Type to search

دہشتگردی سیاست فیچر

اسامہ بن لادن: دہشتگرد یا ’شہید‘؟ عمران خان کو جواب

اسامہ بن لادن 1957 میں سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں پیدا ہوا۔ یہ یمنی بزنس مین محمد بن لادن کے 52 بچوں میں 17ویں نمبر پر تھا۔ محمد بن لادن نے بن لادن کنسٹرکشن کی بنیاد رکھی اور یہ شخص اپنی محنت اور بہترین کاروباری حکمتِ عملی کے باعث چند ہی سالوں میں سعودی عرب کا سب سے بڑا کنسٹرکشن ٹائیکون بن گیا۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب 1950 کی دہائی کے اوائل میں سعودی ریاست بھی اس کی مقروض تھی۔ بعد ازاں اس کا کاروبار اس کے بیٹوں نے سنبھال لیا اور اس کا سب سے بڑا بیٹا جو بن لادن کنسٹرکشن کو چلا رہا تھا، سعودی شاہی خاندان کے اتنا قریب تھا کہ بادشاہ کے ساتھ بھی pranks یعنی عملی مذاق کر لیا کرتا تھا۔

اسامہ بن لادن کو پڑھنے کے لئے امریکہ بھیجا گیا لیکن موصوف کا وہاں تعلیم میں دل نہ لگا۔ 1970 کی دہائی میں فلسطینی عالمِ دین عبداللہ عظام کا مرید ہو گیا اور جب افغانستان میں سؤویت روس کے خلاف جہاد شروع ہوا تو یہ بھی پاکستان پہنچ گیا اور عبداللہ عظام ہی کی مدد سے اس نے القاعدہ بھی کھڑی کرنا شروع کر دی۔ اسامہ بن لادن بڑی تعداد میں عرب مجاہدین کو پاکستان لایا، اور ان میں سے بیشتر پشاور میں قیام پذیر تھے۔ اسی دوران مصر کے حکمران حسنی مبارک نے اپنے ملک میں مذہبی انتہا پسند تنظیم الجہاد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تو وہاں سے بہت سے جہادی بھاگ کر پاکستان اور افغانستان میں جہاد کی غرض سے آ بسے اور ان میں سے ایمن الظواہری جو کہ الجہاد کا ایک سرکردہ رہنما تھا اسامہ بن لادن کے ساتھ آ ملا۔

ابتدا میں القاعدہ عرب مجاہدین کے ذریعے افغانستان میں جہاد کے لئے موجود رہی لیکن افغان مجاہدین ان کو ڈرپوک اور ناکارہ خیال کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ان عرب مجاہدین کو بچانے کے چکر میں افغان مجاہدین کو اپنی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالنا پڑتا ہے۔ یوں کہا جائے کہ افغان جہاد کے دوران یہ ایک غیر اہم سی تنظیم تھی جو مجاہدین کے لئے ایک مذاق سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی تھی تو بے جا نہ ہوگا۔

افغان جہاد ختم ہونے کے بعد ابتدا میں القاعدہ بڑی حد تک غیر متشدد تھی لیکن اس میں مصریوں کے شامل ہونے کے بعد آہستہ آہستہ اسامہ بن لادن عبداللہ عظام کے ہاتھوں سے نکل کر ایمن الظواہری کے ہاتھوں میں ایک کھلونا بنتا چلا گیا۔ ان مصریوں نے ایک سازش کے ذریعے عبداللہ عظام کو بھی قتل کر دیا جس کے بعد ایمن الظواہری اور اس کی تنظیم الجہاد نے اسامہ بن لادن اور اس کی القاعدہ کو مکمل طور پر اپنے قابو میں کر لیا۔ تاہم، اس میں تمام تر پیسہ اسامہ بن لادن کا لگ رہا تھا اور اسامہ ہی وہ واحد شخص تھا جو مزید رقوم اس تنظیم کے لئے جمع کر سکتا تھا۔ لہٰذا ایمن الظواہری کے لئے اسامہ کی موجودگی لازم تھی۔

رفتہ رفتہ الجہاد نے القاعدہ کو بھی اپنے ایجنڈے کے تابع بنا لیا اور یہ تنظیم ایک دہشتگرد گروہ میں ڈھلنے لگی۔ 1990 میں عراق نے کویت پر قبضہ کیا تو سعودی عرب نے اپنا دفاع امریکہ کے حوالے کر دیا۔ دیگر انتہا پسند مولویوں کی طرح اسامہ کے لئے بھی یہ ناقابلِ قبول تھا۔ 1991 میں اسامہ سوڈان چلا گیا جہاں ایک so-called مذہبی انقلاب کے بعد ایک اسلامی ریاست قائم کرنے کا سلسلہ جاری تھا۔ اس نئی حکومت پر بے شمار اقتصادی پابندیاں تھیں لہٰذا انہوں نے اسامہ بن لادن کے پیسے کو خوب استعمال کیا۔ اس کے پیسے کو ملک کی معیشت کی بہتری کرنے کے لئے استعمال کیا اور بدلے میں اسامہ کو زرعی زمین لیز پر دی جاتی رہی۔

1992 میں القاعدہ نے مسلمان ممالک میں اپنے حملوں کی ابتدا کی جب یمن کے شہر عدن کے ایک ہوٹل میں ایک دھماکہ ہوا اور القاعدہ نے اس کی ذمہ داری قبول کی۔ اس ہوٹل میں کچھ امریکی فوجی ٹھہرے ہوئے تھے جو آگے صومالیہ میں امن مشن کے لئے جانے والے تھے۔ اس حملے میں کوئی امریکی فوجی نہیں مرا، البتہ دو آسٹریائی سیاح لقمہ اجل بن گئے۔

اس دھماکے کے بعد القاعدہ ایک متشدد تنظیم بن گئی۔ مثال کے طور پر 1993 میں موگادیشو میں 18 امریکی فوجیوں کو قتل کرنے والے صومالی باغیوں کو ٹریننگ القاعدہ نے ہی فراہم کی تھی۔ 1993 میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہونے والے حملے اور 1995 میں حسنی مبارک پر ہونے والے قاتلانہ حملوں میں بھی القاعدہ کے ملوث ہونے کے شواہد ملے تھے۔ 1995 ہی میں ریاض میں امریکی نیشنل گارڈ کے ٹریننگ سنٹر پر بم دھماکہ کیا گیا اور پھر 1996 میں ظہران میں واقع خوبار ٹاورز جہاں امریکی فوجی رہ رہے تھے کو تباہ کر دیا گیا۔

1996 میں سعودی اور امریکی دباؤ پر اسامہ بن لادن کو سوڈان سے نکال دیا گیا اور یہ افغانستان چلا گیا۔ لیکن القاعدہ کے حملوں میں شدت آتی گئی۔ 7 اگست 1998 کو بیک وقت القاعدہ نے دو ممالک میں امریکی ایمبیسیز پر حملے کیے۔ کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ہونے والے حملے میں 213 افراد ہلاک جب کہ 4500 سے زائد زخمی ہوئے۔ دوسری جانب تنزانیہ کے شہر دارالسلام میں ہونے والے حملے میں 11 ہلاک اور 85 زخمی ہوئے۔

القاعدہ نے ان دونوں حملوں کی ذمہ داری لی۔ اس کے بعد 12 اکتوبر 2000 کو یمن میں ایک امریکی جنگی جہاز سے ایک بارود سے لدی کشتی آ کر ٹکرائی جس سے 17 ہلاک اور 38 زخمی ہو گئے۔ اسامہ نے اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔

11 ستمبر 2001 کو اسامہ بن لادن نے افغانستان میں اپنے ساتھیوں کو کہا کہ ٹی وی چلا کر دیکھیں۔ کچھ ہی دیر میں حملوں کی اطلاعات آنے لگیں۔ جس دوران حملے کیے جا رہے تھے، اسامہ اپنی مٹھی سے ایک ایک کر کے انگلیاں کھولتا جا رہا تھا۔ پہلے جہاز کے ٹکرانے پر پہلی انگلی، دوسرے کے ٹکرانے پر دوسری انگلی، پھر پینٹا گون پر حملے کی خبر پر اس نے تیسری انگلی کھولی۔ وہ چوتھی انگلی کھولنے کے لئے بہت دیر تیار بیٹھا رہا لیکن اس کی یہ حسرت ناتمام ہی رہ گئی۔ چوتھا جہاز جو واشنگٹن ڈی سی کی طرف جا رہا تھا، اس میں موجود ہائی جیکرز پر مسافر غالب آ گئے اور یہ جہاز پنسلوینیا کے ایک کھیت میں جا گرا۔

ان حملوں میں 2977 افراد ہلاک اور 25000 سے زائد زخمی ہوئے۔ امریکہ نے افغانستان سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کیا لیکن ملا عمر نے اسامہ کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر کے اس کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ اسامہ بن لادن کئی سال غائب رہا، پھر 2005 یا 2006 کے قریب کسی موقع پر ایبٹ آباد آ کر بیٹھ گیا جہاں سے یہ اگلے کئی سال تک دنیا کے مختلف ممالک میں دہشتگردی کی کارروائیوں اور تنظیموں کی روحانی رہنمائی اور مالی امداد بھی کرتا رہا۔ 2 مئی 2011 کو یہ عالمی دہشتگرد بالآخر امریکہ کے ایک کمانڈو آپریشن میں ایبٹ آباد میں مارا گیا۔

ہمارے موجودہ وزیر اعظم نے اس وقت تو محض اس قتل کو ماورائے عدالت قتل قرار دیا تھا لیکن 25 جون 2020 کو انہوں نے اس عالمی دہشتگرد کی ہلاکت کو شہادت اور ہزاروں انسانوں کے اس قاتل کو شہید قرار دے دیا، اور یہ فریضہ انہوں نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر ادا کیا۔ اگلے چند روز میں پاکستان سے متعلق یہ خبر پوری دنیا کے اخباروں میں ہیڈ لائن بنے گی، اور ہماری خوب جگ ہنسائی ہوگی۔ پاکستان میں ایک عالمی دہشتگرد کے کئی سال رہنے سے ہونے والی سبکی میں اب مزید اضافہ یوں ہوگا کہ دنیا کہے گی کہ اس ملک کا وزیر اعظم اس شخص کو حق پر بھی سمجھتا ہے۔ کاش کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب بولنے سے پہلے کبھی سوچ لیا کرتے یا کم از کم پرچی سے دیکھ کر ہی تقریر کر لیا کرتے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *