Type to search

فلم فیچر

پاکستانی گلیمر گرل صبیحہ خانم کی یاد میں: ایک عہد جو تمام ہوا

خوبصورت نین و نقش، گھنی زلفیں، متناسب قد و قامت اور یوں سمجھیں کہ مشرقی حسن کا جیتا جاگتا نمونہ، اُس پر دلوں پر اثر کرتی اداکاری، یہی خاصہ رہا صبیحہ خانم کا، جو جب جب اسکرین پر آتیں، جواں دلوں کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونا شروع ہوجاتیں۔مثالی حسن و جمال تو ایسا تھاکہ اُس دور کی بہت کم ہیروئنز اس مقام کو چھو پاتیں اُن کے  دور کی لڑکیوں نے  صبیحہ خانم کی طرح ایک لٹھ چہروں پر سجانے کا فیشن اختیار کیا۔ دیکھا جائے تو صبیحہ خانم کی رگوں میں اداکاری کا جنون ٹھاٹھیں ما ر رہا تھا۔ والد محمد علی کوچوان تھے جو کہ ’ماہیا‘ گانے میں مہارت رکھتے۔ فلمی شخصیات سے شناسائی تھی۔

اسی طرح والدہ اقبال بیگم بھی چھوٹے موٹے کرداروں میں جلوہ گر ہوچکی تھیں۔ گجرات سے تعلق تھا ، لاہور آنا جانا لگا رہتا تھا۔ جب صبیحہ خانم صرف پندرہ برس کی تھیں اور گھر والے ’مختار بیگم‘کہہ کر مخاطب کرتے تو سلطان کھوسٹ کے ڈرامے ’بت شکن‘ کی ریہرسل دیکھنے کے لیے والدکے ساتھ آئیں اورریہرسل دیکھ کر ان کا صرف یہ کہنا تھا کہ یہ تو اتنا آسان کام ہے کہ وہ خود بھی کرسکتی ہیں۔

ابتدا میں سب نے ہنسی مذاق میں ان کی یہ بات اڑا دی۔ لیکن قسمت ان پر مہربان تھی۔ کیونکہ اس اسٹیج ڈرامے کی ہیروئن بھاگ گئی اور سلطان کھوسٹ اور ڈراما نگار نفیس خلیلی سخت پریشان تھے۔ ایسے میں انہیں اچانک صبیحہ خانم کا خیال آیا، اور انہیں یہ کردار مل گیا۔  جنہوں نے چند دنوں کی محنت کے بعد اس کردار کو ایسے ادا کیا کہ فلم نگری میں صرف ان کا ہی چرچا ہونے لگا۔

نفیس خلیلی نے ہی مختار بیگم کی جگہ ان کا نام صبیحہ خانم رکھا جو آنے والے دنوں میں مستند اور چمکتا دمکتا روشن نام ثابت ہوا۔
صبیحہ خانم کا کہنا تھا کہ ’بت شکن‘ دیکھنے کے لیے کئی فلم ساز، اداکار اور ہدایت کار آئے۔ انہی میں ایک انور کمال پاشا بھی تھے۔ جنہوں نے صبیحہ خانم کو انیس سو پچاس میں آئی فلم ’دو آنسو‘ میں پہلی بار ہیروئن کے طور پر پیش کیا جبکہ ہیرو سنتوش کمار تھے۔ ’دو آنسو‘ نے تو شہرت اور کامیابی کا نیا راستہ دیکھا۔

یہ پاکستان کی پہلی فلم تھی جس نے سلور جوبلی مکمل کی۔ اس تخلیق سے پہلے صبیحہ خانم ’بیلی‘ میں کام کرچکی تھیں۔ لیکن یہ کم و بیش سائیڈ ہیروئن والا کردار تھا اوراس فلم میں بھی ہیرو سنتوش کمار ہی تھے۔

صبیحہ خانم کے مطابق اس فلم کی عکس بندی کے دوران عجیب و غریب حادثات ہوئے۔ پہلے میک اپ روم میں ان کا ہاتھ بجلی کے کھلے ہوئے سوئچ بورڈ سے جا ٹکرایا تو شارٹ سرکٹ ہوگیا  اور پھر جب ایک منظر کی عکس بندی میں مصروف تھے تو سیٹ پر سانپ نکل آیا۔ بھگڈر مچ گئی۔ جبھی سنئئیر فوٹو گرافر حمید بھائی نے صبیحہ خانم کو کہا کہ وہ خوش قسمت اداکارہ ہوں گی اور بہت نام کمائیں گی۔ کیونکہ فلم نگری سے وابستہ افراد کا ماننا تھا کہ اگر سیٹ پر سانپ آجائے تو یہ نیگ شگون ہوتا ہے۔
’دو آنسو‘ کے بعد جیسے صبیحہ خانم نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ وہ پاکستان کی پہلی گلیمر گرل تھیں۔ جن کی اداکاری ہی نہیں  انداز اور رقص بھی دلوں کو چراتا۔ ان پر فلمائے گئے گیت ’لٹھ الجھی سلجھا جا رے بالم، او مینا یہ کیا ہوگیا، واسطہ  ای رب دا تو جاویں کبوتر ا‘  سئیوں نے میرا دل دھڑکے، تم جگ جگ جیو، رقص میں ہے سار ا جہاں، پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے  بھلا کون ذہنوں سے فراموش کرسکتا ہے۔
یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ صبیحہ خانم کی جوڑی سنتوش کماریعنی سید عشرت عباس کے ساتھ خوب جچی۔ دونوں نے ستینالیس فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ پردے پر ہیرو ہیروئن بننے والے حقیقی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھی بنے۔ سنتوش کمار جہاں خوبرو اور پرکشش ہیرو تھے تو صبیحہ خانم دلوں کو چرانے والی اداکارہ۔صبیحہ خانم نے صرف سنتوش کمار ہی نہیں سدھیر، یوسف خان، اسلم پرویز، اعجاز اور حبیب کے ساتھ کامیاب فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ صبیحہ خانم کے خود کے پسندیدہ ہیرو سنتوش کمار کے بعد کوئی اور نہیں رنگیلا تھے۔
صبیحہ خانم کو اپنی جس فلم کا کردار سب سے زیادہ پسند رہا‘ وہ انیس سو چوون میں آئی گولڈن جوبلی  ’گمنا م‘ تھی۔ جس میں انہوں نے پگلی لڑکی کا کردار نبھایا۔ صبیحہ خانم کے مطابق اس کردار کو ادا کرنے  کے لیے وہ گھنٹوں کبھی آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر خوب کھلکھلا کر ہنستیں تو کبھی  گھڑے میں منہ ڈال کر زور زور سے قہقہے لگاتیں تاکہ جب وہ منظر عکس بند کرائیں تو اس میں حقیقت کا گمان ہو۔ اسی طرح ایک اور فلم ’عشق لیلیٰ‘ میں اپنڈکس کی تکلیف کے باوجود اسے مکمل کرایا۔

انیس سو چھپن میں انہوں نے ’دلابھٹی‘ میں کام کیا جو بلاک بلاسٹر تخلیق ثابت ہوئی۔ جس کی کمائی سے لاہور کا ایورنیو اسٹوڈیو بنا۔ اسی طرح انیس سو چوون میں آئی ’سسی‘ میں ان کاکردار ناقابل فراموش رہا۔ اس مووی نے گولڈن جوبلی مکمل کی۔ چھ نگار ایوارڈ ز اور تمغہ حسن کارکردگی حاصل کرنے والی صبیحہ خانم پر ڈھلتی عمر کے سائے گہرے ہوئے تو انہوں نے معاون کردا ر نبھانے شر وع کردیے۔ ان میں ’دیور بھابھی  انجمن  اور کنیز  سب سے نمایاں رہی۔یہ جان کر بھی پرستاروں کو حیرت ہوگی کہ  مشہو ر بالی وڈ فلم ’باغبان‘ دراصل انیس سو چھہتر میں آئی صبیحہ خانم کی فلم ’انسانیت‘ سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔ جس میں صبیحہ خانم والا کردار ’باغبان‘ میں ہیما مالنی نے ادا کیا۔
صبیحہ خانم نے اداکاری کے علاوہ گلوکاری کی تربیت موسیقار نزاکت علی سلامت علی سے حاصل کی اور اکثر و بیشتر اس فن کا مظاہرہ کرتی رہیں۔ انیس سو چورانوے میں اپنی آخری فلم ’سارنگا‘ میں کام کرنے کے بعد ٹی وی ڈراموں میں بھی قسمت آزمائی۔ صبیحہ خانم کو شکوہ تھا کہ ان کے آخری دور میں فلم نگری سے وابستہ افراد انہیں فراموش کربیٹھے۔

لیکن وہ معین اختر کی بہت ممنون رہیں۔ ان کے مطابق جب ان پر فلموں اور ٹی وی ڈراموں کے دروازے بند کردیے گئے تو یہ معین اختر ہی تھے جنہوں نے انہیں بطور گلوکار، ملکی ہی نہیں غیر ملکی اسٹیج پروگراموں میں پیش کیا۔ جہاں وہ مدھر اور رسیلے نغمے گا کر ناصرف داد وصول کرتیں بلکہ مالی طور پر بھی خوشحال ہوئیں۔ اس اعتبار سے وہ معین اختر کو ناصرف فن شناس بلکہ مہربان انسان قرار دیتیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *