Type to search

سماج فیچر کلچر معاشرہ

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

پروین شاکر کے شعر کا یہ مصرعہ ہر دور میں relevant رہے گا کہ “بچے ھمارے عہد کے چالاک ہو گئے” کیونکہ بچے ہر دور کے ہی چالاک ہوتے ہیں۔ جو چیزیں (کمپیوٹر، موبائل، انٹرنیٹ وغیرہ) ہمیں 20 سال کی عمر میں میسر ہوئیں وہ انہیں 2 سال کی عمر میں ملیں۔ خیر یہ زندگی کا چکر ہے، ہمیں اپنے والدین کے بچپن سے بہتر ٹیکنالوجی ملی اور ہمارے بچوں کو ہم سے بہتر اور ان کے بچوں کو ان سے بہتر ملے گی۔

شاید ایسے ہی سماجی، جسمانی اور دماغی ارتقا کا عمل ظہور پذیر ہوتا ہے۔ ہماری جنریشن کے لوگوں کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے۔ جب ہم بچے تھے تو اقدار ایسی تھیں کہ والدین کا احترام کرو، ان کے سامنے اونچی آواز میں مت بولو اور اگر وہ ڈانٹیں تو اف تک نہ کہو وغیرہ وغیرہ۔ جب ہم خود بال بچے دار ہوئے تو “مار نہیں پیار” کا فلسفہ آ چکا تھا۔ ہر سکول کے باہر یہی نعرہ لکھا ہوا ہے۔ اب نہ تو بچوں کو سکول میں کوئی کچھ کہہ سکتا ہے اور نہ ہی گھروں میں۔

گھروں میں اس لئے کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ سائیکولوجسٹ حضرات نے اتنا ڈرا دیا کہ ڈانٹ اور مار سے بچوں کی شخصیت پہ برا اثر پڑتا ہے۔ ہمارے والدین اور اساتذہ کو بھی کاش کوئی یہ بات بتاتا۔ والدین و اساتذہ تعلیم وتربیت کے نام پر جو ہمارے پچھواڑے لاٹھی اور جوتوں سے سینکتے رہے۔ ہم اس آس پہ برداشت کرتے رہے کہ “اپنا ٹائم آئے گا” لیکن ان (Millennial Kids )میلنئل کڈز نے ہماری باری نہیں آنے دی۔ ہم نے بچپن میں فیلڈنگ تو کی لیکن ہمیں بڑے ہو کر بیٹنگ نہیں ملی۔

ہمارے والدین نے جب ہمارا سکول میں داخلہ کروایا تو نہ ہی ان کے انٹرویو ہوئے، نہ ہی ان کی سپوکن انگلش کا امتحان لیا گیا اور نہ ہی ان کے پیشے کے متعلق پوچھا گیا۔ جب ہم اپنے بچوں کو داخل کروانے گئے تو یہ حکم ملا کہ زوجہ کو ساتھ لائیں تاکہ ہمیں اندازہ ہو کہ آپ انگریزی کس قدر روانی سے بولتے ہیں، پھر ہی ہم فیصلہ کریں گے کہ آپ سے بھاری فیسیں بٹورنی ہیں یا نہیں۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ ہم میاں بیوی پہلے انٹرویو میں فیل ہوئے اور میری بیٹی کو پری سکولنگ کیلئے اس برگر سکول میں ایڈمشن نہ مل سکا۔ خیر دوسرے انٹرویو میں کراچی کے اس برگر سکول میں داخلہ مل گیا۔ ہم وہ جنریشن ہیں جس نے اپنے سکول ایڈمشن کے وقت انٹرویو دیا، اپنے بچوں کے سکول میں داخلے کے وقت انٹرویو دیا، اب ڈر ہے کہ اپنے پوتے، پوتیوں کے ایڈمشن کے وقت ہمیں پھر نہ بلایا جائے سکول میں۔

ہمارے بچپن میں یہ مسائل تھے کہ بولنے کو برا سمجھا جاتا تھا۔ میرا بڑا بھائی بچپن میں بہت زیادہ سوال کرتا تھا تو ہماری ٹیوشن والی باجی (عمر میں وہ ہماری والدہ سے بھی 20 سال بڑی تھی مگر انہیں شوق تھا کہ ہم انہیں باجی بلائیں) اسے بولنے نہیں دیتی تھی اور اکثر یہ کہہ کر چپ کروا دیتی تھی “کہ تو چپ کر تیری بات لمبی ہو جاتی ہے” اور ہم سب اس وجہ سے اپنے بڑے بھائی کا مذاق بھی اڑاتے تھے اور کم گو بھی ہوتے گئے تا کہ کوئی اس وجہ سے ہمارا مذاق نہ اڑائے۔

بقول عادل منصوری؛

چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں کچھ بولتے نہیں

بچے بگڑ گئے ہیں بہت دیکھ بھال سے

آٹھ بجے ڈرامہ لگتا تھا PTV پہ اور اللہ بخشے قاری صاحب کو جو پورے آٹھ بجے آ دھمکتے تھے تاکہ امی ابو ہمارے شور و غوغا کے بغیر انہماک سے ڈرامہ دیکھ سکیں اور ہماری شخصیت پہ بھی برا اثر نہ پڑے اور سارا برا اثر خود پہ لے لیتے تھے۔ کیونکہ قاری صاحب کو یہ تاکید کی گئی تھی کہ انہوں نے پورے آٹھ بجے آنا ہے۔ ایسے اقدامات سے آپ بچوں کو مذہب سے باغی تو کرتے ہیں مگر زبردستی راغب نہیں کر سکتے۔ اولاد کو والدین جو وقت دیتے ہیں وہی ان کیلئے بہترین جائیداد ہوتی ہے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ کہ بچے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھیں تو ان کے ساتھ زیادہ وقت بسر کریں۔ سکول کی فیس دینے سے، ٹیوٹر رکھ کر دینے سے، اور زندگی کی ہر آسائش مہیا کرنے سے والدین اپنی ذمہ داریوں عہدہ بر آ نہیں ہو جاتے بلکہ اصل چیز بچوں کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔ اور جب کوئی مہمان آتا تھا تب تو بالکل بولنے اور کھانے کی فرمائش کرنے کی پابندی ہوتی تھی۔ اور پھر مہمان جانے کے بعد بقایا مال پہ سب بہن بھائی حملہ آور ہوتے تھے۔ میں کیونکہ چوتھے نمبر پہ تھا تو بڑے بہن بھائی مال غنیمت کا زیادہ تر حصہ پر غاصب ہوتے تھے بلکہ میرے ہاتھ سے بھی چھین لیتے تھے۔ جو جدوجہد ہم نے گھروں سے سیکھی وہی لے کر سکول پہنچے تو وہاں ڈارون انکل نے بتایا کہ یہ “بقائے بہترین” Survival of the fittest کی جدوجہد تو پوری زندگی کی ہے تو اسی پہ ابھی تک عمل پیرا ہیں۔

سوال کرنے کو تو اتنا معیوب سمجھا جاتا تھا جیسے گالی دیدی ہو۔ اور ہر خاندان میں جو بھی ایسا بچہ ہوتا تھا جو ہر بات پہ سوال کرتا تھا اس کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اسے بد تمیز اور بد لحاظ گردانا جاتا تھا۔ ہر وہ سوال جس کا جواب والدین یا اساتذہ کے پاس نہیں ہوتا تھا، اسے فضول سوال مانا جاتا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ اب یہ بیماری کم ہو گئی ہے۔ ہم جس حد تک اپنے بچوں کو علم دے سکتے ہیں ہمیں دینا چاہیے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ اور ان میں critical thinking کا شعور اجاگر کرنا چاہیے۔ بچوں کو یہ سکھائیں کہ سوچنا کیسے ہے نا کہ یہ کہ کیا سوچنا ہے۔

بچوں کا ذہن اثر پذیر ہوتا ہے تو آپ ان کے اذہان پہ جو نقش چھوڑیں گے وہ وہی اثر لیں گے۔ اگر وہ آپ کو سمارٹ فون استعمال کرتا دیکھیں گے تو ان کی اولین کوشش بھی سمارٹ فون استعمال کرنا ہو گی۔ اگر وہ آپ کو کتاب پڑھتا دیکھیں گے تو ان کا رجحان بھی کتب بینی کی طرف ہو گا۔ تو یہ اب ہم پہ منحصر ہے کہ ہم ان کیلئے کس قسم کا رول ماڈل بنتے ہیں۔ اگر آپ والدین ہیں تو آج کے 24 گھنٹوں کی خود احتسابی کریں کہ آپ نے سمارٹ فون کو کتنا وقت دیا اور بچوں کو کتنا۔ سمارٹ فون تو آپ شاید ہر دو سال بعد بدل لیں لیکن بچے آپ کے ساتھ عمر بھر رہیں گے اور آج کے بچے اتنے سمارٹ ہیں کہ وہ دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے والدین سمارٹ فونز کو زیادہ ٹائم دیتے ہیں یا بچوں کو۔

Tags:

You Might also Like

2 Comments

  1. Nazia Haider جون 17, 2020

    کیا یاد دلا دیا۔

    جواب دیں
  2. Hamza Nawaz جون 17, 2020

    والدین کیلئے بہت مفید تحریر۔

    جواب دیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *