ کیا ‘گلوں میں رنگ بھرے ‘ میں نے یہیں سے بات شروع کی۔

جب انڑویو ختم ہو گیا تو فیض نے کہا کھڑکیا ں کھول دو، یہ چائے کے برتن اٹھا دو اور وسکی لاو۔ جب میں نے وسکی کے ساتھ گلاس بھر دیئے تو میں نے فیض سے پوچھا کہ اب بتاؤ کہ آپ نے کب اور کس کے لئے  شاعری لکھی- اس نے کہا کہ  سیالکوٹ میں ایک لڑکی تھی اس نے اپنے  عشق کا بتایا۔ اس کے لئے شاعری شروع کی تھی- پھر اس کی امیر خاندان میں شادی ہو گئی-اس لڑکی کے بارے میں باتیں کرتا رہا- پھرمیں نے ایک  دوست کی سالی جو اپنی بہن کو ملنے آئی تھی، سے شادی کر لی-

سوال: آپ کا کیا خیال ہے ایک لکھاری کو کرافٹ کے ساتھ تجربہ کرنا چاہئے ؟

جواب: لکھاری کو کرنا چاہئے، لکھاری اپنے آپ کو دہرا نہیں سکتا۔ ہر ایک کو بات معلوم ہوتی ہے لیکن اسے کہنے میں فرق ہوتا ہے۔ بات کہنے کا طریقہ آپ کو لکھاری بنا دیتا ہے -موضوع نیا نہیں ہوتا کہنے کا طریقہ آپ کو مختلف بنا دیتا ہے۔

سوال: آپ کیا محسوس کرتی ہیں آپ کے ناول کے کرداروں  کو کس چیز کا مقابلہ ہے؟

جواب: بنیادی مسئلہ عورت اور مرد کا تعلق ہے۔ جو آدمی کا آدمی کے تعلق کے بعد ملک اور ملک کے ساتھ جڑ جاتا ہے-

سوال: آپ کے خیال میں مرد اور عورت کے تعلق میں کیا الجھاؤ ہے؟

جواب: عورت مکمل نہیں ہے اورمرد بھی مکمل نہیں  ہے۔ ہم جوانی ، خوبصورتی اور  کچھ اورآسائشوں کو محبت کا نام دے دیتے ہیں۔ لیکن محبت صرف دو مکمل مرد اور عورت میں  ہو سکتی ہے-

سوال: آپ کا مکمل عورت کا کیا تصور ہے؟

جواب: ایک عورت جو معاشی ، جذباتی اور ثقافتی طورپر خود مختار اور آزاد ہو۔ آزادی مانگی نہیں جا سکتی، یہ چھینی بھی نہیں جا سکتی۔ اس کا کسی پر بھی اطلاق نہیں ہوتا-لہذا یہ جسم کی مٹی میں سی اٹھتی ہے –

ایک دفعہ ایک امریکن  عورت مجھے ملنے آئی اس نے مجھ سے پوچھا کیا امریکی عورت مکمل آزاد ہے؟یہ بات سچ نہیں ہو سکتی۔ اگر یہ بات سچ ہوتی تو امریکہ دوسری قوموں سے برابری کا تعلق رکھتا- آزاد ملک ہونے کے ساتھ وہ دوسرے ملکوں کی آزادی کا احترام کرتا۔

سوال: آپ نے پنجاب کی تقسیم پر ایک بہت ہی جذباتی نظم لکھی جو کچھ آج ہندوستان کے پنجاب میں ہو رہا ہے  اس پر بھی آپ نے کچھ لکھا ہے ؟

جواب : ہاں میں نے  بہت نظمیں لکھی ہیں۔ جیسے  ‘رب خیر کرے میرے ویڑے دی/تے جس تھاں رانجھا ویڑا کیتا /اوتھے دھمک سنیدی کھیڑیاں دی/رب خیر کرے میرے ویڑے دی’-میں نے اس قسم کی اور بہت سی نظمیں لکھی  ہیں۔

سوال: ایک لکھاری جس نے  تقسیم کے بارے میں زور دار لکھا وہ سعادت حسن منٹو تھا- کیا آپ اسے ذاتی طور پر جانتی تھیں ؟

جواب: نہیں،  میں اس کو کبھی نہیں ملی تھی۔ لیکن تقسیم کے بعد اس نے مجھے بہت خوب صورت  خط لکھا  جس میں اس نے لکھا کہ وہ زندگی میں کبھی نہیں رویا مگر جب اس نے میری نظم ‘غلاماں دے دیش دا چندر ما پھکا پے جاندا اے’ پڑھی تو وہ آنسو نہ روک سکا۔ میں نے اسے شکریہ کا خط لکھا –

اس کی موت کے بعد ایک پبلشر میرے پاس آیا اور اس نے مجھے منٹو کی کتاب کا تعارف لکھنے کے لئے کہا۔ میں اس کی تحریروں سے بہت پیار کرتی تھی خاص کر

تقسیم  کے  افسانے ‘کھول دو’، ٹوبہ ٹیک سنگھ’۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا تونام نہاد پنجابی کے ایک بہت بڑے آدمی نے مجھ سے رابطہ کیا  اور کہا کہ میں منٹو کا تعارف نہ لکھوں۔ ان کے منع کرنے کے باوجود میں نے  کھل کر تعارف لکھا۔ جس میں میں نے ایک خاص واقعہ کا حوالہ دیا۔ میں نے لکھا کہ روس کے ایک گاوں ٘میں عورتیں قالین بن رہی تھیں وہ کیمیکل یا مصنوعی رنگ استعمال نہیں کرتی تھیں بلکہ اس کی بجائے جنگل کی جڑی بوٹیاں استعمال کرتی تھیں۔ ان کو ابال کر شوخ رنگ بناتی تھیں۔ جب ایک عورت کو لینن کی موت کا پتہ چلا تو اس نے ایک بہت ہی خوبصورت قالین بنایا کیوں کہ اس کے پاس کالا رنگ نہیں تھا اس نے قالین کے باڈر کے لئے مصنوئی کالا رنگ استعمال کیا۔ بارشوں کے بعد قدرتی رنگ بہت چمکے اور مصنوئی کالا رنگ پھیکا پڑ گیا-

میں نے لکھا کہ منٹو کے ساتھ بھی یہی ہوگا –اس کی ذات کے ساتھ لگے ہوئے دھبے وقت کے ساتھ ساتھ دھل جاِئیں گے اور اس میں سے اصلی منٹو نکھر آئے گا۔ میں نے اس ناقد کو بتایا کہ تم مر جاو گے مگر منٹو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

سوال:  کیا آپ نے کسی پاکستانی ادیب کے بارے میں لکھا؟

جواب: ہاں میں نے فخر زمان کے بارے میں لکھا۔ میں نے اس کی کتابیں ‘بے وطنا اور بندی وان’ بھی چھاپیں۔ میں نے مظہر الاسلام اور سعیدہ گزدر کے بارے میں بھی لکھا-اور  یقیننا سارہ شگفتہ پر۔ میری کتاب ‘ایک تھی سارہ’ جلد ہی آجائے گی- امروز نے اس کا ٹایئٹل بنایا ہے۔

میں مظہر اسلام کی نظم ‘دعا’ سے  بہت متاثر ہوئی۔ جس میں اس نے لکھا ہے ‘خدایا خدایا ہم ادیبوں اور شاعروں کو سچ لکھنے کی طاقت دے’-میں اپنی تقریرون میں اکثر سعیدہ گزدر کے حوالے دیتی ہوں –اس کی ایک نظم ‘

‘Testimony of two women is necessary’خاص کر بہت زور دار ہے- میں نے گزدر کو لکھا اور پوچھا کہ اس نے میری نظم‘land of Draupad Iکو اپنی سرگذشت میں کیوں  شامل نہیں کیا؟

 

سوال: آپ کا پنجابی لکھاری افضل احسن رندھاوا کے بارے میں کیا خیال ہے؟

جواب: مجھے اس کی شاعری سے اس کی کہانیاں زیادہ پسند ہیں-

سوال: کوئی نئے پنجابی لکھاری جو آپ کو اچھے لگتے ہیں ؟

جواب: بہت سارے اچھے لکھاری ہیں۔ پریم گورکی جس کا تعلق ایک پسماندہ طبقہ سے تھا- جس نے پسماندہ طبقات کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ اس میں اس جدو جہد کا شعور ہے،پال قذاق ہیں، وہ ایک ریڑھی بان کی بیٹی پر عاشق ہو گیا- اس کے لئے وہ تین سال ان کے علاقہ میں رہا۔ اس کی اس علاقہ اور ان کے رہن سہن کے بارے میں زبردست تحریریں ہیں۔ وصیر بھلر ایک اور عمدہ شاعر ہے۔ بہت سارے اچھے لکھاری ہیں۔  میں نے صرف چند کے نام لئے ہیں۔ مثال کے طور پر شو بٹالوی، بہت اچھا شاعر تھا۔ بہت حساس تھا- کچھ عورتوں نے بھی اچھی شاعری کی ہے-جن میں سے منجیت ٹوانہ ایک ہیں۔

سوال: آپ راجیہ سبھا کی ممبر ہیں آپ کو سیاست میں کب دلچسپی پیدا ہوئی؟

جواب:  ممجھے سیاست پسند نہیں ہے میں نے کوئی الیکشن نہیں لڑا- میں راجیہ  سبھا کی نامزد ممبر ہوں- جیسے حسین، بطور پینٹر اس کے ممبر ہیں۔ روی شنکر بطور موسیقار ہیں۔ میں بطور لکھاری ممبر ہوں۔ میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سوال: پھر آپ راجیہ سبھا میں کیا کرتی ہیں؟

جواب: میں سماجی  سوال اٹھاتی ہوں جیسے میں نے اپ کو پہلے بتایا ٘میں رائڑز کی رائیلٹی کا مسئلہ اٹھاتی ہوں۔ میں نے عورتوں کے ایک خاص مندر میں داخلہ پر پابندی کا مسئلہ اٹھایا۔ ہوا یہ کہ آسام میں ایک مندر میں عورتوں کو داخل ہونے کی اجا٘زت نہیں ہے  جہاں وہ اندر جاکر خدمت کرنا چاہتی ہیں۔ عوتوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس وقت تک باہر لان میں بیٹھیں گی جب تک ان کو اندر جانے کی اجازت نہیں ملتی۔ نسل در نسل عورتیں مندر کے احاطہ میں بیٹھی ہیں جہاں انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ایک طرح کی نفسیاتی غلامی ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ جب میں آسام گئی تو مجھے بتایا گیا کہ وہاں اس قسم کے چالیس مندر ہیں- جہاں مندر میں ‘گیتا’ کی پوجا کی جاتی ہے- میں نے مندر کے پنڈت کو کہا کہ آپ نے کرسشنا کو مدر میں داخل ہونے کی اجازت دے ہوئی ہے مگر ‘رادھا’ کرشن کی Super Consciousnessباہر ہے میں نے پنڈت سے پوچھا کہ لارڈ مندر میں بیٹھ کر کیا کرے گا  Super Consciousnessکو آپ مندر میں داخل نہیں ہونے دیتے۔

میں عورتوں کے حقوق کے بارے میں اپنی تقریروں میں سعیدہ گذدر اور مظہر اسلام کے بہت حوالے دیتی ہوں۔

سوال: بطور لکھاری آپ سیاست کے بارے میں کیا محسوس کرتی ہیں ؟

جواب: بطور لکھاری میں صرف سیاست ہی نہیں  بلکہ ہر شعبہ زندگی سے مایوس ہوں۔ ہماری قدروں کا اب کوئی تعلق نہیں رہا- جیسا میں نے پہلے کہا کہ اس کا ذمہ دار ادبی ایوارڈوں کا ایک لمبا سلسلہ ہے- ایوارڈ دینے اور اس کا انتظام کرنے ، لیں دین کرنے سے اصلی لکھاری کو اس سے باہر رکھتے ہیں۔ رشوت زندگی کے ہر شعبہ میں داخل ہو گئی ہے- خوا وہ مذہب، دھرم ، سماجی تعلقات، ہر چیز تجارت بن گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ادب اور فنون لطیفہ کی روح مجروح ہوئی ہے۔ پاکستان میں بھی ایسی ہی صورت حال ہے۔

سوا ل : آپ نے تنزل اور انحطاط کی بات کی ہے کیا آپ نہیں سمجھتی کہ اسے روکنا لکھاری کا کام ہے؟

جواب: لکھاری کا کردار بڑھنا چاہئے تھا مگر وہ کم ہو گیا ہے۔ میں ہر طرف تنزل سے مایوس ہوں-

سوال:کیا آپ کو یورپ یا دوسری زبانوں کے ادب نے متاثر کیا ؟

جواب: ہاں میں نے ہر اس ملک کے ادب کا ترجمہ کیا جہاں میں گئی۔

سوال : کیا آْپ کسی ملک کے لکھاری سے ذاتی طور پر متاثر ہوئی ؟

جوا ب: ذاتی تعلقات بنانے کی لئے بہت وقت چاہئے۔ مجھے ہر جگہ لکھاری ملے۔ دوست بنانے کی لئے بڑا وقت چاہئے۔ مجھے ہر جگہ اچھے لکھاری ملے۔ میں نے رومانیہ کی کچھ نظمیں ترجمہ کیں۔ یہ واقع ہی بہت اچھی نظمیں تھیں  میں نے ان کا حوالہ اپنی تقریر میں دیا ہے۔

سوال: آپ اپنی پہلی تحریروں اور آج کی تحریروں کا کیسے مقابلہ موازنہ کرتی ہیں؟

جواب: میرا خیال ہے اب مجھ میں پختگی آگئی ہے۔ میری کرافٹ پر اب زیادہ گرفت ہے۔ وقت کے ساتھ فرق پڑتا ہے۔

سوال:آپ نہیں سمجھتی کہ پنجابی دانشور اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو گیا ہے؟

جواب: نہیں آپ ناکامی نہیِں کہہ سکتے ایک طرف وہ لوگ ہی٘ں  جو اپنا اظہار کرنے کی لئے جزبات اور لفظوں کا استعمال کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ ہیں جو ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ آدمی کیسے بات کر سکتا ہے وہ فورا آپ کو  قتل  کردیں گے-

سوال: آپ نے مارنے اور قتل کی دھمکیوں کی بات کی ہے- حال ہی میں دہلی میں ایک آرٹسٹ صفدر ہاشمی کو دن دیہاڑے قتل کر دیا گیا؟

جواب: ہاں یہ بہت برا ہوا۔ افسوس ناک ہے۔ لیکن بہت سارے ایسے لوگ اس طرح قتل کئے جاتے ہیں اس قتل ہر بہت بڑا احتجاج ہوا۔ کیوں کہ وہ سی پی ایم کا ممبر تھا۔ دوسرے جب قتل ہوتے ہیں تو کوئی احتجاج نہیں ہوتا-انسان کا قتل، قتل ہی ہے۔

سوال: آپ کا پاکستان کے لکھاریوں کے لئے کیا پیغام ہے؟

جواب: میرے لئے پاکستان اور ہندوستان کے لکھاری ایک ہیں۔ میں ان کی برابر کی عزت کرتی ہوں۔ مجھے خوشی ہوتی ہے جب وہ وہی کریں جو وہ کہتے ہیں۔ میں نے یہ دیکھا ہے کہ ہم منافق ہو رہے ہیں۔

سوال: اکثرسنتے ہیں کہ آپ  پاکستان آرہی ہیں کیا آپ کو بچپن کی جگہ یاد نہیں آتی؟

جواب: کیوں نہیں۔ میں نے پاکستان جانے کا پرگرام بنایا مگر فرانس میں میرا  ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ میری ہڈی ٹوٹ گئی اور میں چھ مہینے تک بستر میں لیٹی رہی۔ اور اس لئے پاکستان نہ جا سکی۔

سوال:موجودہ حالات میں آپ لکھاریوں کی کیا ذمہ داریاں سمجھتی ہیں؟

جواب:  ان کو تین بڑے ہتھیاروں سے پچنا چاہئے ،َ  شہرت، پیسہ اور  طاقت- جب  تک آدمی ان پر قابو پانا نہیِں سیکھتا-

سوال: ہم پاکستان میں پنجاب اسمبلی میں پنجابی نہیں بول سکتے جب کہ ہندوستان میں ریاستیں ان کی مدد کرتی ہیں۔ آپ کے ملک میں کوئی پنجابی کے اخبار نکلتے ہیں ؟

جواب: اصل میں سرکار کوئی مدد نہیی کرتی۔ بہت سارے پنجابی روزنامہ ہیں  ‘اجیت اور ٹریبون’ اچھے ہیں – ریاست چھوٹے پرچوں کو کوئی اشتہار اور مالی مدد نہیں دیتی  یہ لوگ خود کرتے ہیں –

سوال: یہ کہا جاتا ہے کہ پنجابی  زبا ن میں بہت سارے ہندی کے الفاظ داخل کر دئیے گئے ہیں آپ کا کیا خِیال ہے ہندوستان میں پنجابی کا کیا مستقبل ہے؟

جواب: میرا خیال ہے کہ پنجابی میں ایک خاص حد تک ہندی کے الفاظ داخل ہو گئے ہیں لیکن جب یہ ایک خاص حد سے آگے بڑھ جائیں گے تو پھر لوگ اصل کی طرف لوٹ جایئں گے۔ وہ صوفیوں کی زبان کی طرف لوٹ آیئں  گے۔ میں اپنے الفاظ  استعمال کرنے کے حق میں ہوں۔ جب ہماری اپنی زبان میں اچھے الفاظ ہیں تو ہمیں دوسروں کے الفاظ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں اپنی زبان کے بارے میں بہت محتاط ہوں ، میں اپنی پنجابی تحریروں میں ہندی کے الفاظ استعمال نہیں کرتی ہوں۔ گو میں تقریریں انگریزی میں کرتی ہوں کیونکہ مجھے  سارے ہندوستان کے لوگوں سے بات کرنی ہوتی میری تقریریں قومی یک جہتی اور انسانی تعلقات کے بارے میں ہوتی ہیں۔

سوال:آپ آج کل کیا لکھ رہی ہیں؟

جواب: میں اپنے خوابوں پر لکھ رہی ہوں۔ اصلی خوابوں پر کتاب کا نام  ہو گا ‘لال دھاگے دا رشتہ’-کتاب دونوں زبانوں پنجابی اورانگریزِی میں ہو گی-

سوال: ہر آدمی کا خاص کر لکھاری کا ایک تصور ہوتا ہے جو وہ زندگی میں حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کیا آپ اپنی تحریروں سے مطمئن ہیں ؟

جواب: میں اپنے کام سے  مطمئین ہوں۔ لکھنے کی کوئی آخیر ‘انت’ نہیِں ہے- میرا تصورخوبصورت انسان تھا  لیکن حقیقت میں وہ  نیچ، پست ہے۔ مجھے  ملک ٹوٹتے  ہوئے دیکھ کر ، تعلقات میں بگاڑاور  قدروں میں تنزل دیکھ کر صدمہ ہوتا ہے۔  یہ مجھے اداس کر دیتے ہیں۔

 

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *