Type to search

انصاف خبریں سیاست میڈیا

جان سے مارنے کی دھمکی: جاوید چودھری کے خلاف دو صحافیوں نے درخواست جمع کرا دی

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں دو صحافیوں نے ایکسپریس نیوز سے وابستہ معروف صحافی اور اینکر پرسن جاوید چودھری کے خلاف درخواست جمع کروائی جس میں انھوں نے مؤقف اپنایا کہ جاوید چودھری ان کو جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے ہیں اور ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے جب کہ آج معروف اینکر پرسن جاوید چودھری نے ان پر تھانہ رمنا میں حملہ کیا۔

اسلام آباد میں 92  نیوز کے سینیئر رپورٹر راجہ کاشف اشفاق نے تھانہ رمنا میں جمع کرائی گئی درخواست جس کی کاپی نیا دور میڈیا کے پاس موجود ہے میں مؤقف اپنایا کہ میرے دوست عمر سجاد منہاس نے 15 جون کو دفعہ 236/20 کے تحت ایف آئی آر ملزم سردار زریاب کے خلاف درج کرائی تھی جس کو پولیس نے جمہ کے روز گرفتار کیا تو ایکسپریس نیوز کے اینکر جاوید چودھری پولیس پر ملزمان کو چھڑوانے کے لئے دباؤ ڈال رہا تھا اور اس کے بعد جاوید چودھری نے پولیس کے سامنے مجھے دھمکیاں دینی شروع کیں اور موقع پر موجود جاوید چودھری کے بیٹے نے بھی حملہ کرنے کی کوشش کی اور سنگین نتائج کی دھکمیاں دیں جس کے بعد اس کے والد جاوید چودھری نے مجھے سنگین نتائج بگھتنے کی دھمکیاں دیں۔ ہم نے تھانے میں درخواست دی کہ جاوید چودھری سے ہمارے جان کو خطرہ ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

ایک اور صحافی اعزاز چیمہ نے جاوید چودھری کے خلاف جمع کروائی گئی درخواست میں کہا کہ جب ہم تھانے پہنچے تو جاوید چودھری، ان کا بیٹا اور وفاقی وزیر غلام سرور خان کا بیٹا منصور خان وہاں پر موجود تھے اور ہم نے جاوید چودھری اور غلام سرور خان کے بیٹے منصور خان کو دیکھتے ہوئے انکوائری افسر عبدالوہاب پر عدم اطمینان کیا جس کے بعد ہم باہر آ گئے اور جاوید چودھری نے اپنے ساتھیوں اور ملزمان کے رشتہ داروں کو آواز دی کہ ان کو جانے مت دینا اور ان کو پکڑ لو، جس کے بعد ملزمان کے رشتہ دار نے ہم پر جاوید چودھری کے کہنے پر حملہ کیا اور ہمیں دھمکیاں بھی دیں۔
واضح رہے کہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جاوید چودھری تھانے کے اندر غلام سرور خان کے فرزند منصور خان کے ساتھ مصروف ہے۔

نیا دور میڈیا مسلسل ایکسپریس نیوز کے اینکر جاوید چودھری کے ساتھ رابطے میں ہے مگر تاحال ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

Tags:

You Might also Like

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *