Type to search

انصاف خبریں سیاست

افتخار چودھری کیس کے دو فیز تھے، 20 جولائی سے پہلے، 3 نومبر کے بعد، فیز 2 میں نہیں جانا چاہتا: منیر اے ملک

آج 9 بج کر 25 منٹ پر کورٹ روم نمبر ون جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کی اکتالیسویں سماعت پر پہنچا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے منیر اے ملک ایڈووکیٹ، صلاح الدین، حامد خان، سینیٹر رضا ربانی اور سابق صدر سپریم کورٹ امان اللہ کندرانی کمرہ عدالت میں جب کہ رشید اے رضوی کراچی رجسٹری سے وڈیو لنک پر موجود تھے۔ دوسری طرف حکومتی سائیڈ پر فیصل چوہدری، وفاق کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم، خالد رانجھا، ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ بیرسٹر شہزاد اکبر اور پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون ملیکا بخاری موجود تھیٍں۔ آج کمرہ عدالت میں ہاؤس فل تھا اور سینئیر صحافی و اینکر حامد میر بھی فرنٹ نشستوں پر روسٹرم کے بالکل مقابل بیٹھے تھے۔ 9:35 پر ججز کی آمد کا دروازہ کھلا اور دربان تیزی سے کمرے میں داخل ہو کر ججز کی نشستوں کی طرف بڑھنے لگے اور آواز لگی کورٹ آ گئی۔ دس ججز اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تو سب سے پہلے بیرسٹر فروغ نسیم پیش ہوئے اور انہوں نے دس رکنی فل کورٹ کو ایف بی آر سے منگوایا گیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا سربمہر ٹیکس ریکارڈ خاکی لفافے میں پیش کیا۔

اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک روسٹرم پر آئے اور جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ آپ کچھ نیا کہیں گے یا صرف حکومتی دلائل کا جواب دیں گے؟ منیر اے ملک بولے کہ صرف جواب دوں گا۔ اس دوران عدالتی عملے نے منیر اے ملک کی طرف سے بیگم جسٹس عیسیٰ کی کل وڈیو لنک پر دکھائی جانے والی دستاویزات کی کاپی سربمہر سفید لفافے میں جسٹس عمر عطا بندیال کو پیش کردی۔ منیر اے ملک نے اپنے دلائل کا آغاز ان جملوں سے کیا کہ میں اس کیس میں قانون اور عدلیہ کی عظمت کے تحفظ کے لئے پیش ہوا ہوں۔ منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ میرے کلائنٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صرف اس قانون کی عظمت کی ایک علامت ہیں۔ منیر اے ملک نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کا تصور اداروں سے ہم آہنگی پر ہے۔ منیر اے ملک کا مزید کہنا تھا کہ آج سے کئی سال پہلے میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری تنازع کا حصہ بنا تھا اور انہوں نے وکلا تحریک دنوں کو یاد کرتے ہوئے فل کورٹ کو بتایا کہ اس تحریک کے دو فیز تھے۔


یہ بھی پڑھیے: جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کی اہلیہ نے منی ٹریل دکھا دی، جسٹس عمر عطا بندیال کا جج ارشد ملک کیس کا حوالہ


پہلا جب 20 جولائی 2007 کو جسٹس چوہدری بحال ہوئے اور دوسرا 3 نومبر کے بعد۔ منیر اے ملک کا کہنا تھا ہم نے بہت دلائل دیے اور دوسرے فیز میں بدنیتی پر بھی بات کی۔ دس رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے منیر اے ملک کو ٹوکا اور پوچھا، آپ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کی بات کر رہے ہیں؟ آپ کو معلوم ہونا چاہیے ریڈ لائنز ہیں۔ منیر اے ملک نے جواب دیا کہ سر میں اداروں میں ہم آہنگی بات کر رہا ہوں اور شوکاز نوٹس سے انکار نہیں کیا، میں صرف فیز ٹو میں نہیں جانا چاہتا۔ یعنی منیر اے ملک فل کورٹ کو بتا رہے تھے کہ فیصلہ دیتے وقت کوئی ایسا دروازہ کھلا مت چھوڑیے کہ ایک اور 3 نومبر ہو جائے۔

منیر اے ملک بولے، اب میں وفاق کا جواب دیتا ہوں۔ منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کے جواب سے کنفیوژ ہوگئے ہیں کہ ان کا کیس کیا ہے؟ حکومت نے جج پر عائد قانونی اور خلاقی ذمہ داری کی خلاف ورزی پر انکم ٹیکس ایکٹ کی شق 116 کا ریفرنس دائر کیا۔ منیر اے ملک نے وفاق کے دلائل کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اب بیرسٹر فروغ نسیم کہتے ہیں 116 ہمارے کیس کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے اور اصل کیس جج کا پبلک آفس ہولڈر ہونے کی وجہ سے عوامی اعتماد برقرار رکھنا ہے جس میں اس کے قریبی رشتے دار بھی آئیں گے۔

مںیر اے ملک نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ فروغ نسیم نے کل بھی بتایا کہ ان کی صدر سے بھی ملاقات ہوئی لیکن جج کے عہدے یا دفتر کے مقدس ہونے کا نہیں بتایا۔ منیر اے ملک نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھ نہیں سکا یہ قریبی رشتہ کا ڈاکٹرائن کہاں سے آیا ہے۔ منیر اے ملک نے قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے جواب دیا کہ میں کوئی بہت دیندار انسان نہیں ہوں لیکن اتنا جانتا ہوں کہ میرا مذہب اسلام عورت کو جائیداد سے لے کر دیگر تمام بنیادی حقوق مرد سے برابری کی بنیاد پر دیتا ہے اور کوئی تفریق نہیں کرتا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ کیا ججز کو اپنے اہلخانہ کے اثاثے ظاہر نہیں کرنے چاہئیں؟ منیر اے ملک نے جواب دیا کہ اگر آج ہم نے ججز کے قریبی رشتہ کے اصول کو مان لیا تو عدلیہ کی آذادی کے لئے اس سے تباہ کن کچھ نہیں ہوگا۔ اس موقع پر منیر اے ملک نے بیرسٹر فروغ نسیم پر گہری چوٹ کرتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھی نے کہا کہ ہم نے بس پکڑنے میں دیر کر دی جب کہ میں کہوں گا فروغ نسیم صاحب آپ غلط بس میں بیٹھ گئے۔ منیر اے ملک نے بیرسٹر فروغ نسیم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ آپ کو ایف بی آر کی بس میں سوار ہونا تھا لیکن آپ سپریم جوڈیشل کونسل کی بس میں سوار ہو گئے۔


یہ بھی پڑھیے: قاضی فائز عیسیٰ کی کمرہ عدالت میں دبنگ انٹری، فروغ نسیم پر شدید الزامات کی بوچھاڑ کر دی


منیر اے ملک ایڈووکیٹ کا مزید کہنا تھا کہ جب آپ فل کورٹ میں آئے تو آپ وہ بس بھی چھوڑ کر قریبی رشتہ دار کی بس میں سوار ہو گئے ہیں۔ منیر اے ملک نے سوال اٹھایا کہ کیا کبھی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایف بی آر کو اپنی بیوی سے سوال کرنے سے روکا؟ منیر اے ملک نے مؤقف اپنایا کہ یہ عدالت کیوں معاملہ ایف بی آر کو بھیجے جب کہ ایف بی آر آزاد ادارہ ہے، خود کارروائی کرے۔ منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ میں یہاں ریفرنس کی قسمت کا فیصلہ کروانے آیا ہوں۔ منیر اے ملک کا مزید کہنا تھا کہ شوکاز نوٹس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے حکومت کے جواب الجواب میں لگائے گئے الزامات نہیں بلکہ ریفرنس میں موجود الزامات کا جواب مانگا گیا، اس لئے ہمیں بھی ریفرنس تک ہی رہنا چاہیے کیونکہ سپریم جوڈیشل کمیشن بھی صرف صدارتی ریفرنس دیکھ رہی تھی۔

منیر اے ملک نے اب ایسٹ ریکوری یونٹ پر آتے ہوئے کہا کہ رولز آف بزنس کی شق وزیر اعظم کو دستیاب ایجنسیوں کا کام تفویض کرنے کا اختیار دیتی ہے، نئی ایجنسی یا ادارے کے قیام کا اختیار نہیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں ایسٹ ریکوری یونٹ کے قیام کے لئے رولز آف بزنس میں ترمیم لازمی تھی؟ منیر اے ملک نے جواب دیا جی بالکل، سجاد علی شاہ نے طے کیا تھا کہ کسی بھی ادارے کے قیام کو قانون اور رولز کی سپورٹ ہونی چاہیے۔ جسٹس فیصل عرب نے وضاحت چاہی کہ آپ کہہ رہے ہیں جیسے ایف آئی اے ایک قانون کے تحت بنی ہے، ایسٹ ریکوری یونٹ کو بھی ایسے ہی بننا چاہیے تھا۔

منیر اے ملک نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے نکتہ اٹھایا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ اتنے اختیارات انجوائے کر رہا ہے، بغیر کسی قانون سازی کے۔ منیر اے ملک کا مزید کہنا تھا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مدد لیتا ہے اور مقدمات تک کا اندراج کروا سکتا ہے۔ جاسوسی پر وفاق کی پوزیشن کا جواب دیتے ہوئے منیرا ے ملک کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے 192 میں نام ڈالا اور پتہ ملا جس کی ملکیت ہم نے یوکے لینڈ رجسٹری سے ڈھونڈ لی۔ منیر اے ملک نے فل کورٹ کو سمجھایا کہ ان ویب سائٹس پر آپ اپنا اکاؤنٹ بناتے ہیں اور پھر رقم کی ادائیگی کر کے معلومات لیتے ہیں۔ رقم کی ادائیگی کی رسید اور جائیداد کی تفصیلات آپ کو آپ کے ای میل ایڈریس پر بھیجی جاتی ہیں جہاں سے یہ ڈاؤن لوڈ کر لیتے ہیں۔


یہ بھی پڑھیے: قاضی فائز عیسیٰ کیس: کیس ہارتی حکومت کو عدالت نے مشروط نئی لائف لائن دے دی


منیر اے ملک نے اب سوال اٹھایا کہ حکومت سے کہیں وہ رقم ادائیگی کی رسید پیش کرے اور ای میل ایڈریس دے جس پر یہ معلومات آئیں تاکہ پتہ چلے پہلی دفعہ کب اور کس نے یہ معلومات نکالیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ یہ جو آپ نے فردوس عاشق اعوان اور دیگر کی جائیدادیں نکالیں، کیا یہی ثابت کرنے کے لئے کیا تھا؟ منیر اے ملک نے ہاں میں جواب دیا اور کہا کہ عام کاغذات ضائع ہو سکتے ہیں لیکن الیکٹرانک ریکارڈ نہیں۔ جسٹس فیصل عرب نے سوال کیا کہ وفاق تو کہتا ہے انہیں معلومات ڈوگر نے دیں۔ منیر اے ملک نے جواب دیا کہ ڈوگر ان کے پاس آیا تو جو شکایت اس نے جمع کروائی اس میں لکھا ہے دستاویزات ساتھ لگی ہیں لیکن بعد میں جب ڈاکٹر صاحب نے ایسٹ ریکوری یونٹ کو اس کو انٹرویو کرنے کے لئے کہا تو ایسٹ ریکوری یونٹ کہتا ہم نے اس سے دستاویزی ثبوت لیے۔

جسٹس فیصل عرب نے سوال کیا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ نے تو کوئی کارروائی خود سے نہیں کی بلکہ وزارت قانون کے کہنے پر حرکت میں آیا۔ منیر اے ملک نے جواب دیا کہ ڈوگر کو پراکسی کس نے بنایا اس پر میں جتنا کم بولوں بہتر ہوگا۔ اس کے بعد منیر اے ملک نے وفاق کے فیض آباد دھرنا کیس فیصلہ کو ریفرنس کی وجہ نہ ماننے پر جواب دیا اور کہا کہ یہ کہتے ہیں کہ فیض آباد دھرنا بینچ میں ایک اور جج بھی تھا ہم نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

منیر اے ملک نے حیرت سے کہا کہ یہ کیا بے تکا جواب ہے؟ وفاق نے اپنی نظر ثانی اپیل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بینچ سے ہٹانے کا مطالبہ کر رکھا تھا کیونکہ انہوں نے فیصلہ تحریر کیا تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال پوچھا کہ آپ کی یہ دلیل ہے کہ 2018 میں ترمیم کے تحت بیرون ملک پراپرٹیاں ظاہر کرنے کا قانون آیا؟ منیر اے ملک نے جواب دیا کہ نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ 2018 سے پہلے قانون واضح طور پر بیرون ملک جائیدادیں ظاہر کرنے کا پابند نہیں کرتا تھا بلکہ اس بارے میں کنفیوژن تھی۔


یہ بھی پڑھیے: ’ہم صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ آپ کی بدنیتی تھی یا نہیں؟‘ قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس وینٹی لیٹر پر


اس موقع پر دس رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وفاق کا مؤقف تھا کہ بیگم جسٹس عیسیٰ نے جب یہ جائیدادیں خریدیں تو ان کی اتنی آمدن نہیں تھی لیکن کل جو ڈرامائی واقعات پیش آئے تو کاش وفاق نے پہلے سے بیگم صاحبہ کے ٹیکس ریکارڈ اور اکاؤنٹس کی سٹیٹ بینک سے معلومات لے کر تحقیقات کر لی ہوتیں اور منیر اے ملک صاحب آپ کا بھی یہی مؤقت تھا جس کی کل تائید ہوئی۔

منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ اگر ایک ادارہ دوسرے اداروں کی جاسوسی کرنے لگے اور دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت کرے تو پھر اس سے اداروں میں ہم آہنگی کے تصور کو نقصان پہنچتا ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے سوال پوچھا کہ اگر ایک جج کے بنیادی حقوق اس کے حلف اور کوڈ آف کنڈکٹ پر حاوی ہو رہے ہوں تو پھر کیا کریں گے؟ منیر اے ملک نے انتہائی تحمل سے جواب دیا کہ اگر جج کہے میرا کیس ہے تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے لیکن اگر جج کہے یہ میرا نہیں آپ سب کا کیس ہے اور آج میری گردن ہے تو کل آپ سب کی ہوگی تو معاملہ مختلف ہوگا۔ اس کے بعد منیر اے ملک کا جسٹس عمر عطا بندیال نے خصوصی شکریہ ادا کر کے حامد خان ایڈوکیٹ کو روسٹرم پر دعوت دی۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ میں صرف قریبی رشتہ کے نکتہ پر بات کروں گا۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر فروغ نسیم کا قریبی رشتہ کا ڈاکٹرائن اسلام سے متصادم ہے۔ انہوں نے سورۃ النسا سے بتایا کہ اسلام میں جائیداد کی وراثت میں مرد اور عورت کو کیا حقوق حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے قرآنی آیات سے بتایا کہ اسلام پوری طرح اجازت دیتا ہے کہ عورت کی اپنی آمدن رکھ سکتی ہے اور اپنی آمدن سے اپنے لئے جائیدادیں بھی لے سکتی ہیں جس سے اس کے شوہر کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

حامد خان کے سابق چیئرمین سینیٹ سینٹر رضا ربانی روسٹرم پر آئے اور ان کا کہنا تھا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ کو قانون اور رولز آف بزنس کے تحت کوئی تحفظ حاصل نہیں کہ وہ یہ اختیارات انجوائے کرے۔ سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا رولز آف بزنس کہتے ہیں کہ حکومت فیڈرل سیکریٹریٹ اور اس کے ماتحت اداروں کے ذریعے چلے گی۔ سینٹر رضا ربانی کا مزید کہنا تھا کہ رولز آف بزنس کہتے ہیں کہ حکومت ان ایجنسیوں کے ذریعے چلائی جائے گی جن کا قیام قانون کے تحت عمل میں آیا ہو نہ کہ وزیراعظم ایک نیا ادارہ بنائیں اور اس سے کام لینے لگ جائیں۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ کا کہنا ہے کہ رولز آف بزنس میں ترمیم کے بغیر ایسٹ ریکوری یونٹ نہیں بن سکتا تھا اور نہ ہی صرف کابینہ کی منظوری سے ایسٹ ریکوری یونٹ بن سکتا ہے۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا جی بالکل ایسا ہی ہے۔

اس کے بعد مختلف بارز کی نمائندگی کرنے کے لئے افتخار گیلانی ایڈقوکیٹ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خیبر پختونخوا کے 20 ہزار وکلا کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس کیس کو 29 بارز نے چیلنج کیا اور وہ منتخب بارز ہیں اور تمام قانونی عمل کا حصہ ہیں، کوئی جسٹس عیسیٰ کے رشتہ دار نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عدالت اور ہماری تاریخ پر حملہ ہے۔ ’’حکومتی ریفرنس کی کوئی بنیاد نہیں اور یہ ججز کی آزادی کے خلاف ہے‘‘۔

اس کے بعد ججز کی جانب سے ریمارکس دیے گئے کہ عدالت کے سامنے سب سے اہم فیصلہ یہ ہے کہ کیا کیا ریفرنس کو مکمل طور پر کالعدم کر دیا جائے۔ اس کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ مقدمے کی کارروائی اپنے اختتام تک پہنچ چکی ہے اور وہ چار بجے مختصر آرڈر سنا دیں گے۔

چار بجے کورٹ واپس آئی تو دس رکنی پنچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ پڑھنا شروع کیا۔ فیصلے میں ریفرنس کو دس کے دس جج صاحبان نے کالعدم قرار دے دیا۔ سات ججوں نے معاملہ ایف بی آر میں بھیجنے کے حق میں جب کی تین نے مخالفت میں فیصلہ دیا۔ یہ تین جج جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس یحییٰ آفریدی تھے۔ صرف دو ججز، منصور علی شاہ اور مقبول باقر، نے ریفرنس میں بدنیتی کی پڑتال کرنے کے حوالے سے فیصلہ دیا لیکن باقی جج صاحبان نے ان سے اتفاق نہ کیا۔

قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے صدارتی ریفرنس کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ سات دن کے اندر اندر ان لینڈ ریونیو کا متعلقہ کمشنر (جو کہ اپنی پاورز کسی اور نہیں دے سکتا) خود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بیگم اور بچوں کو نوٹسز جاری کرے گا۔

انکم ٹیکس کمشنر کے نوٹسز کے بعد قاضی فائز عیسیٰ کی بیگم اور بچوں کو ایف بی آر کو لندن جائیدادوں کے حوالے سے جوابات دینا ہوں گے۔

جوابات کی موصولی کے بعد ایف بی آر کا متعلقہ افسر ان لوگوں کو ایک ہیئرنگ کا موقع دے گا۔ یہ کارروائی 60 دن کے اندر مکمل کرنا ہو گی اور 75 دن کے اندر اس پر حکم جاری کرنا ہوگا اور اس مدت میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

کمشنر کے آردڑ کے بعد سات دن کے اندر اندر ایف بی آر چیئرمین رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کروانے کا پابند ہوگا۔

جسٹس منصور علی شاہ، مقبول باقر اور یحییٰ آفریدی نے اپنے فیصلوں میں لکھا کہ ریاست کا ہر شہری بشمول ججز کے قانون کے آگے اپنا سر خم کرتے ہیں لیکن انہیں قانون مین جو تحفظ حاصل ہیں یہ بھی تمام ججز کو حاصل ہیں۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *